دہشتگردوں کے سہولت کار نیا خطرہ

خطے میں پاکستان مخالف عالمی قوتوں نے درپردہ گھناؤنا کھیل شروع کردیا ہے


Editorial August 10, 2016
وقت آگیا ہے کہ وطن عزیز کے خلاف بدی کے علاقائی محور کا محاصرہ کیا جائے اور ساتھ ہی اندر کے دشمن اور آستینوں کے سانپوں کی بھی خبر لی جائے ۔ فوٹو: آئی ایس پی آر/فائل

لاہور: وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو خطوط لکھتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی شدید اور مسلسل خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کوششیں کی جائیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کیا جائے جب کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ملک میں دہشتگردوں اور ان کے سلیپر سیلز کے خاتمے کے لیے بھرپور قوت سے ٹارگٹڈ آپریشنز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ میں عدلیہ پر دہشتگردوں نے بزدلانہ حملہ کیا جو ضرب عضب کی کامیابیوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، مسلح افواج پوری قوم کی مدد سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں حاصل ثمرات ضایع نہیں ہونے دے گی۔

منگل کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیرصدارت جنرل ہیڈکوارٹرز میں کور کمانڈر کانفرنس ہوئی جس میں سانحہ کوئٹہ کے متاثرہ خاندانوں اور زخمیوں سے اظہار ہمدردی کیا گیا اور شرکا کو ملک کی مجموعی خارجی و داخلی صورتحال اور جاری آپریشنز پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے عالمی برادری سے کہا کہ بھارتی فوج کی فائرنگ سے 50 سے زائد افراد شہید، 3500 زخمی ہو چکے ہیں جن میں سے 400 کی حالت نازک ہے، فائرنگ سے بہت سے معصوم کشمیریوں کی آنکھیں ضایع ہوئیں، بھارت کا یہ ظلم و ستم ناقابل قبول ہے۔ بھارت کشمیر شورش کو دبانے کے لیے غیر اخلاقی ہتھکنڈوں سمیت خطے کے امن کو تہہ و بالا کرنے کے لیے افغانستان کا کندھا استعمال کررہا ہے۔

ارباب اختیار کو باور کرایا گیا کہ غیر ملکی دخل اندازی اور دہشتگردی کی کارروائیوں میں دشمن کو داخلی سہولت کاروں کی معاونت حاصل ہے، اس ادراک حقیقت کے پیش نظر سخت محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور کوئٹہ سمیت کراچی، اندرون سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کومبنگ آپریشن میں تیزی لانا اشد ضروری ہے۔

یہ امر خوش آیند ہے کہ ملک کو دہشتگردی اور خطے میں غیر ملکی عناصر کی ریشہ دوانیوں کے سدباب کے لیے وزیراعظم نے اہم اجلاسوں کی سربراہی کی ، ان کا یہ کہنا صائب ہے کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت کی عدم فراہمی اقوام متحدہ کی ناکامی ہے، اور بان کی مون کو یاددہانی کے خطوط ارسال کرنے کا مقصد کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم پر عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے۔لیکن وزیراعظم یہ ضرور سوچیں کہ صورتحال قومی سطح پر سیاسی و عسکری قیادت سمیت پوری قوم کے لیے انتہائی چیلنجنگ ہے، خطے میں پاکستان مخالف عالمی قوتوں نے درپردہ گھناؤنا کھیل شروع کردیا ہے اور پاکستان کے اقتصادی اور سلامتی سے متعلق مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے افغان ، بھارت سازش کے ذریعے جنگ کی نئی آگ بھڑکانے کی ملی بھگت ہوئی ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے قومی سلامتی کے حوالے سے بھی ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ کس طرح دہشتگرد تنظیمیں آسان اہداف پر حملہ کر رہی ہیں۔ دریں اثنا عسکری قیادت کو بھی ایک اہم اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ ملک کو درپیش دہشتگردی کے خطرات کے تناظر میں افغانستان اور بھارت کے مابین نیا گٹھ جوڑ تشویش ناک ہے، چنانچہ ان سنگین محرکات اور امن دشمن عناصر کی دخل اندازیوں سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی ضرورت پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کرگئی ہے، کوئٹہ سانحہ نے پوری قوم کو غمزدہ ہونے پر بھی دہشتگردی کے خلاف متحرک کردیا ہے اور وکلا برادری اس صدمہ سے نکلنے کے لیے ایک مربوط ملک گیر دہشتگردی مخالف کریک ڈاؤن کی بجا طور پر منتظر رہیگی۔

عالمی برادری نے پاکستان میں جمہوریت کے اہم ستون عدلیہ و میڈیا کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔ادھر خبروں میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان سے دہشت گرد کراچی میں مخصوص فرقہ کو نشانہ بنانے لیے روانہ ہوگئے ، ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز سندھ ، آئی جی سندھ اور دیگر حساس اداروں کے سربراہان کو بھیجے گئے مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ کراچی میں مخصوص فرقے کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی ہے ۔ دریں اثنا قومی اسمبلی نے کوئٹہ میںدہشت گردی کے واقعے کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طو ر پر منظور کر لی جس میں کہا گیا کہ کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعے اور بلوچستان بارایسوسی ایشن کے صدر کے قتل پر پوری قوم گہرے غم اور صدمے سے دوچار ہے۔

قبل ازیں بحث میں حصہ لیتے ہوئے پشتو نخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر کے ملک میں حالت جنگ کا اعلان کر دیا جائے جب کہ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ سول حکومت اور عسکری ادارے اس میں غیرملکی قوتوں بالخصوص بھارت کو ملوث قرار دے رہے ہیں جو تشویشناک ہے۔وقت آگیا ہے کہ وطن عزیز کے خلاف بدی کے علاقائی محور کا محاصرہ کیا جائے اور ساتھ ہی اندر کے دشمن اور آستینوں کے سانپوں کی بھی خبر لی جائے ۔