مراد علی شاہ نئے چیلنجز
مراد علی شاہ 21 ماہ کے لیے وزیر اعلیٰ بن گئے۔
مراد علی شاہ 21 ماہ کے لیے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ بلاول بھٹو نے مراد علی شاہ کے اقتدار کے پہلے دن اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کسی وزیرکے کام میں مداخلت نہیں کریں گے۔ آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ بھی بلاول کے فیصلے کی پیروی کریں گی تو سندھ کی قسمت بدل جائے گی۔ اگلے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی اچھی طرز حکومت کے نعرے کی بنیاد پر حصہ لے سکے گی۔ پیپلز پارٹی کی چوتھی حکومت پچھلی حکومتوں کے مقابلے میں ایک مختلف حکومت ہے۔ پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت 20دسمبر 1971 کو قائم ہوئی تھی۔
پی پی پی کے چیئرمین ذوالفقارعلی بھٹو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے پھر عبوری آئین نافذ کرکے وہ صدر بن گئے اور مارشل لاء ختم کردیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے اپنے اساسی منشور پرعملدرآمد کرتے ہوئے زرعی لیبر، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بنیادی اصلاحات کا اعلان کرکے معاشرے کی ساخت کو تبدیل کردیا تھا۔ زرعی اصلاحات کے نتیجے میں بے زمین کسانوں کو زمینیں ملی تھیں اور بڑے جاگیرداروں کی زمینیں کم ہوگئی تھیں، لیبر اصلاحات کے ذریعے مستقل ملازمت، سرسری طور پر ملازمت سے برطرفی، یونین سازی کے حق کارخانوں کی پیداوار سے حاصل ہونے والے منافعے میں مزدوروں کے حق ،جیسے قوانین کو ترتیب دیا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی نے تعلیم اور صحت کو عام آدمی کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے انھیں ریاست کے فرائض میں شامل کیا تھا بھٹو حکومت ایک متنازع تحریک کے نتیجے میں ختم ہوئی اور جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کی اصلاحات کو ختم کردیا اور بھٹو صاحب کو قتل کے مقدمے میں پھانسی دے دی گئی۔ مگر پیپلز پارٹی کو نئی زندگی مل گئی پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنوں نے بھٹو کی جان بچانے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے تاریخی قربانیاں دیں قربانیاں دینے والوں میں بیگم نصرت بھٹو اور ان کی صاحبزادی بینظیر بھٹو بھی شامل تھیں۔
1988 میں پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت بنی۔ بینظیر بھٹو دنیائے اسلام کی پہلی وزیر اعظم بنیں۔ بینظیر حکومت اسٹیبلشمنٹ سے سمجھوتے کی بنا پر قائم ہوئی تھی یوں وہ بنیادی اصلاحات نہیں کرسکتی تھی اس حکومت میں ملی جلی معیشت کا تصورعام کیا اور بھارت سے دوستی کے لیے قابل قدر کوششیں کیں اس دور میں قائم علی شاہ پہلی بار سندھ کے وزیراعلیٰ بنے مگر ان کی حکومت ایم کیو ایم سے محاذ آرائی کی نذر ہوگئی۔اس وقت اسٹیبلشمنٹ ایم کیو ایم کے ساتھ تھی۔ بینظیر بھٹوکے شوہر آصف زرداری اور ان کے ساتھیوں کی حکومت میں مداخلت اسی دور میں شروع ہوئی۔ آصف زرداری مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے مشہور ہوئے، پہلی دفعہ پیپلز پارٹی کی حکومت پر سنجیدہ کرپشن کے الزامات لگے ۔
یہی وجہ تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کے پرانے ساتھی ملک معراج خالد، یحییٰ بختیار وغیرہ اس صورتحال سے مایوس ہونا شروع ہوئے۔ پیپلزپارٹی اس حکومت کو انیس مہینے کے اقتدار کے بعد صدر غلام اسحاق خان نے کرپشن کے الزام پر برطرف کردیا۔ بینظیر بھٹو نے تحریک استقلال کے ایئر مارشل اصغرخان کے ساتھ اتحاد کرکے نواز شریف کی حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک شروع کی ۔اس تحریک میں بعد میں نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا فضل الرحمان وغیرہ بھی شامل ہوگئے۔غلام اسحاق خان اور نواز شریف کے اقتدارکی جنگ میں دونوں اقتدار سے رخصت ہوئے۔
ڈاکٹر معین قریشی عبوری وزیراعظم بنے۔ انھوں نے پہلی دفعہ جامع انتخابی اصلاحات کیں پھر بینظیر بھٹو اقتدار میں آگئیں ۔ آصف علی زرداری وفاقی وزیر بن گئے ۔ اسی زمانے میں بینظیربھٹو اور زرداری کے بارے میں بدعنوانی کے اسکینڈل برطانوی اخبارات کی زینت بنے، اس وقت سندھ میں وزیراعلیٰ کے لیے عبداللہ شاہ نامزد ہوئے۔اس دور میں کراچی میں پولیس کا نظام معطل ہوا، ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کرنے والے کئی نامور پولیس افسر مارے گئے۔ پھر وفاقی وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے ایم کیو ایم کے خلاف مربوط آپریشن کی کمان سنبھالی۔ یوں حالات بہتر ہونے شروع ہوئے مگر مرتضیٰ بھٹو کے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد پیپلز پارٹی کے صدر فاروق لغاری نے بینظیر حکومت کو برطرف کردیا اور آصف زرداری گرفتار کرلیے گئے۔ بینظیر بھٹو دبئی اور لندن میں مقیم ہوئیں مگر عدالتوں میں یہ مقدمات ثابت نہ ہوئے۔
2005میں بینظیر بھٹو اور نوازشریف کے درمیان لندن میں میثاق جمہوریت ہوا، اگلے سال بینظیر بھٹو اورصدر پرویز مشرف نے قومی مصالحتی آرڈیننس NRO پر اتفاق کیا ۔بینظیر بھٹو ستمبر 2007میں طویل جلا وطنی کے بعد جب کراچی ایئرپورٹ پر اتریں تو لاکھوں افراد ان کے استقبال کے لیے موجود تھے، بینظیر بھٹوکو 27دسمبر 2007کو لیاقت باغ راولپنڈی میں مذہبی دہشت گردوں نے شہید کردیا۔ آصف زرداری شریک چیئر پرسن بنے۔ پیپلز پارٹی نے عام انتخابات میں اکثریت حاصل کی، پنجاب میں مسلم لیگ ن اور کے پی کے میں اے این پی کو اکثریت حاصل ہوئی۔ یوسف رضا گیلانی کو وزیرا عظم بنایا گیا، پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ کی مدد سے پرویز مشرف کو اقتدار سے بے دخل کیا، زرداری صدر بن گئے، قائم علی شاہ پھر وزیرا علیٰ سندھ بنادیے گئے۔ افتخار چوہدری نے پیپلز پارٹی کی حکومت کے لیے سخت مشکلات کھڑی کیں۔ صدر زرداری کا سب سے بڑا کارنامہ آئین میں کی گئی اٹھارہویں ترمیم ہے۔ انھوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے اختیارات ختم کیے اور صوبوں کو خود مختاری مل گئی مگر زرداری حکومت میں کرپشن کو نہ روک سکی۔
کراچی میں امن و امان کی صورتحال بد ترین ہوگئی۔ ایک سابق آئی جی واجد درانی نے سپریم کورٹ میں کراچی کے حالات پر ہونے والی سماعت کے دوران یہ حلفیہ بیان جمع کرایا کہ انھیں گریڈ سترہ اور اوپر کے عہدے پر تقرری اور تبادلے کے اختیارات نہیں ہیں۔ ایک ڈی آئی جی نے ایک ٹاک شو میں یہ انکشاف کیا کہ جب ایک ایس پی لاکھوں روپے دیکر اپنی نشست خریدے گا تو آئی جی پھرکیا کرسکیں گے۔یہی صورتحال تعلیم صحت بلدیات اور تمام شعبوں میں ہوئی۔ سابق وزیر تعلیم کے دور میں چپڑاسی سے ڈائریکٹر تک کی تمام پوسٹیں فروخت ہوگئیں ۔یہ بات عام ہوگئی کہ وفاق اور سندھ میں تمام پوسٹوں میں تقرری کے لیے لاکھوں روپے کی ادائیگی لازمی ہے ۔
اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلا کہ پیپلز پارٹی 2013کے انتخابات میں صرف اندرون سندھ تک محدود ہوگئی مگر زرداری صاحب کی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی۔ بد ترین طرز حکومت کی بنا پر کراچی سمیت سندھ کے تمام شہر کوڑے دانوں میں تبدیل ہوئے، ٹارگٹ کلنگ کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ کراچی شہر میں پانی کی قلت پیدا ہوئی، پبلک ٹرانسپورٹ ختم ہوگئی۔ اس صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ اور سابق وزیر بلدیات گزشتہ چھ ماہ سے کراچی شہر کی صفائی کے لیے ڈیڈ لائن دے رہے ہیں مگر کوڑا اٹھانے والا کوئی نہیں اور اب کراچی میں کوڑے کا مسئلہ تو میڈیا کے ٹاک شوز میں قومی مسئلہ بن گیا ہے۔2007میں کراچی کے سول اسپتال میں ٹراما سینٹر بننا شروع ہوا تھا قائم علی شاہ نے اس کا نام بینظیر بھٹو سے منسوب کیا مگر دس سال گزرنے کے باوجود یہ ٹراما سینٹر مکمل طور پر کام نہ کرسکا۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران سندھ کی تین یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کی تقرریوں کا معاملہ حل نہ ہوسکا۔ سندھ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بین الاقوامی انڈیکیٹر کے مطابق نیچے چلا گیا۔
کراچی شہر میں گزشتہ سال گرمی کی لہر میں 2000افراد ہلاک ہوئے مگر حکومت کو صورتحال کی بہتری کا خیال نہیں آیا مگر اس دور کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ قائم علی شاہ اور ان کے بچوں پرکرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا۔ ان کی سی ایس پی افسر بیٹی اور داماد کو صوبے کو چھوڑ کرجانا پڑا مگر قائم علی شاہ کے کئی وزراء کو کرپشن کے الزام میں جیل جانے سے بچنے کے لیے بیرون ملک پناہ لینی پڑی۔ اس طرح کئی افسران یورپ امریکا میں جاکر چھپ گئے۔کہاجاتا ہے کہ قائم علی شاہ رینجرز کے اختیارات کا معاملہ طے نہیں کرپائے مگر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بلاول بھٹو قائم علی شاہ سے مایوس ہوئے تھے۔ یوں ایک نسبتا جوان مراد علی شاہ کو سندھ کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ مراد علی شاہ اچھی طرز حکومت پر یقین رکھتے ہیں مگر جب تک انھیں مکمل خود مختاری نہیں ہوگی وہ کوئی بنیادی کام نہیں کرپائیں گے۔
سندھ اس وقت سیاسی اور انتظامی تنازعات کا شکار ہے، انتظامی تنازعات تو وزیرا علیٰ کی کوششوں سے حل ہوسکتے ہیں مگر ایک اہم مسئلہ ایم کیو ایم سے بات چیت کا ہے۔ ایم کیو ایم کو سندھ حکومت کاحصہ ہونا چاہیے، پھر بلدیاتی اداروں کو با اختیار ہونے کا معاملہ بھی اہم ہے مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ مراد علی شاہ آزادی سے اپنے فرائض انجام دیں گے۔انھیں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کے طرز حکمرانی کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہیے۔