ہم اپنے اعمال پر بھی نظر کریں آخری حصہ

ایسٹ انڈیا کمپنی جہاں ہندوستان کی دولت لوٹ رہی تھی، وہیں زیر اثر علاقوں میں امن و امان قائم کررہی تھی۔


Zahida Hina December 01, 2012
[email protected]

سترہویں صدی میں جہانگیر کے دربار سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے تجارت کے فرمان حاصل کرنے والے انگریزوں نے سیاست اورحکومت کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے دیر نہیں لگائی۔ اٹھارہویں صدی کے نصف آخر تک انگریز بنگال پر قبضہ کرچکے تھے۔ انیسویں صدی کے نصف اول میں راجپوت ریاستوں اور سندھ پر یونین جیک لہرا رہا تھا۔ کمپنی کی فوجیں سکھ افواج کو شکست دے کر پنجاب کا الحاق کرچکی تھیں اور سلطنت اودھ پر اس کا قبضہ گھنٹہ گھڑی کی بات نظر آرہی تھی۔ یہ سب کچھ ممکن کیسے ہوا کہ ہم موم کے پتلوں کی طرح ذرا سی آنچ سے پگھل گئے۔ عہد زوال کے تاریخی ناول نگاروں نے ہمارے بادشاہوں کی جس عظمت کے ڈنکے پیٹے، اسے ایک طرف رکھیے اور تاریخی حقائق پر نگاہ ڈالیے تو عالمگیر جو 25 برس تک مسلمان ریاستوں سے جنگ کرنے میں مغل خزانہ خالی کرچکا تھا اس کے بعد یہی ہونا تھا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی جہاں ہندوستان کی دولت لوٹ رہی تھی، وہیں زیر اثر علاقوں میں امن و امان قائم کررہی تھی۔ ٹھگی کا خاتمہ کیا جارہا تھا لوگوں کو نئے خیالات سے روشناس کرا رہی تھی۔ ان کی ان کوششوں کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1781ء میں وارن ہیسٹنگز نے عربی اور فارسی کی اعلیٰ تعلیم کے لیے کلکتے میں مدرسہ عالیہ قایم کیا۔ لارڈ کارنیوالس نے 1791ء میں بنارس میں سنسکرت کالج، لارڈ ولزلی نے 1800ء میں فورٹ ولیم کالج قائم کیا۔ جہاں سے میرا من اور ہمارے دوسرے اردو اور ہندی ادیب نکلے اور اعلیٰ کتابیں شایع ہوئیں۔ 1821ء میں پونا، 1824ء میں کلکتہ میں سنسکرت کالج قائم ہوئے۔ جدید انگریزی تعلیم کے لیے اسکاٹش چرچ کالج 1830، ولسن کالج 1832، مدراس کرسچن کالج 1837، الفنٹسن کالج 1856 قائم ہوا۔ پہلا میڈیکل کالج بمبئی میں 1845ء، جنوری 1857 میں کلکتہ یونیورسٹی، جون 1857ء بمبئی یونیورسٹی اور ستمبر 1857ء میں مدراس یونیورسٹی قائم ہوچکی تھی۔ یہ وہ 1857ء ہے جس میں ہمارے متعدد بزرگوں نے جان دی اور بغاوت کے الزام میں آسمان سے زمین پر آرہے۔

1861ء تک ہندوستان کے طول و عرض میں 889 ڈاک خانے قائم ہوچکے تھے اور لوگ اس نظام کے اتنے عادی ہوئے تھے کہ سالانہ 4 کروڑ 30 لاکھ خط اور لاکھوں اخبار، رسالے اور کتابیں ہندوستان کے طول عرض تک پہنچ رہے تھے۔ آج ہم غالب کے جن خطوط پر اتراتے ہیں وہ کمپنی بہادرکے قائم کیے ہوئے اسی نظام کی عطا ہیں۔ نہ ڈاک کا یہ اعلیٰ بندوبست ہوتا، نہ ہم اردو کے اس نثری شاہ کار سے فیض یاب ہوتے۔ یوں تو ڈاک کا بہترین نظام شیر شاہ سوری قائم کر گیا تھا لیکن اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کی فرصت کسے تھی۔ انگریزوں کو دعا دیجیے جو یہ کام کرگئے۔

1857ء تک ان کی نصب کی ہوئی ٹیلی گراف لائنیں 4,555 میل تک پھیل چکی تھیں۔ 1855ء کے ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت 16 لفظوں پر مشتمل تار کے لیے ایک روپیا لیا جاتا تھا۔ آج کی نسل اس سنسنی سے محروم ہوچکی ہے۔ جو کسی گھر میں تار کے آنے سے ہوتی تھی۔انھوں نے ہمیں وہ نہری نظام دیا جس پر دنیا آج بھی رشک کرتی ہے۔ نہروں کی کھدائی کا سلسلہ 1835ء سے شروع ہوا اور پھر اس نے پنجاب اور سندھ کو سیراب کیا۔ ہمارے یہاں سیلاب آئے تو اپنی زمینیں بچانے کے لیے زمیندار اور جاگیردار نہروں کے پشتے توڑ دیتے ہیں اور آن کی آن میں پانی سیکڑوں دیہات، ان میں آباد لوگ اور ڈھور ڈنگر نگل لیتا ہے۔ انگریز سیلاب سے بچائو کا انتظام کرتا تھا۔ ہندوستان میں قحط اس بڑے پیمانے پر آتا تھا کہ بعض علاقوں میں تین چوتھائی اور نصف آبادی کا ستھرائو کردیتا تھا ۔ اس بھیانک انسانی المیے سے بچنے کے لیے 1883ء میں فیمین کوڈ نافذ کیا گیا۔ہمارے کیا ہندو اور کیا مسلمان سب ہی اپنے اپنے مذہب کے نام پر لڑکیوں اور عورتوں کے تمام حقوق غصب کیے بیٹھے تھے۔ یہ عورتوں کا درد رکھنے والے انگریز تھے جو نجی سرمائے سے لڑکیوں کے لیے اسکول قائم کررہے تھے اور یہ بھی وہی تھے جن کے دبائو پر کمپنی نے اور بعد میں برٹش راج نے لڑکیوں کے لیے سرکاری اسکول اور کالج قائم کیے۔

انھوںنے ریل کی پٹریاں ڈالنی شروع کریں بیل گاڑی سے ریل گاڑی تک سفر کا ایک نیا طریقہ جو ہندوستانیوں کو حیران کرگیا۔ لیکن اس حیرت سے دامن چھڑا کر وہ ریل گاڑی میں جا بیٹھے۔ انگریزوں نے کوہ و دمن میں ریل کی پٹریاں بچھا دیں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سنگلاخ شہر بھی ان سے نہ چھوٹے۔ مارچ 1900 تک وہ 23,627 میل لمبی پٹریاں بچھاچکے تھے۔ ہندوستان میں انگریزوں کی چلائی ہوئی ٹرین آج بھی فراٹے بھر رہی ہے۔ 1947ء میں وہ اسے جہاں چھوڑ گئے تھے اس سے وہ کہیں آگے نکل گئی ہے۔ ہمارے یہاں ریل کا اعلیٰ نظام جس طرح برباد کیا گیا اس کے ہم سب عینی گواہ ہیں۔انگریزوں نے ہم پر بہت ظلم کیے۔ سب سے بڑی بات تو یہ کہ انھوں نے ہماری آزادی سلب کی اور ہمارے بڑوںکو جلاوطن کیا۔ پھانسی دی، جیل میں چکی پسوائی، لیکن یہ بھی وہی تھے جن کی لائی ہوئی جدید تعلیم نے ہمیں سیاسی شعور دیا۔ عدالتی نظام، قانون کی عملداری، وہ سپریم کورٹ جس کی ہم صبح و شام دہائی دیتے ہیں ان کا ہی قائم کیا ہوا ہے۔ گزیٹیر جن پر کسی ضلع، کسی علاقے کی بنیادی معلومات کے لیے ہم تکیہ کرتے ہیں وہ ان ہی کے مرتب کیے ہوئے ہیں۔ اٹھارہویں صدی سے جدید چھاپہ خانہ انھوں نے لگایا۔کاغذ بنانے کا پہلا کارخانہ اور اٹھارہویں صدی سے انگریزی صحافت کا آغاز انھوں نے کیا۔ جو بعد میں بنگلہ، اردو، ہندی، گجراتی اور تامل زبانوں میں پھیل گئی۔ اسی نے ہندوستان کو تاج برطانیہ سے نجات دلانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

ان تمام سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے بجائے جدید انگریزی تعلیم کی طرف رخ کرنا، ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنا 'کفر' ٹھرا۔ مسلمان سلطنت ہاتھ سے نکل جانے کی بنیاد پر انگریزوں اور ان کے نظام سے نفرت کررہے تھے۔ اس وقت کے سماج کے مرکزی دھارے سے کٹ گئے۔ ہندو ادیبوں ، شاعروں اور صحافیوںنے اس جدید نظام تعلیم کو اور صحافت کو سینے سے لگایا اور مسلمانوں سے بہت آگے نکل گئے۔ ہمیں اس کی شکایت خود سے نہیں انگریزوں اور ہندوئوں سے ہے۔ہمارے یہاں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ہندوئوں کی تعلیمی ترقی اور اس کے نتیجے میں اچھی ملازمتوں کے حصول اور ان کے سماجی استحکام کو ہندوئوں اور انگریزوں کی سازش قرار دیتے ہیں۔ ہم یہ غور نہیں کرتے کہ ہر جدید خیال اور بدلے ہوئے زمانے کے تقاضوں کو سمجھنے کے بجائے ہم اسے رد کرتے چلے گئے تھے۔

آج ہم اپنا ''جہاد'' بھی مغرب کے ایجاد کردہ جدید ترین اسلحے سے لڑتے ہیں۔ ہماری زندگی کی ہر آسائش مغرب کی مرہون منت ہے۔ ہمارے یہاں لگ بھگ نصف صدی سے ایک اصطلاح 'مسلم امہ' کا غلغلہ ہے۔ ملباری کے ہوٹل یا پٹھان کے ڈھابے پر بیٹھا ہوا غریب اور نیم خواندہ یا ناخواندہ شخص اور جذبۂ ایمانی سے سرشار اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان مسلم امہ کو ایک ایسی حقیقت سمجھتا ہے جو دنیا کو تلپٹ کرسکتی ہے۔ اور کوئی دن جاتا ہے کہ ہنود و یہود ونصاریٰ کا دھڑن تختہ کردے گی۔

یہ حسین اور خوش رنگ خواب دیکھنے والے یہ نہیں سوچتے کہ وہ 53 ملکوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ان میں سے متعدد سالانہ کھربوں ڈالر کی آمدنی رکھتے ہیں۔ یہ کھربوں ڈالر ان کے بادشاہ جس طرح چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں۔ وہ اپنی ملکی دولت قمار خانوں، قحبہ خانوں اور شراب خانوں میں لٹاتے ہیں۔ 'رعایا' جسے اخلاقاً عوام کہا جاتا ہے اس کی ذہنی اور علمی ترقی کے بجائے اسے مزید پسماندہ رکھنے کی کوششیں کی جاتی ہیں ۔ دولت کے انبار مسلکی اختلافات کو ہوا دینے میں خرچ ہورہے ہیں۔ فرقہ واریت کا عفریت مسلمانوں کی قوت کو جس طرح نگل رہا ہے اس کا تماشہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ اور ہم دنیا کے کئی مسلمان ملکوں اور خاص طور سے پاکستان میں ان مسلکی اختلافات اور فرقہ وارانہ جنون کے ہاتھوں برباد ہورہے ہیں۔

مسلمان ملکوں کے بادشاہوں اور جمہوریت کے دعویدار ڈکٹیٹروں نے دولت کو مغرب کے بینکوں میں رکھا۔ شاندار محل بنائے، زروجواہر اور سونے کا بدمذاقی سے استعمال اپنے بیت الخلاء، حمام اور خلوت گاہوں میں کیا۔ لیکن انھیں یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ عظیم الشان یونیورسٹیاں قائم کریں۔ سائنسی تجربہ گاہیں بنایں اور اپنے نوجوانوں کو وظائف اور سہولت کی زندگی دے کر ان کی ذہانتوں کو بنی نوع انسان کے لیے نہ سہی تو کم سے کم مسلم امہ کی فلاح کے لیے ہی استعمال کریں۔

جب تک ہم نفرت اور احساس کمتری کی خوفناک اندھی سرنگ سے اور اپنی فرقہ وارانہ تباہ کن سوچ کی دلدل سے نکلنے کی کوشش نہیں کریں گے اور اپنے اعمال پر نظر نہیں ڈالیں گے، اس وقت تک ہم ہر بات کو دوسروں کی سازش قرار دے کر خود کو بری الذمہ ٹھہرانے کی بیمار نفسیات سے نجات حاصل نہیں کرسکیں گے۔

مقبول خبریں