چترال دہشت گردوں کی قتل و غارت اور لوٹ مار

پاکستان کو چترال واقعہ پرافغان حکومت سےاحتجاج کرتےہوئےاس پردباؤ ڈالنا چاہیےکہ وہ سرحدوں پرحفاظتی اقدامات موثر بنائے


Editorial August 01, 2016
اگر اس مسئلے سے یونہی صرف نظر کیا جاتا رہا تو آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ بڑھتے بڑھتے شدید نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔ فوٹو:فائل

چترال میں ہفتے کو بھی افغانستان سے آنے والے طالبان نے حملہ کر کے مزید 3 کیلاش چرواہوں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا اور ان کے 700 سے زائد مویشی لے کر فرار ہو گئے۔ جمعے کو بھی افغانستان کے صوبہ نورستان سے آئے ہوئے دہشت گردوں نے وادی کیلاش میں دو چرواہوں کو ذبح کر کے ان کے تین سو مویشی لے کر فرار ہو گئے تھے۔

افغانستان سے دہشت گرد پاکستان میں داخل ہو کر اپنی مذموم کارروائیاں کرتے ہیں جن میں عوامی مقامات کے علاوہ سیکیورٹی اداروں کو بھی نشانہ بنانا شامل ہے لیکن اب لوٹ مار کا ایک نیا رجحان دیکھنے میں آیا ہے' افغانستان سے آنے والے ان دہشت گردوں نے غریب چرواہوں کا مال و اسباب لوٹنا شروع کر دیا ہے۔ دو روز میں مسلسل لوٹ مار کے ان واقعات سے یقیناً وہاں کی آبادی بالخصوص چرواہوں میں خوف و ہراس اور عدم تحفظ کے احساس کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ خبروں کے مطابق یہ حملہ آور راکٹ لانچر اور جدید ترین اسلحہ سے لیس تھے جو اپنے ساتھ گاڑیاں بھی لے کر آئے تھے۔

دہشت گردوں کا اس طرح دن دہاڑے گاڑیوں پر سوار سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہونا اور پھر لوٹ مار کر کے بآسانی فرار ہونا سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا افغانستان سے ملحق پاکستانی علاقے اتنے ہی غیرمحفوظ ہیں کہ جب جس کا جی چاہے وہ مسلح ہو کر داخل ہو اور اپنی مذموم کارروائیاں کر کے بآسانی فرار ہو جائے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب جمعے کے روز حملہ آوروں نے کیلاش وادی میں لوٹ مار کی تو اس کے بعد سیکیورٹی اداروں کو چوکنا ہو جانا چاہیے تھا اور وہاں کے لوگوں اور علاقے کی حفاظت کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنا چاہیے تھے۔

اگر وہاں پر فی الفور سیکیورٹی کے مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے حملے بار بار ہوتے رہیں گے جس کے بعد ان علاقوں میں امن و امان کے حوالے سے نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔ چترال کی وادی اپنی خوبصورتی اور دلکشی کے باعث پوری دنیا میں شہرت کی حامل ہے' نہ صرف اندرون ملک بلکہ غیر ملکی سیاحوں کی بھی ایک بڑی تعداد ان علاقوں کا رخ کرتی ہے۔ آج کل وہاں شندور پولو فیسٹیول بھی ہو رہا ہے، لہٰذا وہاں سیکیورٹی بڑھانا بہت ضروری ہو چکا ہے۔ اگر کل کو کوئی سیاح یا ان کی کوئی ٹیم دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ گئی تو اس سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہو گی اور ان علاقوں میں رہی سہی سیاحت بھی دم توڑتی چلی جائے گی۔

دوسری جانب افغان حکومت کی ناقص کارکردگی بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے جو ابھی تک سرحدوں پر حفاظتی اقدامات ہی نہیں کر سکی بلکہ جب پاکستان چھبیس سو کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد پر، جو بیشتر مقامات پر انتہائی ''مسام دار'' ہے، گیٹ لگانے کی کوشش کرتا ہے تو بجائے افغانستان اس پر شکر گزار ہو الٹا اعتراضات کرنا شروع کر دیتا ہے۔ افغان حکومت پاکستان پر الزامات لگانے اور اس کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی' افغان قیادت آئے دن پاکستان کے خلاف زہر اُگلتی رہتی ہے لیکن اس کی ناقص کارکردگی کے باعث سرحدی علاقے دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں بن چکے ہیں اور وہ بلاروک ٹوک آتے جاتے ہیں۔

افغانستان کے ساتھ پاکستان کی ایک طویل اور دشوار گزار سرحد ہے جس پر اگرچہ فوری طور پر حفاظتی اقدامات کرنا ممکن نہیں اگرچہ حکومت پاکستان طورخم بارڈر پر حفاظتی اقدامات بہتر سے بہتر بنا رہی ہے اب اسے دہشت گردوں کا راستہ مستقل بنیادوں پر روکنے کے لیے پوری سرحد پر توجہ دینی ہو گی خاص طور پر ان علاقوں پر جہاں سیاحوں کی آمدورفت بھی بہت زیادہ ہے۔ تجزیہ نگار ایک عرصے سے یہ کہہ رہے ہیں کہ افغان مہاجرین کو جلد از جلد ان کے وطن روانہ کر دیا جائے کیونکہ ان کے باعث جہاں معاشی مسائل جنم لے رہے ہیں وہاں پاکستان کی سلامتی اور امن و امان کے لیے بھی خطرات جنم لے رہے ہیں۔

پاکستان کو چترال واقعہ پر افغان حکومت سے احتجاج کرتے ہوئے اس پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ سرحدوں پر حفاظتی اقدامات موثر بنائے تا کہ کوئی بھی گروہ سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل نہ ہو سکے۔ افغانستان میں نیٹو افواج کے علاوہ اب افغانوں کی اپنی آرمی بھی بڑی تعداد میں موجود ہے ان کی طرف سے سرحدوں پر حفاظتی اقدامات کو نظرانداز کرنا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کو مشترکہ طور پر کوششیں کرنا چاہئیں تا کہ سرحدوں سے ہونے والی دہشت گردوں کی آمد و رفت کو روکا جا سکے۔ اگر اس مسئلے سے یونہی صرف نظر کیا جاتا رہا تو آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ بڑھتے بڑھتے شدید نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔