بلدیاتی انتخابات اور اسٹیک ہولڈرزکی ذمے داری

شہر قائد اپنی تاریخ کے اہم ترین مرحلہ سے گزر رہا ہے


Editorial July 30, 2016
اب ذمے داری اسٹیک ہولڈرز کی ہے وہ سندھ کو امن کا گہوارہ بنائیں۔ فوٹو: فائل

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے بعد میئراورڈپٹی مئیر، چیئرمین و وائس چیئرمین کے انتخابات کے لیے پولنگ24 اگست کو ہوگی اور بلدیاتی اداروں کے نو منتخب سربراہان 30 اگست کو حلف اٹھائیں گے ۔

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے آخری مرحلہ کے لیے شیڈول کا کئی بار اعلان کیا گیا تاہم کسی نہ کسی عذر اور صوبہ میں پیدا شدہ صورتحال کے باعث الیکشن موخر ہوتے رہے۔ اس بار شیڈول کے مطابق تین اگست کو پبلک نوٹس جاری کیا جائے گا، کاغذات نامزدگی پانچ اور چھ اگست کو جمع کرائے جا سکیں گے، کاغذات کی جانچ پڑتال آٹھ سے دس اگست تک کی جائے گی، پولنگ24 اگست کو ہوگی اور نتائج کا اعلان 25 اگست کو کیا جائے گا۔ تاہم یہ شیڈول میونسپل کمیٹی ٹھٹھہ، ضلعی کونسل ٹھٹھہ ، ضلع ٹھٹھہ اور میونسپل کمیٹی گمبٹ ، ضلع خیرپور کے لیے نہیں ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ سندھ اور کراچی کی غیر یقینی سیاسی صورتحال میں مثبت ڈرامائی تبدیلی کا سب سے بنیادی فیصلہ میئر ،ڈپی میئر ، چیئرمین و وائس چیئرمین کے چناؤ کا ہے۔ شہر قائد اپنی تاریخ کے اہم ترین مرحلہ سے گزر رہا ہے ، ایک طرف دہشتگردی اور بدامنی کے سدباب کے لیے عدالت عظمیٰ کراچی میں بدامنی کیس کی سماعت کررہی ہے جب کہ رینجرز کے اختیارات اور اس کی مدت میں توسیع کے فیصلے جلد ہونے چاہئیں ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں لارجر بنچ نے کراچی میں امن و امان کے بارے میں وفاقی و صوبائی اداروں کے ایک دوسرے پرذمے داری ڈالنے کی روش پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الزام تراشی کے کھیل سے نکل کر تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر بیٹھیں اور صورتحال بہتر کرنے سے متعلق کوئی حل نکالیں ، چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ صوبے اور وفاقی حکومت کو شہر میں امن وامان کی صورتحال بہتر کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر معاملات حل کرنے چاہئیں۔

اس ضمن میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ شہر قائد کی ترقی ، اس کے سیاسی و سماجی مسائل کے حل اور قانون شکن عناصر کی حوصلہ شکنی کے لیے عدلیہ نے ہمیشہ اہم ریمارکس دیے اور سرکاری اسپتالوں اور محکموں میں عوام کو علاج اور دیگر سہولتوں کی عدم دستیابی پر بار بار برہمی کا اظہار کیا ہے، اب ذمے داری اسٹیک ہولڈرز کی ہے وہ سندھ کو امن کا گہوارہ بنائیں۔