اقتصادی راہداری منصوبے کی سیکیورٹی قومی ذمے داری

سی پیک منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے اسٹرٹیجک گیم چینجر ہے


Editorial July 30, 2016
پاکستان کے کروڑوں عوام کے معاشی خوابوں کی تعبیر ہے اور اس کی تکمیل پاک فوج کا ایک ایسا کارنامہ ہو گا جسے کوئی فراموش نہیں کر سکے گا۔ فوٹو: آئی ایس پی آر

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے کی سیکیورٹی ہماری قومی ذمے داری ہے اور ہم اس کی مقررہ مدت میں تکمیل اور بلا رکاوٹ کامیابی کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ سی پیک منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے اسٹرٹیجک گیم چینجر ہے، پاکستان آرمی اور پاکستان کے عوام چین کے ساتھ اپنی دوستی کے رشتوں پر فخر کرتے ہیں، آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کو مستحکم کر رہے ہیں، ہر قسم کے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے، دہشتگردی، جرائم اور کرپشن کے درمیان گٹھ جوڑ توڑنے کے لیے ہمارا عزم مضبوط ہے۔ وہ چینی سفارتخانے میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے قیام کی 89 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

خطے کی اقتصادی تقدیر بدلنے کے عزائم اور ملک کو دہشتگردی، کرپشن اور جرائم کے حوالہ سے درپیش داخلی مسائل کے حل کے لیے جس مثبت انداز فکر کا جنرل راحیل شریف نے گزشتہ چند مہینوں سے اظہار کیا ہے وہ ایک نئے تزویراتی پیراڈائم کا مظہر ہے اور اس فکر کی بنیاد وہ لازوال پاک چین دوستی اور اقتصادی راہداری کا گیم چینجر منصوبہ ہے، جس پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں، دنیا اس منصوبہ کے حوالہ سے دو حصوں میں تقسیم ہے اور اس کا جنرل راحیل سمیت سیاسی قیادت کو بھی گہرا ادراک ہے، راہداری منصوبہ ایک عالمی حلقہ کے لیے آنکھوں کا کانٹا ہے، وہ چین کا راستہ روکنے کی ہر ممکن سازش میں جتا ہوا ہے، اور اسے پاکستان کی اقتصادی ترقی اور بلوچستان میں امن و اخوت اور بلوچ عوام کی معاشی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے جمہوری حکومت کی کوششوں سے بھی الرجی ہے۔

کیونکہ ان قوتوں نے بلوچستان میں شورش کو مہمیز کرنے اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے سازشوں کے کئی تانے بانے بنے ہیں، مگر پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کے باعث دہشتگرد عناصر بلوچستان سمیت پاکستان کے کسی بھی حصہ میں اپنے مکروہ اور گھناؤنے منصوبوں کی تکمیل میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ پاکستان کو اپنی اقتصادی ترقی، معاشی استحکام اور سیاسی امن و آسودگی کے ایجنڈہ کو مکمل کرنے کے لیے ایک ایسی ٹھوس حکمت عملی کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے عوام کو جمہوری ثمرات سے مستفید کرے اور خطے میں پڑوسی ملکوں کو اس بات پر قائل کرے کہ امن افغانستان سمیت ہر ہمسایہ ملک کی ضرورت ہے، لیکن کوئی اگر پاکستان کی اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو اسے یہ سوچنا چاہیے کہ اس کی سیاسی و عسکری قیادت اس بات کا پختہ عزم کر چکی ہے کہ ملکی اقتصادیات اور سیاست کے مابین ایک نئے میکنزم نے جنم لیا ہے۔

جس کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ برصغیر کے تمام دیرینہ مسائل کا حل بات چیت میں مضمر ہے، چاہے وہ سیاسی مسئلہ ہو یا اقتصادی مسئلہ۔ اسی طرح پاکستان کی بنیادی پالیسی بھی اس محور پر گھومتی ہے کہ بھارت اگر خطے میں امن و استحکام اور ترقی و عالمگیر معاشی اشتراک عمل اور خطہ کے عوام کو غربت و پسماندگی سے نجات دلانے میں سنجیدہ ہے تو اسے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے میں پہل کرنی پڑیگی، اور بالادستی اور اسلحہ کی دوڑ کے جنون کو ترک کرنا پڑیگا۔

بین الاقوامیت، عالمگیر دوستی اور خطے کی نئی حرکیات کے سامنے سرینڈر کرنا ہو گا۔ پاکستان اس سے اپنے تمام دیرینہ اور موجودہ حل طلب مسائل پر کسی بھی فورم پر بات کرنے کے لیے تیار ہے مگر شرط یہ ہے کہ بھارت مذاکرات کے لیے اپنا ذہن ہر قسم کی چانکیائی سیاست کاری سے پاک کرے اور بین الاقوامی طور پر مسلمہ جمہوری اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان سے بات چیت کی حامی بھرے۔ دنیا میں کوئی مسئلہ بات چیت کے بغیر حل نہیں ہو گا۔ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور بھارت سمیت پوری عالمی برادری کو پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے علاقہ کے اسٹیک ہولڈرز کو شریک کرنا ہو گا۔ خطے میں چینی اثر و نفوذ ایک نمایاں حقیقت ہے، اور سامراجی بالادستی کے خلاف ایک دیوار چین جیسی استقامت کا حامل ملک ہے جس کی معیشت مستحکم ہے۔

جنرل راحیل کا کہنا ہے کہ میرے لیے اس تقریب سے خطاب منفرد اعزاز کی بات ہے۔ یہ موقع چین کے بہادر عوام کی جانب سے اپنے خواب کی تکمیل کے لیے دی گئی بڑی قربانی کی یاد دلاتا ہے جس نے ایک شاندار مثال قائم کی۔میں اس موقع پر چیئرمین ژی جن پنگ، وائس چیئرمین سینٹرل ملٹری کمیشن جنرل فان چنگلانگ اور چیف آف جوائنٹس اسٹاف جنرل فنگ ہوئی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آج پیپلز لبریشن آرمی کو دنیا کی بہترین تنظیموں میں شمار کیا جاتا ہے، پی ایل اے کا پیشہ ورانہ معیار اور آپریشنل ریکارڈ اس کی کارکردگی کا ثبوت ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی قوتیں دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کریں، پاکستان کو اقتصادی ترقی کے لیے روڈمیپ پر مکمل یکسوئی کے ساتھ کام کرنے دیا جائے، اقتصادی راہداری کسی ملک کے خلاف نہیں، یہ پاکستان کے کروڑوں عوام کے معاشی خوابوں کی تعبیر ہے اور اس کی تکمیل پاک فوج کا ایک ایسا کارنامہ ہو گا جسے کوئی فراموش نہیں کر سکے گا۔