سعودی عرب تنخواہیں نہ ملنے سے سیکڑوں پاکستانی فاقہ کشی پر مجبور

اوجرکمپنی کے بعض ملازمین 8 ماہ سے تنخواہوں سے محروم، میس بند ہونے سے خوراک کے حصول میں بھی مشکلات


News Agencies August 01, 2016
اوجرکمپنی کے بعض ملازمین 8 ماہ سے تنخواہوں سے محروم، میس بند ہونے سے خوراک کے حصول میں بھی مشکلات. فوٹو: فائل

سعودی عرب میں تنخواہیں نہ ملنے کے باعث سیکڑوں پاکستانی فاقہ کشی پر مجبور ہیں جب کہ پاکستانی سفارتخانے نے بھی مشکلات سے دوچار اپنے ان شہریوں کی معاونت کے لیے تاحال کسی قسم کے اقدام نہیں کیے۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی اوجر کمپنی کے سیکڑوں پاکستانی کارکن ان دنوں انتہائی کسمپری کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔ کمپنی کے بعض ملازمین کا کہنا ہے کہ انھیں گزشتہ 8 ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی اور اس کے ساتھ ستم ظریفی یہ ہے کہ کمپنی نے دمام، جدہ اور ریاض میں موجود کیمپوں میں اپنے میس بھی بند کر دیے ہیں جس سے کارکنوں کو کھانے پینے کی اشیا حاصل کرنے میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔

پاکستانی شہریوں کا کہنا ہے کہ انھیں گزشتہ 4 دن سے خوراک کی عدم دستیابی کے باعث انتہائی مشکلات درپیش ہیں اور فاقہ کشی پر بھی مجبور ہو چکے ہیں۔ کمپنی نے ان کی تمام سفری دستاویزات بھی ضبط کر رکھی ہیں ان کے ساتھ ساتھ اقامے بھی ختم ہو چکے ہیں جس کے باعث اپنے کیمپوں سے باہر بھی باہر نہیں جا سکتے ہیں جبکہ کیمپ میں بھی اشیائے ضرورت دستیاب نہیں ہیں۔ اگرفوری طور پر حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں اقدام نہ کیے تو کوئی بڑا انسانی سانحہ رونما ہوسکتا ہے۔

ان پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے متعدد بار پاکستانی سفارتخانے کو صورتحال سے آگاہ کیا لیکن سفارتخانے کی جانب سے محض تسلیاں دی جا رہی ہیں، عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ پاکستانی شہریوں نے وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے انھیں اس مشکل سے نجات دلائیں۔

بی بی سی کے مطابق سعودی عرب میں بہت سی کمپنیاں بند ہو گئی ہیں اور وہاں موجود کئی بھارتی بیروزگار ہو گئے ہیں یا پھر انھیں تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں 10 ہزار بھارتی شہری کھانے کی قلت کا شکار ہیں۔ انھوں نے سعودی عرب میں رہنے والے30لاکھ بھارتیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے انڈین بھائی بہنوں کی مدد کریں۔ بھارتی سفارتخانے کو بھی بیروزگار بھارتی کارکنوں کو مفت کھانا فراہم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

مقبول خبریں