رینجرز اختیارات پر اتفاق رائے کی ضرورت
رینجرز تین عشرہ سے سندھ میں موجود ہیں ، اب اس مسئلہ پر سیاست نہیں ہونی چاہیے یہ سندھ کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے
رینجرز اختیارات کی جنگ کا تسلسل سندھ کے مفاد میں نہیں ہے، فوٹو : فائل
سندھ میں رینجرز کے قیام اور اختیارات کا فیصلہ بظاہر ہوچکا ہے جب کہ حکومت سندھ کے نوٹیفکیشن کے مطابق رینجرز کے سندھ میں ایک سال قیام جب کہ اختیارات میں 90 دن کی توسیع کی گئی ہے تاہم وفاقی وزارت داخلہ نے صرف کراچی کے لیے رینجرز کو خصوصی اختیارات دینے سے متعلق سندھ حکومت کی سمری مسترد کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو واپس کر دی جس پر سندھ اور وفاقی حکومت کے درمیان ایک بار پھر تنازع کھڑا ہو گیا ہے جو تشویش ناک ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاملات کو شفاف طریقہ اور بردباری سے حل کرنے کے لیے فریقین ایک پیج پر نہیں ہیں۔
یوں یہ بدنصیبی ہوگی کہ سندھ دہشتگردی، جرائم ، کرپشن،انتظامی مسائل میں الجھتا اور سلگتا رہے اور ارباب اختیار میں مفاہمت ، خیر سگالی اور آپریشن پر اتفاق رائے اک خواب پریشاں بن جائے۔ اب کس سے گلہ کیجیے کہ معاملہ آرزو صبر طلب اور تمنا بے تاب جیسی ہے، جس صوبہ کو امن چاہیے وہاں ارباب بست وکشاد اختیارات کے مسئلہ پر دست وگریباں ہیں۔
اس بار رینجرز کو اختیارات صرف کراچی تک دینے کا فیصلہ ہوا جو معنی خیز اور بحث طلب ہونے کے باوجود جلد تصفیہ کا متقاضی ہے اورجو بھی فیصلہ اور مفاہمت ہو اس سے کراچی آپریشن متنازع نہیں بننا چاہیے جب کہ باہمی چپقلش مجرموں کو تقویت مہیا کریگی اور وہ سندھ کے عوام کا جینا حرام کردیں گے۔ دوسری بات جرائم کے گٹھ جوڑ کے خاتمہ کی ہے، رینجرز تین عشرہ سے سندھ میں موجود ہیں ، اب اس مسئلہ پر سیاست نہیں ہونی چاہیے یہ سندھ کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ سندھ حکومت اور وفاق میں مصالحت ناگزیر ہے ، رینجرز کے قیام و اختیارات پر سندھ وفاقی وزارت داخلہ سے افہام و تفہیم کا جلد معاملہ کرے۔ کسی بند گلی میں جانے کی ضرورت نہیں۔ سندھ کی نئی انتظامیہ متفقہ آپریشن اور رینجرز کے کردار ، قیام و اختیارات کے حوالہ سے فضا کو سازگار بنائے۔
حقیقت یہ ہے کہ وفاق ، سندھ حکومت اور رینجرزکے مابین کراچی آپریشن کے تناظر میں اتفاق رائے نہ صرف وقت کا تقاضا ہے بلکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن جیسے حساس ایشو پر محاذ آرائی اور نئی قانونی موشگافیوں سے ماحول کو خراب کرنا دانشمندانہ طرز عمل نہیں ہے، اس مسئلہ پر سندھ حکام، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کے بیانات سے معاملات پھر سے پینڈورا بکس کھلنے کی طرف جا سکتے ہیں، مبصرین کا کہنا ہے کہ سندھ میں کراچی جیسے آپریشن کے حالات نہیں، ایم کیو ایم کراچی میں رینجرز کو کارروائی کا اختیار دینے کے حق میں نہیں، پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ وزارت داخلہ کو سمری رد کرنے کا اختیار نہیں، مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ آپریشن پورے سندھ تک بڑھانے کا مقصد سندھ حکومت کی اتھارٹی کو ختم کرنا ہے۔
انھیں وزیر داخلہ کی جانب سے ''دوسرے آپشنز'' کے استعمال پر بھی اعتراض ہے۔ پیپلز پارٹی کا انداز نظر رینجرز کو سندھ بھر میں آپریشن کی اتھارٹی استعمال کرنے کے سوال پر قدرے مختلف ہے ، سندھ حکومت کے ذرایع اس تاثر کو بھی ابھارتے ہیں کہ پورے سندھ میں رینجرز کا آپریشن سندھ حکومت کی ناکامی ہوگی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کراچی اور سندھ کی تخصیص کیوں کی جا رہی ہے، جرائم پیشہ عناصر جسد سیاست سے وابستہ ہوں، ان کی حیثیت عسکری ونگز جیسی ہو یا سندھ اور کراچی شہر میں دہشتگرد ، ٹارگٹ کلرز ، بھتہ خور اور سٹریٹ کرمنلز کا دیدہ دلیری سے قانون کی حکمرانی کا مذاق اڑانا اور لاقانونیت کو فروغ دینا ہو ، حکومت کا فرض ہے کہ اس کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ان عناصر سے سختی سے نمٹیں اور امن قائم کریں۔اگر کراچی میں آپریشن سے سندھ حکومت کی رٹ متاثر نہیں ہوتی تو سندھ بھر میں کارروائی سے حکمرانی کیسے خطرہ میں پڑسکتی ہے، اس تضاد سے بچنا چاہیے اور معاملات کو خوش اسلوبی سے طے پاجانا چاہیے۔ سندھ پولیس سیاسی دباؤ کا شکار ہے، عدلیہ اس بات پر رولنگ دے چکی ہے۔
پولیس سسٹم میں سیاسی مداخلت کا زہر بھرا ہے، ایسی صورتحال میں کراچی کو تباہی سے بچانے اور جرائم و دہشتگردی کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے رینجرز نے جو اہم کردار ادا کیا ہے اسے سندھ حکومت سمیت وفاق اور سول سوسائٹی بھی سراہتی ہے۔ اس مرحلہ میں جرائم کی شرح میں سندھ اور پنجاب کا تقابلی جائزہ پیش کرنا مناسب نہیں، رینجرز اختیارات کی جنگ کا تسلسل سندھ کے مفاد میں نہیں ہے، وفاقی وزارت داخلہ چاہتی ہے کہ رینجرز کو پورے سندھ کے لیے انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت اختیارات دیے جائیں تاکہ دہشتگردوں، جرائم پیشہ افراد اور ٹارگٹ کلرز کی گرفتاریاں عمل میں لائی جا سکیں اور آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ امید کی جانی چاہیے کہ نئے وزیراعلیٰ سندھ رینجرز کے اختیارات کے ضمن میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا نہ صرف ازالہ کریں گے بلکہ وفاق اور سندھ دونوں کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے عزم و عمل کی ایک ہی کشتی میں سوار ہونگے۔