ترک سفیر کی اسلام آباد چیمبر آمد کار کے ایشو کے حل پر زور

معاملہ پاکستان میں ترک سرمایہ کاری پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے، مصطفی بابر ہزلان


News Agencies December 02, 2012
ریلوے رابطے اور پروازیں بڑھا کر تعاون مستحکم کیا جاسکتا ہے، بزنس کمیونٹی سے خطاب ڈیزائن: جمال خورشید

KARACHI: پاکستان میں تعینات ترکی کے سفیر مصطفی بابر ہزلان نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے خیالات ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور دنیا میں دونوں ممالک کی دوستی کو مثالی سمجھا جاتا ہے۔

دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کی گنجائش بھی موجود ہے، ریلوے لائن بچھا کر اور مزید فلائٹس کا اجرا کر کے دونوں ممالک کے مابین تعاون کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے، ترکش ایئر لائن اور پاکستان ایئر لائن کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے ممالک میں پروازوں میں اضافہ کریں تاکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

یہ بات انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورے کے موقع پر تاجر برادری سے باہمی تجارت کے فروغ پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے ترک کمپنی کارکے معاملے پر تشویش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کارکے پاورپلانٹ کا ایشو پاکستان میں ترک سرمایہ کاری پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔

09

ترک سفیر نے معاملے کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جہاز میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ڈیوائسز لگے ہوئے ہیں جنھیں وقت گزرنے کے ساتھ نقصان پہنچ سکتا ہے، یہ ترکی پاکستان میں سب سے بڑی سرمایہ کاری تھی۔ استقبالیہ خطاب میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ظفر بختاوری نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے مابین برادرانہ اور مثالی دوستانہ تعلقات ہیں جن سے استفادہ کرتے ہوئے معاشی تعلقات میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے، پاکستان میںجب سیلاب اور شدید زلزلہ آیا تھا تو ترکی کی حکومت اور اس کی عوام نے متاثرین کی بھرپور مدد کی تھی اور اس کے علاوہ ترکی نے ہر مشکل گھڑی میں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

صدر آئی سی سی آئی نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے مابین سالانہ باہمی تجارت بہت ہی کم ہے جو اعدادو شمار کے مطابق سال 2011 میں صرف 1.8 ارب ڈالر تھی۔ انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی تجارت کو کم از کم 3 ارب ڈالر تک بڑھائیں تاکہ دونوں ممالک میں معاشی خوشحالی لائی جا سکے۔

10

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک خطے میں تجارتی گزرگاہ کے حوالے سے بہت اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یورپی ممالک کے ساتھ زیادہ تر تجارت ترکی کے راستے ہوتی ہے جبکہ مشرق وسطی کے ساتھ تجارت پاکستان کے راستے ہوتی ہے۔ ظفر بختاوری نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے مابین آزادانہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے نجی شعبے باہمی تجارت کو مزید فروغ دینے کیلیے تجارتی ہدف کو حاصل کر سکیں۔

صدر آئی سی سی آئی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکش ایئرلائن کو چاہیے کہ وہ پاکستان کیلیے اپنی پروازوں میں اضافہ کرے اور اسلام آباد سے استنبول کیلیے براستہ باکو براہ راست فلائٹس کا اجرا کرے، دونوں ممالک کے عوام کے مابین مضبوط روابط استوار کرنے کیلیے ایران کے راستہ پاکستان اور ترکی کے مابین ریلوے لائن بچھانے کی کوششوں کو تیز کیا جانا چاہیے۔