عوامی قیادت عوامی بستیوں سے

اگر 2018ء کے الیکشن خطرات کی زد سے نکل جاتے ہیں تو پھر 2013ء کا کھیل دوبارہ شروع ہو جائے گا


Zaheer Akhter Bedari August 08, 2016
[email protected]

پانامہ لیکس کے حوالے سے جو طوفان اٹھایا گیا تھا وہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کی اکثریت اس قدر آگے جانے کے لیے تیار نہیں جہاں ''میرے عزیز ہم وطنو!'' سامنے آ جاتا ہے، صرف دو جماعتیں تحریک انصاف اور طاہرالقادری کی عوامی تحریک میرے عزیز ہم وطنوں تک جانے کے لیے تیار نظر آتی ہیں۔ اس تفریق یا نظریاتی بُعد کی وجہ سے پانامہ لیکس ٹائیں ٹائیں فش ہو کر رہ گیا۔

اب عمران خان اور طاہر القادری تحریک کے لیے پَرتول رہے ہیں لیکن اس کی کامیابی کے امکانات اس لیے کم ہیں کہ عمران خان اب بھی پانامہ لیکس کا پرچم تھامے ہوئے ہیں اور طاہر القادری کی ترجیح 2014ء کے شہدا کا قصاص ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ہی مسئلے اپنی جگہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں لیکن سوال یہ آن پڑا ہے کہ ''اسٹیٹس کو'' کی حامی جماعتیں کسی قیمت پر ''جمہوریت'' کا در کراس کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ ان کا دانہ پانی جمہوریت سے وابستہ ہے۔

اگر خدانخواستہ جمہوریت کی بھینس پانی میں جاتی ہے تو جمہوریت کے عاشقین نہ صرف بے روزگار ہو جائیںگے بلکہ پکڑ دھکڑ اور کھایا پیا نکالو کی زد میں بھی آ سکتے ہیں۔ چونکہ فی الوقت جمہوریت کی جان نواز شریف کے طوطے میں اٹکی ہوئی ہے۔ لہٰذا جمہوریت پسند نواز شریف کو بھی کسی خطرے میں نہیں دیکھ سکتے جب کہ عمران خان اور طاہر القادری نواز شریف سے جان چھڑانا اپنی پہلی ضرورت سمجھتے ہیں۔

اگر عمران خان اور طاہر القادری کی تحریکوں سے ''جمہوریت'' کو خطرہ لاحق ہو گیا تو جس طرح 2014ء میں تیرہ سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ میں دھرنا لگایا تھا اسی طرح دوبارہ دھرنا لگا سکتی ہیں۔ یوں سیاسی طاقت دو حصوں میں بٹ جائے گی اور کوئی تحریک ''جمہوریت'' کے لیے خطرہ نہیں بن سکے گی۔ اور عمران خان اور طاہر القادری کی کامیابی کے امکانات معدوم ہو جائیںگے۔ پھر طاقت کے مراکز سے بھی جمہوریت کی حمایت کے سگنل مل رہے ہیں۔ لہٰذا ''اسٹیٹس کو'' برقرار رہے گا۔یہ وہ پس منظر ہے جس کی وجہ سے حکمران جماعت یکسوئی کے ساتھ 2018ء کی تیاریوں میں لگی ہوئی ہے۔

حکمران جماعت اچھی طرح جانتی ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بے نکیل مہنگائی دو ایسے ایشو ہیں جو اس کی جان کو اٹکے ہوئے ہیں، مہنگائی چونکہ سرمایہ دارانہ نظام سے جڑی ہوئی ہے اس لیے حکومت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ البتہ بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پانا ممکن ہے۔ سو 2018ء کا ٹارگٹ پورا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت پوری یکسوئی کے ساتھ اس ٹارگٹ کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حکومت سمجھتی ہے کہ 2018ء تک اگر اس نے بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پا لیا اور اقتصادی راہداری کے پروگرام میں تسلی بخش پیش رفت ہوئی اور ساتھ ساتھ مختلف موٹر وے اور اورنج ٹرین جیسے منصوبے آگے بڑھے تو 2018ء کے انتخابات سر کرنا اس کے لیے مشکل نہ رہے گا۔ حکومت اس گائیڈ لائن کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

ادھر صورت حال یہ ہے کہ عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی، ٹارگٹ کلنگ، بڑھتی ہوئی بے روزگاری وغیرہ کی وجہ سے سخت نالاں بلکہ مشتعل ہیں اور اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مشتعل عوام کسی مرحلے میں عمران اور طاہر القادری کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ اگر ایسا ہوا تو پھر ایمپائر انگلی اٹھائے یا نہ اٹھائے، عوام کی انگلی اٹھنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو حکومت کی 2018ء فتح کرنے کی حکمت عملی پانی میں جا سکتی ہے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ جمہوریت کتنے گہرے پانی میں چلی جائے گی؟

عمران خان اور طاہر القادری بلاشبہ سیاسی طاقت رکھتے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی پاکستان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں اور کوئی واضح حکمت عملی اپنانے سے قاصر ہیں۔ اگر حکومت کی مضبوط پروپیگنڈہ مشنری اور اس کے ٹارگٹ پورے ہو جاتے ہیں تو پھر 2018ء کے الیکشن ممکن ہو سکتے ہیں۔

اگر 2018ء کے الیکشن خطرات کی زد سے نکل جاتے ہیں تو پھر 2013ء کا کھیل دوبارہ شروع ہو جائے گا، حکومت اپنی پوری طاقت اور وسائل کے ساتھ انتخابات کے میدان میں اترے گی۔ پیپلزپارٹی بدقسمتی سے اپنی جواں سال قیادت اور بلند بانگ دعوؤں کے باوجود عوام میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی، جس کا اندازہ آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج سے لگایا جا سکتا ہے، اس صورتحال میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک ہی 2018ء کے انتخابات میں حکومت کے حریف رہیں گے اور جو بھی ہو اسٹیٹس کو برقرار رہے گا اور چہروں کی تبدیلی کے ساتھ وہی قوتیں عوام کے سروں پر سوار رہیںگی جو 69 سال سے عوام پر مسلط ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا قانون ساز اداروں میں عوام کے حقیقی نمایندوں کے پہنچنے کے امکانات ہیں؟ اس سوال کا جواب نفی ہی میں اس لیے آتا ہے کہ ہمارا انتخابی نظام عوام کو اپنے نزدیک ہی آنے نہیں دیتا۔ انتخابی اصلاحات کا پروپیگنڈا اگرچہ جاری ہے لیکن اس قسم کی اصلاحات ''اسٹیٹس کو'' کو نہیں توڑ سکتیں اور وہی چہرے قانون ساز اداروں میں دوبارہ جگمگانے لگیںگے جن کی سفاک روشنی سے 69 سال سے عوام کی آنکھیں چندھیائے جا رہی ہیں۔ ہم نے اس صورتحال سے بتدریج باہر نکلنے کے لیے عوامی قیادت، عوامی بستیوں سے نکالو کا ایک مشورہ دیا تھا۔

اگرچہ عوام میں اس کا ردعمل مثبت دیکھا جا سکتا ہے لیکن جب تک یہ مہم منظم اور موثر انداز میں عوامی سیاست کرنے والے محب عوام سیاسی طاقتیں نہیں چلائیںگی اور اس حوالے سے ایک منصوبہ بند پروگرام کے تحت کام نہیں کریںگی عوامی قیادت عوامی بستیوں سے کا خواب پورا نہیں ہو گا۔ ٹریڈ یونین، سول سوسائٹی، طلبا تنظیمیں اور پیشہ ورانہ تنظیمیں اگر متحد ہو کر عوامی قیادت عوامی بستیوں سے کے پروگرام پر عمل پیرا ہوں تو اس کے مثبت نتائج نکل سکتے ہیں۔

مقبول خبریں