شہدائے پولیس

مغرب والے اور یونانی اسے ’’سائرس‘‘ کہتے ہیں اور عرب اسے کخیرو کے نام سے جانتے ہیں،


Saad Ulllah Jaan Baraq August 04, 2016
[email protected]

پولیس کا یوم شہداء منایا جارہا ہے ایک طرح سے یہ رسمی سی تقریب لگتی ہے لیکن اسے رسمی تقریب نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ صحیح معنوں میں ''شہیدوں'' کا دن کہنا چاہیے، ویسے تو ''شہید'' کا یہ لفظ اتنا زیادہ سستا اور کثیر الاستعمال ہو گیا ہے کہ چوروں، غنڈوں اور بدمعاشوں کے لیے بھی کم از کم ان کے لواحقین استعمال کرنے لگے ہیں لیکن پولیس کے شہید اس لیے واقعی شہید کہلانے کے مستحق ہیں کہ جس جنگ میں وہ شہید ہو رہے ہیں یہ جنگ نہ ان کی ہے نہ انھوں نے شروع کی ہے اور نہ ہی ان کی وجہ سے شروع ہوئی کیوں کہ پولیس کی ذمے داری چھوٹے پیمانے پر شہری معاملات تک ہوتی ہے بڑے اور بین الاقوامی معاملات سے پولیس کا اپنا کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن جب یہ معاملات شہر اور شہریوں تک پہنچ جاتے ہیں تو لازماً پولیس کو بھی ان میں شامل ہونا پڑتا ہے۔ پولیس کا لفظ اپنی بنیادوں میں ایک ایشیائی لفظ ہے اور اس کا مادہ فارسی کی اس قدیم شکل سے نکلا ہے جیسے کوئی ژند کہتا ہے کوئی اوستا، وہ بھی اس لیے کہ پارسیوں کی مذہبی کتاب جو اسی زبان میں تھی ''ژند اولستیا'' کہلاتی ہے، مسیح سے لگ بھگ چھ سو سال پہلے پارس یا موجودہ ایران میں ایک عظیم شخصیت نے جنم لیا جسے ''کورش'' بھی کہا جاتا ہے۔

مغرب والے اور یونانی اسے ''سائرس'' کہتے ہیں اور عرب اسے کخیرو کے نام سے جانتے ہیں، صحیح معنوں میں اسے تاریخ کا سب سے پہلا بڑا فاتح اور بادشاہ مانا جاتا ہے، ہمارے زیادہ تر مستند مفسرین قرآن اسے وہی شخص مانتے ہیں جسے ذوالقرنین کے نام سے ذکر کیا گیا ہے، قدیم کتابوں میں ''ذوالقرنین'' کا اطلاق سکندر پر بھی کیا جاتا رہا ہے لیکن جدید تحقیق کے مطابق قرین قیاس ہے کہ قرآن کا ذوالقرنین یہی کورش یا سائرس تھا کیوں کہ سکندر یونانی ایک قطعی کافر مشرک بلکہ خود کو دیوتا یا دیوتا کا بیٹا کہتا تھا جب کہ کورش کے دین کے بارے میں تو یقینی طور پر نہیں بتایا جا سکتا لیکن وہ پہلا بادشاہ اور فاتح تھا جس نے کسی مذہب والوں کو نہیں ستایا تھا اور اس کی سلطنت میں کسی پر کوئی مذہبی پابندی اور ظلم و تشدد نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی اس نے اپنے کسی مفتوح بادشاہ کو یا اس کے خاندان کو قتل کیا تھا، عام خونریزی بھی اس نے سوائے لڑائیوں کے کبھی نہیں کی تھی، نہایت انصاف پسند اور رحم دل تھا اس لیے ذوالقرنین کا خطاب اس کے لیے بجاطور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ذوالقرنین کا لغوی مطلب عربی میں ''دو سینگوں والا'' ہے جو شخص چند خاص ستاروں کے ملن کے وقت پیدا ہوتا ہے اسے ذوالقرنین کہا جاتا ہے، لیکن قرآن میں دو سینگوں کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف اگر اس کی حکومت یورپ میں یونان تک پھیلی ہوئی تھی تو دوسری طرف ایشیاء میں ہند تک وسیع تھی لیکن اس کا ایک سینگ یورپ میں اور دوسرا ایشیاء میں تھا، یہ بات قرآن میں بھی کہی گئی ہے کہ وہ مغرب میں اس مقام تک پہنچ گیا تھا جہاں سورج پانی میں غروب ہوتا ہے اور یہ بحر اسود ہے جس کے قریب اس نے میڈیا کو فتح کیا تھا، اس نے میڈیا کے بادشاہ کو آگ کی چتا پر بٹھا دیا تھا لیکن پھر رحم کھا کر اسے اتار دیا کہ سزا دینا میرا کام نہیں ہے بلکہ اس بادشاہ کو اپنا مشیر بنایا جو کورش کی موت تک زندہ اور اس کا مشیر تھا۔ ہمارا مقصد تاریخ نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ اپنے دور میں اس نے ''پارسا گرد'' نامی شہر کو اپنا دارالحکومت بنایا جو بعد میں ''پرسی پولیس'' کہلایا، اس زبان میں پولیس کے معنی سٹی یا شہر کے ہوتے ہیں، پرسی پولیس ایک بہت بڑا اور بین الاقوامی شہر بن گیا تھا اور کورش تو اکثر دور دور جنگوں میں مصروف رہتا تھا۔

مشہور زمانہ بابل کو بھی اس نے فتح کیا تھا اور بحیرہ کیسپئین کے قریب وہ مشہور دیوار بھی بنائی جو وحشی قبائل گاگ می گاک یا یاجوج ماجوج کو روکنے کے لیے تھی، جس کا تفصیلی ذکر قرآن اور تفاسیر میں آتا ہے چنانچہ شہر کا انتظام سنبھالنے کے لیے اس نے اپنی باقاعدہ فوج سے الگ ایک سول فورس بنائی تھی جو اسی شہر پرسی پولیس کی وجہ سے پولیس کہلائی اور یہی نام پھر ساری دنیا میں پھیل گیا۔ یہ تفصیل ہم نے اس لیے عرض کی کہ پولیس قطعی ایک غیر جنگی اور خالص شہری فورس ہوتی ہے چنانچہ اس کے وسائل بھی اتنے ہی ہوتے ہیں جو معمولی شہری تنازعات یا جھگڑوں وغیرہ کو روکنے کے لیے ضروری ہوں۔

بڑی بڑی جنگوں اور معاملات میں نہ تو پولیس کو ملوث کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان سے نپٹنے کی ذمے داری پولیس کی ہوتی ہے لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم ایک ایسی جنگ میں ملوث ہو گئے ہیں جو ہماری تھی ہی نہیں اور نہ ہی اب ہے لیکن چونکہ غلط تدبیری غلط سلط فیصلوں اور غلط سلط ''لالچوں'' سے یہ پرائی جنگ ہمارے آنگن کی جنگ بن گئی اور اس میں سول آبادی بھی زد پر آگئی اس لیے لازماً پولیس کو بھی اس میں شامل ہونا پڑا کیوں کہ اپنے شہریوں کی ذمے داری تو ان کو نبھانا پڑتی ہے، حالانکہ دیکھا جائے تو اس میں اس جنگ کے غائب فریق نے بڑی زیادتی اور بے انصافی کی ہے، پولیس کا تو کام ہی شہریوں کی مدد کو پہنچنا اور شہریوں کی مدد کرنا ہوتا ہے نہ اسے نظریات سے کوئی واسطہ ہوتا ہے نہ سیاسیات سے اور نہ کسی فریق کے مفادات سے، اسے تو ہر اس مقام پر پہنچنا ہوتا ہے جہاں عوام کی جان اور مال کو خطرہ ہو۔

امن کو نقصان پہنچ رہا ہو، چاہے فریقین کوئی بھی ہوں ان کو تو اپنے کام سے غرض ہوتی ہے، اگر اسے کبھی کوئی ہتھیار اٹھانا بھی پڑتا ہے تو بغیر کسی پہچان یا ذات و نسل یا پارٹی اور فریق کے ... صرف اس کے خلاف جو شہریوں کو نقصان پہنچا رہا ہو یا امن کا دامن پارہ کر رہا ہو، زخمی کوئی بھی ہو اسے امداد پہنچانا ہوتا ہے ایسے میں ان بے چاروں کو فریق مان کر بغیر کسی وجہ کے مارنا کس دین میں جائز ہے، بہرحال اس پر تو نہ ہمارا بس چلتا ہے نہ زور ... لیکن یہ اعتراف تو کر سکتے ہیں کہ پولیس کو خواہ مخواہ اور اس جنگ سے ذرا بھی تعلق نہ ہونے کے باوجود مارا جاتا ہے، اوپر سے دوسری بدقسمتی یہ ہے کہ موقع اور صورت حال کچھ ہو ''شہر'' کسی کا بھی پیدا کردہ ہو پولیس کو وہاں پہنچنا لازم ہوتا ہے۔

باقی لوگ تو حالت جنگ میں ہیں اور حفاظتی انتظامات کر سکتے ہیں یا حفاظتی انتظامات کے اندر محفوظ و مامون بیٹھ سکتے ہیں لیکن پولیس ایسا نہیں کر سکتی اسے تو جلتی آگ میں بھی کودنا پڑتا ہے چنانچہ ان بے چاروں کا نقصان بھی زیادہ ہوتا ہے اور ہوا بھی ہے، ظلم کی بات تو یہ ہے کہ نہایت کم نفری، کم وسائل، کم اختیارات اور کم حفاظت کے باوجود اس کا اتنا رف استعمال کیا جاتا ہے کہ ترس آجاتا ہے، وزیروں، افسروں، لیڈروں کی حفاظت بھی ان کو کرنا پڑتی ہے جو سارے فساد کی جڑ ہوتے ہیں، بینکوں کی حفاظت بھی ان کے ذمے، گھروں کی حفاظت بھی ان کے ذمے، ذاتی اور سرکاری املاک کی حفاظت بھی ان کے ذمے، وہ ایک شعر یاد آگیا، مشہور قصہ فتح خان رابعہ کا ایک شعر ہے اور اس شعر پر یکسوئی اور ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کے بعد کچھ اور کہنے سننے کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ

دا کرمے ڈم ہر گز د بدو نہ آوڑی

چہ چرتہ بدوی د ''فتحے'' سرتہ بہ ئے راوڑی

ترجمہ اس کا یہ ہے کہ یہ کرم ڈم (میراثی) ہرگز ہرگز برائی سے باز نہیں آتا، اور جہاں بھی برائی ملتی ہے اسے لا کر فتح خان کے سر مڑھ دیتا ہے۔