’’برطانوی میڈیا نے عوام کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات ڈالے‘‘

صحافتی ضابطہ اخلاق تبدیل ہونا چاہیے، نئے قواعد و ضوابط تشکیل دیے جائیں گے، کیمرون۔


News Agencies December 01, 2012
سیاستدانوں نے میڈیا کے ساتھ ضرورت سے زیادہ قریبی تعلقات رکھے ہیں، جسٹس لیویسن. فوٹو: رائٹرز

برطانوی پریس کے طرز عمل ، اخلاقیات اور کلچر پر لارڈ جسٹس لیویسن کی انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی پریس کئی عشروں سے لوگوں کی زندگیوں پر بری طرح اثرانداز ہو رہا ہے اور اسے انتہائی کڑے قواعد کی ضرورت ہے جو یہ صنعت خود اپنے لئے وضع کرے۔

انہوں نے کہا ان قواعد پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے حکومت قانون سازی کرے ۔ پریس کے بارے میں شکایت سننے والا ادارہ ، پریس کمپلینٹ کمیشن مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پریس نے آنے والی کئی دہائیوں تک کیلئے کئی افراد کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات ڈالے ہیں ۔ یہ قابل قبول نہیں ہونا چاہیے کہ پریس اپنی آواز، طاقت اور اختیار سے معاشرے کے قوانین بنانے کے حق کو رد کر دے ۔

03

جسٹس لیویسن نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے پریس کے ساتھ ضرورت سے زیادہ قریبی تعلقات قائم کر رکھے ہیں ۔

انہوں نے تجویز کیا کہ برطانیہ کو ایک خود انضباطی ادارے کی ضرورت ہے جو پریس سے متعلق شکایات پر موثر انداز میں کارروائی کر سکے ۔ دو ہزار صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں پریس ، سیاستدانوں اور پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔

04

دریں اثناء برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ صحافتی ضابطہ اخلاق تبدیل ہونا چاہیے ۔ برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جرائد کے موجودہ قواعدو ضوابط ناقابل قبول ہیں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صحافت کے نئے ضابطہ اخلاق سے آزادانہ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں اتفاق رائے سے نئے قواعد و ضوابط تشکیل دئے جائیںگے ۔