صحافت اور سیاست پر مزید حملے
حامد میر نے لکھا یا بولا سب ثبوت کے ساتھ موجود ہے اور یہ سب کسی فرشتے کی کارروائی نہیں ہماری اپنی ذمے داری ہے
محترم قاضی حسین احمد صاحب پر قاتلانہ حملہ ہوا ناکام سہی مگر اس کا ہول ابھی باقی تھا کہ عزیز حامد میر ایک خوفناک حملے سے بال بال بچ گئے یعنی ایک پر حملہ ہوا ساتھی زخمی بھی ہوئے دوسرے پر حملہ ہونے سے پہلے ہی خدا نے بچا لیا۔ قدرت کو ابھی ان کی سلامتی منظور تھی کہ آلہ قتل بروقت دیکھ لیا گیا اور پھٹنے سے پہلے اسے ختم کر دیا گیا۔ دہشت گرد اب کسی شکار کو گولی سے کم اور بم سے زیادہ نشانہ بناتے ہیں جس کی دھمک سے ایک قیامت برپا ہو جاتی ہے۔ ہم اخبار نویسوں کی بدقسمتی ہے کہ اپنا اعمال نامہ اپنے ہاتھ سے لکھ دیتے ہیں جس سے مکرنا ممکن نہیں ہوتا یا اب نئے میڈیا میں بول دیتے ہیں مگر وہ بھی تحریر کی طرح ریکارڈ ہو جاتا ہے یعنی ہم ہر جگہ اپنے گواہ خود ہی ہوتے ہیں اور مکر نہیں پاتے۔ غالب کا زمانہ خوش نصیبوں کا زمانہ تھا جس میں لوگ دوسروں کے لکھنے پر پکڑے جاتے تھے مگر خود بری ہو جاتے تھے،
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا
حامد میر نے لکھا یا بولا سب ثبوت کے ساتھ موجود ہے اور یہ سب کسی فرشتے کی کارروائی نہیں ہماری اپنی ذمے داری ہے، کسی سے گلہ بھی نہیں کر سکتے اور نہ سیاستدانوں کی طرح کسی سیاق و سباق کا بہانہ بنا سکتے ہیں۔ ہاتھ کاٹ دینے والی بات ہے۔ قاضی صاحب بھی بخیر و عافیت ہیں اور حامد میر بھی بچ گیا ہے۔ اللہ انھیں سلامت رکھے۔ یہ بزرگ اور جوان دونوں ہمیں عزیز ہیں۔
ہم ایک انتہائی بدامن زمانے سے گزر رہے ہیں اور پاکستان دنیا میں بدامنی کے اونچے درجے پر فائز ہے۔ یہ بدامنی مقامی نہیں درآمدی ہے اور ہم پر باہر سے ٹھونسی گئی ہے یا پھر ہم نے اسے دعوت دی ہے۔ ہمارے کچھ لیڈر اپنی ناکامی یہ کہہ کر چھپاتے ہیں کہ چونکہ مذہب پاکستان کی تشکیل میں شامل ہے اس لیے جب تک مذہب کو اس ملک میں سے نہیں نکالیں گے یہاں امن نہیں ہو گا۔ یہ پیپلز پارٹی کے صوبے کے گورنر ہیں اور پاکستان میں اسلام انھیں ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ان گورنر صاحب کی خبر تو ابھی بعد میں لیں گے کہ وہ بھی نئے نئے اعلان کے ساتھ اس نظریاتی میدان میں داخل ہوئے ہیں ویسے ان دنوں ہمارے سیکولر اور بھارت پسند پاکستانی اپنے ملک سے بہت ناراض ہیں۔ میری مانیں تو انھیں کسی گمنام حالت میں یعنی بھارت کو ان کے بارے میں معلوم نہ ہو بھارت بھجوا دیں اور یہ بھارت میں موجود مسلمانوں کی حالت دیکھ لیں بلکہ ان کو سزا کے طور پر کسی طرح بھارتی بنا دینا چاہیے تا کہ یہ پاکستان کو برداشت کرنے پر مجبور ہو جائیں اور 'لکیر' کی ادھر کی جنت کا نظارہ بھی کر لیں۔
پاکستان ہمارے غلط اور خود غرض حکمرانوں کی وجہ سے اس وقت بہت برے حالات سے گزر رہا ہے اور اس وقت یہ ملک اپنے غیر مشروط محب وطن شہریوں کے سہارے زندہ ہے، ان حالات کو ہمارے کمزور ذہن کے پاکستانی برداشت نہیں کر پا رہے اس لیے ہمارے پاکستانی صحافی مجبور ہیں کہ جہاں پاکستان میں برے حالات کے ذمے دار حکمرانوں کی خبر لیں وہاں اپنے ان بھائیوں کو بھی یاد رکھیں جو پاکستانی ہونے کا حق ادا نہیں کر رہے یا ایک مسلمان ملک سے دشمنی کرتے ہیں اس لیے جب کوئی حامد میر حالات سے بغاوت کرتا ہے اور پاکستان دشمنوں کی خبر لیتا ہے تو پھر وہ اتفاق سے ہی بال بال بچ جاتا ہے۔ اخبار نویس اس صورت حال سے بچ نہیں سکتے سوائے ان صحافیوں کے جنھیں پرچہ نویس قسم کا صحافی کہا جائے یا پھر صحافت کے تاجر۔ میں ایک کمزور سا صحافی ہوں۔ نہ بڑبولا ہوں اور نہ کوئی مجاہدانہ دعویٰ رکھتا ہوں، اس لیے کان لپیٹ کر قلم چلاتا رہتا ہوں، صرف اتنی ہمت کرتا ہوں کہ غیر جانبداری اختیار کر لیتا ہوں کہ جب کسی سے کچھ لینا دینا نہیں تو غیر جانبدار رہ کر قوم کو ممکن حد تک صحیح حالات سے باخبر کیوں نہ رکھا جائے، اسے گمراہ اور بے خبر تو نہ کیا جائے۔ یہ کوئی جہاد نہیں ہر صحافی کا ایک قدرتی معمول ہے اگر کوئی صحافی اپنے اس معمول کو اختیار نہیں کرتا تو پھر روٹی کمانے کا کوئی اور ذریعہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
اگر آپ مسلمان ہیں تو پھر خدا کی یہ بات ماننی پڑے گی کہ رزق اس کے ہاتھ میں ہے ،کوئی مسلمان جس لمحے یہ بات نہیں مانتا اور کسی انسان کو اپنا رازق سمجھ لیتا ہے تو وہ اس لمحے مسلمان بہر حال نہیں ہوتا۔ میں جانتا ہوں کہ میرا کون ساتھی کسی لیڈر یا جماعت کا ترجمان یا غیر مشروط حامی بننے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی وجہ محض مالی منفعت ہوتی ہے، ایسے میں وہ اپنے پیشے اور اپنے قارئین کے ساتھ زیادتی کرتا ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں اور ہر صحافی کو معلوم ہے کہ قارئین اب کس قدر سمجھدار اور ہوشیار ہو گئے ہیں، ان کو دھوکا ہرگز نہیں دیا جا سکتا۔ انھیں سب معلوم ہے کہ قادر حسن کس لیڈر اور جماعت کی کاسہ لیسی کر رہا ہے کیونکہ جیسا کہ عرض کیا ہے ہم تو اپنا اعمال نامہ خود لکھ کر پیش کر دیتے ہیں جب کہ ہمیں اندر سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم کیا ہیں اور ہمارا قلم کیا ہے تو ہمارے قارئین ہمارے ظاہر سے کیسے بے خبر ہو سکتے ہیں۔
قارئین کو یہ شعور ہم نے دیا ہے اور اپنے پائوں پر یہ کلہاڑی ہم نے خود چلائی ہے خصوصاً الیکٹرانک میڈیا نے تو اس ان پڑھ قوم کو شعور اور سمجھ کی دولت دے دی ہے۔ اب کوئی کسی سرٹیفکیٹ اور ڈگری سے محروم تو ہو سکتا ہے لیکن اس شعور سے نہیں جو اس دور کے انسانوں کو میڈیا سے ملا ہے اور اس میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، یہ دور حامد میروں کے لیے بہت ہی مشکل دور ہے۔ ایسے ماحول اور فضا میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہے اور باریک رسی پر چلنا ہے، اس لیے یہ حملے بھی ہوں گے کیونکہ اب اس دور میں یہ ایک آسان طریقہ بن گیا ہے، خدا ہم سب کو محفوظ رکھے، ہمارے جسم و جان کو بھی اور ہمارے دین و ایمان کو بھی۔ ایک صحافی کسی بھی دین و ایمان کے بغیر صحافی نہیں کہلا سکتا۔ کوئی بھی نظریہ صحافت کی شرط اول ہے۔