لازوال گیتوں کا خالق‘ فیاض ہاشمی

رئیس فاطمہ  ہفتہ 1 دسمبر 2012

تصویر تیری دل مِرا بہلا نہ سکے گی
میں بات کروں گا تو یہ خاموش رہے گی
سینے سے لگا لوں گا تو یہ کچھ نہ کہے گی
آرام وہ کیا دے گی جو تڑپا نہ سکے گی

طلعت محمود کی منفرد آواز میں جب یہ گیت فضاء میں بکھرا تو شعر اور موسیقی کو سمجھنے والا ہر شخص چونک پڑا۔ یہی وہ گیت تھا جس نے طلعت محمود کو طلعت محمود بنایا۔ بالکل اسی طرح جیسے ایس بی جون کی شہرت کا باعث بھی فیاض ہاشمی ہی کا یہ گیت بنا۔

تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے

لاتعداد گیتوں کے خالق فیاض ہاشمی پر خدا کی خاص رحمت تھی کہ ان کو کمسنی میں ہی شہرت عطا ہوئی، وہ 1924ء میں کلکتہ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کلکتہ گرامر اسکول سے حاصل کی اور باقاعدہ ہومیو پیتھ ڈاکٹر بھی بنے، لیکن پریکٹس نہیں کی کیونکہ طبیعت شاعری کی طرف مائل تھی۔ 1935ء سے فلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے تھے، آٹھ زبانوں پر مکمل عبور رکھتے تھے، انھوں نے فلمی گیتوں میں اُردو اور ہندی کی آمیزش سے ایک نیا رنگ بھرا جس کی وجہ سے ان کے گیتوں کو لازوال شہرت عطا ہوئی۔ نویں جماعت ہی سے بہت پختہ شعر کہنے شروع کردیے تھے۔ جس کی بناء پر کلکتہ میں ہونے والے ہر مشاعرے میں انھیں کمسن شاعر کی حیثیت سے بطورِ خاص بلوایا جاتا تھا۔ جہاں انڈیا میں قدرت نے ان کے سر پر شہرت کا تاج رکھ دیا تھا، اسی طرح پاکستان میں بھی انھیں وہی پذیرائی ملی۔ بے شمار گیتوں کے علاوہ، کئی فلمیں ان کے کریڈٹ پر ہیں، جن میں سہیلی، آشیانہ، اولاد، دل کے ٹکڑے، سہاگن، لاکھوں میں ایک، زمانہ کیا کہے گا، عید مبارک، سویرا، ہزار داستان اور ایسا بھی ہوتا ہے سرِ فہرست ہیں۔

فلمی دنیا میں یوں تو اور بھی لوگ گیت نگاری کر رہے تھے، لیکن فیاض ہاشمی صاحب کی انفرادیت یہ تھی کہ ان کے اندر شاعر کے ساتھ ساتھ ایک موسیقار بھی چھپا تھا، اسی لیے دھن بناتے وقت اگر کہیں کوئی اڑچن آتی اور میوزک ڈائریکٹر ان سے کہتا کہ ’’فیاض صاحب! بول صحیح نہیں بیٹھ رہے، آپ مصرعے میں تبدیلی کر دیجیے‘‘۔ تو وہ فوراً وہ مصرعہ خود گا کر بتاتے کہ دھن یوں بنے گی، تب مصرعے فٹ ہوں گے، تو میوزک ڈائریکٹر حیران ہوکر انھیں دیکھتا اورکہتا ’’ہاں، بالکل آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں‘‘ اور بغیر مصرعوں کی تبدیلی کے گانا ریکارڈ ہوجاتا۔ ان کی اس منفرد اور قابل قدر خصوصیت کی بناء پر H.M.V نامی گراموفون کمپنی کے ڈائریکٹر بنا دیے گئے۔ وہی مشہورِ زمانہ گراموفون کمپنی جس کے ریکارڈوں کے درمیان سرخ رنگ کے دائرے پر ایک گراموفون اور اس کے آگے ایک کتّا بیٹھا نظر آتا تھا، یعنی ’’ہیز ماسٹر وائس‘‘۔ اور اس کے گیت گھر گھر بجتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ریکارڈ پر گلوکاروں کے بجائے فلم کے کرداروں کے نام ہوتے تھے۔ مشہور و مقبول فلم ’’محل‘‘ کے لازوال گیت ’’آئے گا آنے والا‘‘ پر گلوکارہ کا نام ’’کامنی‘‘ لکھا ہوتا تھا جوکہ فلم کی ہیروئن مدھوبالا کا نام تھا۔ بہت عرصہ بعد لتا جی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ چونکہ اس وقت وہ مشہور نہیں ہوئی تھیں، اس لیے H.M.V نے ہیروئن کا نام دیا۔

فیاض ہاشمی کا تعلق زمانۂ طالب علمی ہی میں اس گراموفون کمپنی سے ہوچکا تھا۔ اس وقت اس کمپنی کا راج تھا، ہر گلوکار چاہتا تھا کہ H.M.V اس کا گانا ریکارڈ کرے۔ مجھے بھی یاد ہے کہ ہوش سنبھالتے ہی جب ریڈیو گرام پر گیت اور غزلیں سننے کا اتفاق ہوا تو ہر ریکارڈ H.M.V ہی کا ہوتا تھا۔ اس کمپنی میں فیاض ہاشمی کی ملاقات ایک بہت بڑے موسیقار کمل داس گپتا سے ہوئی۔ ان دونوں کی جوڑی، خوب نبھی اور بڑے لازوال گیت تخلیق ہوئے۔ فیاض ہاشمی کا نام ہندوستان بھر میں ایک کم عمر گیت نگار کے طور پر پہچانا جانے لگا۔ ہر فلم ساز چاہتا تھا کہ اس کی فلم کے گیت فیاض ہاشمی ہی لکھیں۔ کمل داس گپتا اور فیاض ہاشمی کی جوڑی نے جگ موہن، طلعت محمود، جونتھیکا رائے، پنکج ملک اور ہیمنت کمار جیسے بڑے گلوکاروں کو موسیقی کی دنیا میں متعارف کرایا اور بے پناہ شہرت کا حامل بنایا، ان گلوکاروں کے مشہورگیتوں میں تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی، چودہویں منزل پہ ظالم آگیا، اِک نیا انمول جیون مل گیا، یاد دلواتے ہیں وہ یوں میرا افسانہ مجھے، ہونٹوں سے گل فشاں ہیں وہ، کے علاوہ طلعت محمود کی آواز میں بے شمار گیت اور غزلیں ہیں۔

اسی طرح پنکج ملک یہ راتیں یہ موسم یہ ہنسنا ہنسانا، ہیمنت کمار کا بھلا تھا کتنا اپنا بچپن، جگ موہن کا یہ چاند نہیں تیری آرتی ہے، جوتھیکا رائے ان ہی کی وجہ سے ’’بھجن کی شہزادی‘‘ قرار پائیں۔ جوتھیکا رائے کا ’’چپکے چپکے یوں ہنسنا‘‘ ہر موسیقی کے رسیا کو یاد ہوگا۔ 1948ء میں وہ پاکستان آگئے، انھوں نے گراموفون کمپنی سے مطالبہ کیا کہ ان کا ٹرانسفر لاہور کردیا جائے۔ کمپنی انھیں کھونا نہیں چاہتی تھی، انھیں روکنے کی بہت کوشش کی، مگر پاکستان کی محبت پر کوئی چیز غالب نہ آسکی۔ لہٰذا کمپنی نے انھیں H.M.V لاہور کا ڈائریکٹر بنادیا۔ وہ جب لاہور آئے تو یہاں ایک جلے ہوئے اسٹوڈیو اور چوکیدار کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا۔ فیاض صاحب نے اس کمپنی کو نئے سرے سے کھڑا کیا اور بے شمار فنکاروں کو اکٹھا کیا، جن میں منور سلطانہ، فریدہ خانم، زینت بیگم، سائیں اختر اور سائیں مرنا کے علاوہ اور بھی بہت سے فنکار تھے۔ 1956ء میں رائلٹی کی ادائیگی پر اختلاف کی بناء پر وہ کمپنی سے علیحدہ ہوگئے اور کراچی آگئے، لیکن 1960ء میں ایس ایم یوسف انھیں دوبارہ لاہور لے آئے اور وہ ان کے ادارے سے وابستہ ہوگئے۔ فیاض ہاشمی اسمِ بامسمیٰ تھے، وہ دل کے بھی فیاض تھے۔ اسی لیے جب وہ پاکستان آئے تو انھوں نے گلوکاروں کے ساتھ ساتھ استاد حسیب خاں ببن کار، استاد فتح علی خاں، استاد بڑے غلام علی خاں، استاد مبارک علی خاں، ماسٹر غیاث حسین اور استاد شریف خان پونچھ والے کو بھی گراموفون کمپنی میں ملازمت دلوائی۔ شاعر حزیں قادری اور مشیر کاظمی بھی انھی کے توسط سے کمپنی سے وابستہ ہوئے۔ ریاض شاہد کو بڑا مکالمہ نگار بنانے میں فیاض ہاشمی کی معاونت شامل ہے۔

فیاض ہاشمی نے تین شادیاں کیں، پہلی بیگم سے سات بچے ہیں، دوسری شادی اداکارہ کلاوتی سے کی جو مسلمان تھیں، ان سے ایک بیٹا تھا، تیسری بیگم سے چار بچے ہیں جو اپنی والدہ کے ساتھ امریکا میں مقیم ہیں۔ پچھلے سال 29 نومبر کو انھوں نے اس فانی دنیا سے رخصت لی اور بے شمار چاہنے والوں کو روتا چھوڑ گئے۔ اس سال 2012ء میں ان کی برسی کا دن خاموشی سے گزرگیا، فلمی دنیا کی روایتی بے حسی تو ایک مثال ہے کہ یہاں چڑھتے سورج کی پوجا کی جاتی ہے، لیکن پاکستان کی فلم انڈسٹری تو خود جاں بہ لب ہے۔ وہ کیا اپنے محسنوں کو یاد رکھے گی۔ شاید ان کے بچوں نے ایس بی جون کی گائی ہوئی یہ غزل بار بار سنی ہو:

تُو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔