غریبوں کی امید

بھٹو کے ناقدین تک کہتے ہیں کہ بھٹو صاحب اس ملک کے سب سے ذہین رہنما تھے۔


Dr Tauseef Ahmed Khan November 30, 2012
[email protected]

پیپلز پارٹی نے اپنا 45 واں یومِ تاسیس 30 نومبر کو منایا۔ 1967 میں ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے پر پیپلز پارٹی قائم کی مگر پیپلز پارٹی ایک اکائی ہونے کے باوجود اپنی بنیادی پالیسیوں کے اعتبار سے تبدیل ہوچکی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے طاقت کا سرچشمہ عوام، سوشلسٹ معیشت اور کشمیر کی آزادی کے نعروں کے تحت پارٹی کو منظم کیا تھا۔ اس پارٹی کی بنیادی اساسی دستاویز وزارت خارجہ کے ریٹائرڈ افسر جے اے رحیم نے تیار کی۔ پیپلز پارٹی کے اولین رہنماؤں میں معراج محمد خان، شیخ رشید، غلام مصطفی کھر، ڈاکٹر مبشر حسن، رسول بخش تالپور،مختار رانا، حیات محمد خان، شیرپاؤ، ممتاز بھٹو وغیرہ شامل تھے، معراج محمد اور غلام مصطفی کھر کو بھٹو صاحب نے اپنا جانشین قرار دیا تھا مگر شیخ رشید واحد رہنما تھے جو مرتے دم تک پیپلز پارٹی کے ساتھ رہے، باقی رہنما بھٹوحکومت کی پالیسیوں کی بنا پرآہستہ آہستہ علیحدہ ہوگئے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے سابق بیوروکریٹ صدر اسکندر مرزا کی وزارت سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا تھا، پھر وہ پہلے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کی حکومت کے وزیر صنعت اور وزیر خارجہ رہے اور ایوب خان کی مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے پر بھی کام کرتے رہے مگر جب معاہدہ تاشقند کے بعد ایوب حکومت سے علیحدہ ہوئے تو سندھ اور پنجاب کے سب سے مقبول رہنما بن گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کی آمریت کو چیلنج کیا۔ وہ بائیں بازو کی مزدور اور کسان تنظیموں اور طالب علموں کی تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (NSF) کے ہیرو تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست کو غریب عوام کے گھروں تک پہنچانے میں بنیادی کردار اداکیا ۔

وہ ملک کے ایک بڑے جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود اس سیاسی کلچر کے سب سے بڑے ناقد بن گئے۔ اقتدار میں آنے کے بعد بائیں بازو کی تنظیمیں اور بہت سے لوگ ان کے مخالف ہوئے مگر جب جنرل ضیاء الحق کے دور میں انھیں سزائے موت دینے کا فیصلہ ہوا تو یہ ساری قوتیں جنرل ضیاء الحق کے خلاف سینہ سپر ہوگئیں۔ بھٹو صاحب نے بھارت دشمنی، کشمیر کی آزادی کو اپنی بنیادی پالیسی میں اہم حیثیت دی۔ وہ بہت دنوں تک معاہدہ تاشقند کے راز افشا کرنے کے اعلانات کرتے رہے۔ بھٹو کے ناقدین تک کہتے ہیں کہ بھٹو صاحب اس ملک کے سب سے ذہین رہنما تھے۔ انھوں نے ایوب خان کے خلاف کشمیر کی آزادی کے نعرے کو پنجاب میں مقبولیت کے لیے استعمال کیا اور عوامی راج کا نعرہ لگا کر غریبوں کے دل جیت لیے۔ یوں اسٹیبلشمنٹ کا مخاصمانہ رویہ ان کے بارے میں تبدیل ہوا اور جب مشرقی پاکستان کی نمایندہ جماعت عوامی لیگ نے 1970 کے انتخابات میں قطعی اکثریت حاصل کرلی تو ذوالفقار علی بھٹومغربی پاکستان کی پالیسی کے امین بن گئے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار میں آنے کے بعد حزب اختلاف کی مدد سے 1973 کا جمہوری آئین تیار کیا، تعلیم اور صحت کو ریاست کی ذمے داری قرار دیا، ایفرو ایشیائی ممالک کو متحد کرنے کی کوشش کی، اپنی ماضی کی پالیسی کو نظرانداز کرتے ہوئے بھارت سے دوستی کے لیے رشتے ہموار کیے، فوج کو ایٹم بم کا ہتھیار دیا تو امریکا ان کا مخالف ہوا۔

بھٹو نے بڑی صنعتوں اور بینکوں کو قومیا لیا۔ زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیرداروں سے زمین لینے کی کوشش کی، اس ملک کے سرمایہ داروں نے بھٹو صاحب کے اس جرم پر کبھی انھیں معاف نہیں کیا۔ بعض ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ بینکوں اور صنعتوں کو قومی تحویل میں لینے کی پالیسی پر بھارت، مصر، الجزائر اور مشرقی یورپی ممالک میں بھی عمل ہوا تھا مگر بھٹو صاحب ان نیشنلائزڈ صنعتوں اور بینکوں کو چلانے کے لیے تربیت یافتہ اور ایماندار کیڈر تیار نہیں کرسکے، اسی طرح بھٹو حکومت نے تعلیمی ادارے بھی قومیا لیے مگر تعلیم کے بجٹ میں عالمی معیار کے مطابق اضافہ نہیں کرسکے۔ پھر تعلیمی اداروں کو ایمپلائیمنٹ ایکسچینج میں تبدیل کردیا گیا۔ تعلیمی شعبے میں شفافیت نہ ہونے، بڑے پیمانے پر تعلیمی ادارے قائم نہ ہونے اور سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار گرنے کی بنا پر ان کی تعلیمی پالیسی پر تنقید کی جاتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ پیپلز پارٹی کے بعض رہنما بھی اس تعلیمی پالیسی پر تنقید کرتے ہیں مگر بھٹو کی تعلیمی پالیسی کے ذریعے اساتذہ کی تنخواہوں کو نیشنل پے اسکیل سے منسلک کرنے، نیشنل بک فائونڈیشن قائم کرنے، ملک کے مختلف علاقوں میں انجنیئرنگ اور میڈیکل کالجز اور نئی یونیورسٹیوں کے قیام اور نئے تعلیمی بورڈ کے کارناموں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پیپلز پارٹی میں اقتدار میں آنے سے پہلے کارکنوں کو ہر سطح پر عہدے دیے جاتے تھے، پیپلز پارٹی نے 1970 کے انتخابات میں کارکنوں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹ دے کر ایک نئے جمہوری کلچر کی بنیاد رکھی تھی مگر اقتدار میں آنے کے بعد پیپلز پارٹی میں جاگیرداروں، نوابوں اور سرمایہ داروں کو ہر سطح پر نوازنے کی پالیسی اختیار کی گئی۔

یوں رسول بخش تالپور، معراج محمد خان، مختار رانا، جے اے رحیم جیسے بائیں بازو کے کارکن جیلوں میں چلے گئے، قریشی، گیلانی، مخدوم، وٹو اہم رہنما بن گئے جس کی بنا پر پاکستان قومی اتحاد کی 1977 کی تحریک نے سیاسی اور معاشی بحران پیدا کیا، مگر ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی پا کر پیپلز پارٹی کو ایک نئی زندگی دے دی۔ بیگم نصرت بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف تاریخ ساز جدوجہد کی۔ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے طویل جیل کاٹی، پولیس کا تشدد برداشت کیا، کئی کارکن جل کر مرگئے، ہزاروں لوگوں کو مہینوں جیلوں میں نظر بند رکھا گیا۔

پیپلز پارٹی 1988 میں ایک بار پھر برسر اقتدار آئی۔ اب پیپلز پارٹی کا نعرہ امریکا سے دوستی، جمہوری نظام کی بالادستی اور ملی جلی معیشت تھا۔ بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ نصرت بھٹو نے پارٹی کا عوامی رنگ برقرار رکھنے کی کوشش کی مگر اب اقربا پروری اور کرپشن کے الزامات پیپلز پارٹی کے ساتھ منسوب ہوگئے۔ بے نظیر بھٹو کی اپنے والد سے مختلف پالیسی کے باوجود اسٹیبلشمنٹ انھیں بھی برداشت کرنے پر تیار نہیں تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام شروع کیا تھا، مگر بے نظیر بھٹو کو اس پروگرام کا مخالف قرار دیا گیا۔ اس وقت کے صدر غلام اسحاق فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ نے بے نظیر بھٹو حکومت ختم کرنے کی پالیسی بنائی۔

بے نظیر بھٹو کو کبھی آئین میں دی گئی اقتدار کی قانونی عمر پوری کرنے کا موقع نہیں ملا۔ بے نظیر بھٹو حکومت نے اپنے حلقوں کے لوگوں کو ملازمتیں دینے، قریبی لوگوں کو نوازنے، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرنے کی کوشش کی۔ اسٹیبلشمنٹ کی ریشہ روانی کی بنا پر بہت زیادہ مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے۔

بے نظیر بھٹو ایک جمہوری ترقی پسند پاکستان کی علم بردار تھیں۔ وہ اپنے باپ کی طرح بہادر تھیں۔ رجعت پسند قوتوں کو بے نظیر بھٹو کی موجودگی برداشت نہیں تھی۔ 27 دسمبر 2007 کو انھیں راولپنڈی میں قتل کردیا گیا۔ جس کے بعد بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کے سربراہ بنے۔ آصف علی زرداری کے والد حاکم علی زرداری اور قریبی عزیز رسول بخش تالپور اور علی بخش تالپور پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں شامل تھے اور یہ تینوں رہنما ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں زیر عتاب بھی ہوئے تھے۔ آصف زرداری نے ''جمہوریت سب سے بڑا انتقام'' کے نعرے کو اپنا کر مفاہمت کی پالیسی اختیار کی۔ ماضی کی متحارب قوتوں میں کم سے کم نکات کے اصول کے تحت اتفاق رائے ہوا اور ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہوا۔ 1973 کا آئین اپنی اصل شکل میں بحال ہوا اور 1940 کی قرارداد لاہور کی روح کے تحت صوبائی خودمختاری کا مسئلہ حل ہوا۔

اس طرح وفاق اور صوبوں کی منتخب حکومتوں کو اقتدار کی مدت پوری کرنے کا موقع ملا مگر زرداری صاحب کی بھی مخالفت کی گئی پھر دہشت گردی کی جنگ نے ان کے عزائم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت بلوچستان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں ناکام رہی۔ اسی طرح 'گڈ گورننس' نہ ہونے کی بنا پر انارکی اور غیر یقینی کی صورتحال نے لوگوں کو مایوس رکھا۔ زرداری حکومت کو دو بڑے سیلابوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ سیاسی محقق اسلم خواجہ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کی بہتر منصوبہ بندی کی بنا پر ان سیلابوں سے ہونے والی تباہی کا اثر کم ہوا اور کوئی شخص بھوک سے ہلاک نہیں ہوا۔ ممتاز دانشور خواجہ اسلم کے خیال میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام دیہات کی خواتین میں غربت کے خاتمے اور بیداری میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کی تاریخ کی پہلی جماعت ہے جس نے عوامی شعور عوام کے سپرد کیا۔

زرداری صاحب کے ناقدین کہتے ہیں کہ انھوں نے پیپلز پارٹی اور حکومت کو اپنی کمپنی کی طرح چلایا، جو لوگ ان کے دوست تھے وہ پارٹی اور حکومت کے اہم عہدوں پر تعینات رہے، یوں پیپلز پارٹی کا عوامی کردار کم ہوا۔ اب بلاول زرداری پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھال رہے ہیں، انھیں اس ملک کے کلچر کے بارے میں بہت کچھ سیکھنا ہے۔ مگر گزشتہ 55 برسوں کے دوران ایک حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ تمام تر خرابیوں کے باوجود یہ واحد وفاقی جماعت ہے، یہ اب بھی غریبوں، ترقی پسند اور روشن خیال قوتوں کی امید ہے۔ پیپلز پارٹی کو دنیا کی جدید پارٹیوں کی طرح جدید پارٹی میں تبدیل کرکے ہی اس ملک کے جمہوری نظام کو مستحکم کیا جاسکتا ہے۔