جمہوری تاریخ کی منفرد انتخابی مہم

یہ سوال جواب ہماری خاندانی سیاسی اشرافیہ کے انتخابی ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں ہے۔


Zaheer Akhter Bedari November 30, 2012
[email protected]

سیاست دان ٹی وی مذاکروں میں صبح سے شام تک عوام کے مسائل پر اور ان کے حل پر بات کرنے کے بجائے اپنا سارا وقت اپنی ساری توانائیاں ایک دوسرے پر کرپشن، ناقص کارکردگی اور بدعنوانیوں کے الزامات جوابی الزامات اور تردیدوں میں صرف کر رہے ہیں۔ یا اپنا وقت اپنے اپنے دورِ حکومت کی نا اہلیوں کے دفاع میں جھوٹے دعوئوں میں صرف کر رہے ہیں۔

اب یہ بات بڑی حد تک یقینی نظر آرہی ہے کہ عام انتخابات 2013ء میں ہونے جا رہے ہیں اور وہ ''ساری سیاسی سرگرمیاں'' جن کا ذکر ہم نے ابتدا میں کیا ہے اسی انتخابی مہم کا حصہ ہیں جس کی تیاری ہماری تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے ایک دلچسپ بات کا ذکر ضروری ہے، جس پر ہم مجموعی طور پر یہ کہتے ہوئے فخر کر رہے ہیں کہ ''پاکستان کی تاریخ میں کسی حکومت نے پہلی بار اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر لی ہے۔'' کیا یہ فخر کی بات ہے یا شرم کی؟ اس پر غور کرنے کی زحمت کرنے کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں۔

دنیا کے جمہوری ملکوں میں انتخابی مہمیں سیاسی جماعتیں اپنے پارٹی منشور کے حوالے سے چلاتی ہیں۔ ابھی دنیا کی واحد سپر پاور امریکا میں انتخابات ہوئے ہیں اور امریکا کی دونوں حریف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کئی مہینوں کی اس انتخابی مہم میں صرف ملک کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کی وضاحت کی ہے کہ اگر وہ برسرِ اقتدار آئیں تو عوام کو ٹیکسوں میں کیا ریلیف دیں گے، مہنگائی پر کس طرح قابو پانے کی کوشش کریں گے، اقتصادی بدحالی کو کم کرنے کے لیے کیا کیا اقدامات کریں گے، عوام کو کس کس قسم کی سہولیات فراہم کریں گے، ان کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی، دنیا کو جنگ سے بچانے اور امن کے فروغ کے لیے کس طرح کے اقدامات کریں گے؟

اس ساری انتخابی مہم پر نظر ڈالیں تو دو تین اہم باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں، ایک یہ کہ اس پوری انتخابی مہم میں دونوں پارٹیوں کے نامزد صدارتی امیدوار اوباما اور رومنی ہی عوام کے سامنے پیش ہوکر پارٹی منشور پیش کرتے رہے اور کسی رہنما نے اپنا وقت ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات میں صرف نہیں کیا۔ دوسری انتخابی مہم کے دوران ہونے والے جلسوں میں عوام اپنی مرضی سے شریک ہوئے، انھیں بسوں، ٹرینوں میں دیہاڑی پر نہیں لایا گیا، تیسرا ان جلسوں میں عوام کو امیدواروں سے براہِ راست سوالات کرنے کی آزادی حاصل رہی، اس انتخابی مہم کے حوالے سے اگر ہم اپنی انتخابی مہم پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ شرمناک صورتحال ہمارے سامنے آتی ہے کہ ہماری ساری انتخابی مہم میں کوئی پارٹی نہ اپنے منشور کا ذکر کرتی دکھائی دیتی ہے نہ عوام کے مسائل حل کرنے کے کسی پروگرام یا پالیسی کا ذکر کرتی دکھائی دیتی ہے۔

ہماری انتخابی مہم میں اہم قومی اور بین الاقوامی مسائل کا کوئی تعین ہوتا دکھائی دیتا ہے نہ ان کے حل کے حوالے سے کسی واضح پالیسی کا کوئی جماعت اعلان کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے رہنما کروڑوں روپے خرچ کرکے لاکھوں عوام کو موروثی اور دولت کی طاقت سے اپنے جلسوں جلوسوں میں گھسیٹ لاتے ہیں اور ان بڑے جلسوں جلوسوں کو اپنی مقبولیت کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

ان انتخابی مہموں کا اہم ایجنڈہ اپنے انتخابی حریفوں پر الزامات ہوتا ہے اور ان سیاسی جماعتوں میں موجود مڈل کلاس کے مصاحبین اپنا سارا وقت اپنی خاندانی قیادت کی قصیدہ خوانی، تعریف و توصیف میں بِتا دیتے ہیں۔ ہمارے اہم ترین قومی مسائل میں مہنگائی، بے روزگاری، علاج اور تعلیم سے محرومی، بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ، قبائلی، سرداری، جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ اور ایک انتہائی خطرناک مسئلہ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ منافرت ہے۔ آج بھی جس وقت میں یہ کالم لکھ رہا ہوں کراچی اور راولپنڈی میں ہونے والی دہشت گردی کے شکار بے گناہ لوگوں کی کٹی پھٹی لاشیں، زخمیوں کے خون آلود جسم اور آہ و بکا کرتے لوگوں کے ہجوم، سیکیورٹی فورسز پر پختونخوا میں ہونے والے حملوں کے مناظر دکھائے جارہے ہیں۔

ان تمام اہم ترین قومی مسائل کو انتخابی مہم کا حصہ دانستہ طور پر اس لیے نہیں بنایا جارہا ہے کہ ہمارے سیاستدان عوام سے ہرگز مخلص نہیں ہیں ان کی توجہ کا اصل مرکز خاندانی حکمرانی کا استحکام اور قومی دولت کی لوٹ مار کے علاوہ کچھ نہیں، ہماری دانشورانہ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اس جدید بادشاہانہ نظام کو جمہوریت کا نام دے کر اس کی سرپرستی حمایت اور تسلسل کی ذمے داری ادا کر رہے ہیں اور ہماری اس فکری کجروی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، یہ خاندانی سیاستدان خاندانی حکمران عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے نئے نئے شاطرانہ طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ قوم کی دولت سے کوئی آٹو رکشہ عوام میں بانٹ کر عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہا ہے تو کوئی عوام کے پیسے سے لیپ ٹاپ نوجوانوں میں بانٹ کر خود کو حاتمِ وقت ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو کوئی سرکاری زمین اپنے پسندیدہ ہاریوں میں بانٹ کر حلوائی کی دکان پر دادا کے فاتحہ دلاتا نظر آرہا ہے اور حیرت اور شرم کی بات یہ ہے کہ بعض ''کھرپ پتی محنت کش'' اُچک اُچک کر حبیب جالب کے شعر پڑھ کر اپنے آپ کو انقلابی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کوئی عوام کو یہ نہیں بتا رہا ہے کہ اگر وہ کسی عیاری کی مدد سے برسرِ اقتدار آیا تو وہ مہنگائی بے روزگاری کس طرح ختم کرے گا، گیس و بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے عوام کو نجات دلانے اور صنعتی جمود سے نکالنے کے لیے اس کی منصوبہ بندی اور پروگرام کیا ہوگا، قبائلی اور جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کے لیے اس کی حکمتِ عملی کیا ہوگی، ملک کے سب سے بڑے اور موجودہ وقت کے خطرناک ترین مسئلہ دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کو وہ کس طرح ختم کرے گا، اس کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟ یہ وہ سارے سوالات ہیں جن کا جواب ہمارے محترم سیاستدانوں کو اپنی انتخابی مہم کے دوران دینا چاہیے۔ لیکن ہم ان سوالوں کے جواب سے اس لیے امید نہیں باندھ سکتے کہ یہ سوال جواب ہماری خاندانی سیاسی اشرافیہ کے انتخابی ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ انتخابات ہوں گے تو یہی بد دیانت کرپٹ خاندانی قیادت ہی اقتدار میں آئے گی اور وہی کچھ کرے گی جو 65 سالوں سے کرتی آرہی ہے، اس لیے عوام میں اس وڈیرہ شاہی جمہوریت کو بے نقاب کرتے رہنا اور مڈل اور لوئر مڈل کلاس کو آگے آنے کی ترغیب فراہم کرنا ہماری ذمے داری ہے۔

مقبول خبریں