جب دل کے ستون ٹیڑھے ہو جاتے ہیں

ایک لفظ ہے مردہ پرستی، جو ہمارے ہاں اکثر بولا جاتا ہے۔ یہ ہم ’’مزار پرستی‘‘ کی بات نہیں کر رہے


Saad Ulllah Jaan Baraq August 02, 2016
[email protected]

ایک لفظ ہے مردہ پرستی، جو ہمارے ہاں اکثر بولا جاتا ہے۔ یہ ہم ''مزار پرستی'' کی بات نہیں کر رہے ، وہ تو مردہ پرستی نہیں ''مردہ فروشی'' ہوتی ہے۔ ہمارے ایک منہ پھٹ دوست کا کہنا ہے کہ یہ تو زیادتی بلکہ جعل سازی ہے کہ بزرگ تو اپنی عبادات کا صلہ جنت میں پا چکے ہوتے ہیں اور ان کی اولادیں عبادات کو یہاں بھی بیچتی رہتی ہیں۔ ایک ہی چیز کو دو دو مرتبہ بیچنا کہاں کا انصاف ہے، لیکن ہم اس ''مردہ فروشی'' کی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ اکثر شعراء و ادباء اور دوسرے لوگوں کی موت کے بعد جو قدر افزائی تقریبات اور اعزازات کی شکل میں ہوتی ہے ، اس کی بات کرنا چاہتے ہیں، بظاہر یہ کچھ غلط سی بات لگتی ہے اسی لیے اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ہم مردہ پرست لوگ ہیں، زندگی میں کسی کو گھاس تک نہیں ڈالتے لیکن جب وہ مر جاتے ہیں تو ان کو بانس پر چڑھانا شروع کر دیتے ہیں اور یہ بات سچ ہے، بالکل ایسا ہی ہے، پشتو کے ایک بزرگ شاعر تھے خادم بابا ۔ ان کا تو یہ شعر زبان زدعام ہے کہ

چہ ژوندے وم تا سو ویشتے وم پہ کانڑو
اوس مے سہ لہ خکلوئی د قبر کانڑی

(جب میں زندہ تھا تو تم مجھے پتھر مارتے تھے تو اب کیوں میری قبر کے پتھر چومتے ہو؟)َ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، بات کچھ اور ہے یہ مردہ پرستی نہیں بلکہ ایک فطری عمل ہے، انسان کی فطرت ایسی ہے کہ جو چیز اس کے پاس ہوتی ہے اس کی پروا نہیں کرتا ، آپ نے اکثر شعراء کی ایسی نظمیں اور غزلیں وغیرہ پڑھی یا سنی ہوں گی جن میں وہ اپنے بچپن کا یا جوانی کا نوحہ پڑھتا ہوا آنسو بہاتا ہے، اس طرح کی بہت ساری نظمیں ہمیں یاد ہیں۔ ہماری سلمیٰ شاہین کی مشہور نظم ہے کہ کاش میں ویسی چھوٹی ہوتی، اور بھی بہت ہیں جیسے آتا ہے یاد مجھ کو بچپن کا وہ زمانہ یا جگجیت سنگھ کا مشہور گانا کہ

یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو
بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی
مگر مجھ کو لوٹا دو وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی

پھر بڑی تفصیل کے ساتھ بچپن کی سنہری یادوں کا ذکر کیا ہے، یہ اس لیے نہیں کہ کسی کا بچپن واقعی سنہرا ہوتا ہے، سب کا بچپن اکثر بڑی سختیوں میں گزرتا ہے۔ بڑوں کی ناجائز سختیوں اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے ترسنا ہر ایک کا ڈانٹنا پھٹکارنا اور کام کرانا ۔مطلب یہ کہ بچپن کسی بھی لحاظ سے سنہرا نہیں ہوتا چونکہ چھن چکا ہوتا ہے اور جو چیز چھن جائے وہ خواہ مخواہ حسین ہو ہی جاتی ہے، مطلب یہ کہ یہ سارا محرومی کا کھیل ہے، جس چیز سے ہم محروم ہو جاتے ہیں وہ ہزار خوبیوں سے بھر جاتی ہے اور جو ہمارے پاس ہوتی ہے، اس کی کوئی پروا نہیں کرتا، ہمارے منو بھائی کا بھی ایک ٹکڑا ایسا ہے کہ جو بڑا مشہور ہے کہ

او وی خوب دیہاڑے سن
بھک لگدی سی، منگ لیندے ساں
مل جاندا سی، کھا لیندے ساں
نہیں ملدا تو رو پیندے ساں
اے وی خوب دیہاڑے نیں
بھک لگدی اے منگ نہیں سکدے
ملدا ہے تو کھا نہیں سکدے
نہیں ملدا تے رو نہیں سکدے
نہ رویئے تو سو نئیں سکدے

یہ سب کچھ محرومی نارسائی اور بے بسی کا شاخسانہ ہے۔ دور کے ڈھول سہانے والی بات بھی یہی ہے، سب سے بڑی اور اہم ترین چیز محبت یا عشق یا پیار بھی محرومی اور نارسائی ہی کا کھیل ہے۔ دو لوگ ایک دوسرے کے لیے جان دینے کو تیار رہتے ہیں لیکن اس وقت تک جب تک ملاپ نہیں ہو جاتا۔ شادی ہونے کے بعد سال بھر بھی گزرا نہیں کہ گھر کی مرغی دال برابر ہو جاتی ہے اور یار لوگ ۔۔۔ وہ جس کے لیے جاں دینے کو تیار تھا وہ زہر لگنے لگتی ہے لیکن یہ صرف ایک مرحلہ ہے، اگر وہ مر جاتی ہے تو اس کی ساری محبت پھر جاگ پڑتی ہے اور اس کی خوبیاں نکال نکال کر روتا اور کڑھتا رہتا ہے، اس سلسلے میں ہم اکثر گھرانوں میں دیکھتے ہیں کہ بوڑھے ماں باپ اپنی اولادوں کے لیے بوجھ بن جاتے ہیں۔

گھر میں ہوں تو بہوئیں مسجد کی طرف بھگاتی ہیں۔ اذان نہیں ہوتی تو بھی ... ابا اذان تو ہو گئی نماز کے لیے جانا نہیں کیا؟ بے چارا مسجد چلا جاتا ہے تو وہاں بھی لوگ کھسر پھسر کرتے ہیں کم بخت گھر میں ٹکتا ہی نہیں یہاں آکر کھانستا رہتا ہے لیکن یہی بیکار پرزہ جب مر جاتا ہے تو گھر میں تو خیر بہت زیادہ کمی محسوس کی جاتی ہے کہ یار ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ بزرگ اتنے کام کے ہوتے ہیں، پورے گاؤں کی شادی غمی سے ہم بے فکر تھے، اب سارا بوجھ ہم پر آپڑا ہے، اصل میں انسان ہے ہی ایسی چیز کہ جو چیز اس کے پاس نہ ہو یا ہاتھ سے جائے۔

بچپن اور جوانی بھی انھی چیزوں میں سے ہیں چاہے کسی کا بچپن اور جوانی کسی بھی کام کے نہ رہے ہوں لیکن اب اس سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاتا ہے اس لیے بارش کا پانی، کاغذ کی کشتی اور کہانی والی بڑھیا پڑوس آوارہ گردی حتیٰ کہ بڑوں کی مار پیٹ بھی سنہری ہو جاتے ہیں، اور اب جو عمر کا حصہ اس کے پاس ہے وہ اس کے پاس ہوتا ہے تو اس میں کوئی بھی خوشی یا کشش یا خوبی دکھائی نہیں دیتی ،کسی نے کیا خواب کہا ہے کہ

دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی
ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی
جو آکے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا
جو جا کے نہ آئے وہ جوانی دیکھی

ایسے بھی لوگ ہم نے دیکھے ہیں جو اپنی غربت کے دنوں کو یاد کر کے آہیں بھرتے ہیں اور اپنی موجودہ حالت میں سو کیڑے نکالتے ہیں ۔ وہ کیا دن تھے روکھی سوکھی کھا کر آرام سے بے غم ہو جاتے تھے اور اب یہ کیا مصیبت ہے، ہزار فکریں ہیں کہیں یہ نہ ہو جائے کہیں وہ نہ ہو جائے فلاں کام کے لیے اتنے کروڑ کی ضرورت ہے، بینک کا قرضہ بھی چکانا فلاں مال بھی وقت پر نکالنا، یہ نہ ہوا تو اتنا نقصان ہو جائے گا وہ ہوا تو اتنا خسارہ ہو جائے گا، بلکہ ہم نے تو ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو جیل میں ایک لمبی قید بھگت کر آئے تھے، وہ جیل کے ''سنہری دنوں'' کو یاد کرتے تھے۔

یار یہ کیا مصیبت ہے وہاں کوئی فکر نہیں تھی چاہے آٹا سو روپے کلو ہو جائے ہمیں تو حکومت نے کھلانا تھا بغیر دھوئیں کے آرام سے کھاتے اور بغیر بھاگے دوڑے آرام سے سو جاتے تھے، مطلب یہ ہے کہ احساس محرومی اور احساس زیاں ہی سب کچھ ہے۔ یہ کوئی عادت یا خوبی یا خامی نہیں ہے بلکہ انسان کی فطرت ہے کہ جو چیز پاس ہوتی ہے اس کی طرف دھیان نہیں ہوتا ہے لیکن جب کھو جاتی ہے، چھن جاتی ہے اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے جس کے دوبارہ پانے کا امکان ہی نہیں ہوتا تو دکھ تو ہوتا ہے اور یہ کوئی اداکاری یا بناوٹ نہیں ہوتی بلکہ سچ مچ کا دکھ ہوتا ہے، پشتو میں ایک ٹپہ ہے ۔کیا کمال کا ٹپہ ہے

اول مے فکر درتہ نہ وہ
اوس مے د زڑہ ستنے کگے درپسے دینہ

یعنی اول تو میرا دھیان ہی نہیں تھا تمہاری طرف ... لیکن اب میرے دل کے ستون تیرے پیچھے ٹیڑھے ہو گئے ہیں۔