ترکی روس تعلقات کی بحالی تاریخ کا نیا موڑ 

اگرشام میں جاری خانہ جنگی پرروس اورترکی ملکرقابو پانےمیں کامیاب ہوجاتےہیں تویہ عالمی امن کی جانب بہترین پیش قدمی ہوگی


Editorial August 10, 2016
ترکی نے امریکا کوخبردارکیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو فتح اللہ گولن کی وجہ سے قربان نہ کرے ۔- فوٹو؛ فائل

امریکا سے ناتا توڑکر ترکی کا روس سے دوستی کے لیے ہاتھ بڑھانا، عالمی سیاسی منظرنامے میں انقلابی تبدیلی کے آثار نمودار ہونے کوظاہرکررہا ہے۔ ترک صدرکی روسی صدر ولادی میر پوتن سے ملاقات نے ایک ہلچل سے مچا دی ہے ۔ایک وقت تھا کہ ترکوں نے لگاتارکئی صدیوں تک اقوام عالم پرحکومت کی تھی ،ترک سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، پھر اپنوں کی غداری اورغیروں کی ریشہ دوانیوں کے باعث مسلمانوں کی عظیم سلطنت کے حصے بخرے کرلیے گئے۔ ترکی نے اب دوبارہ اہمیت اختیارکرنا شروع کردی ہے، ناکام فوجی بغاوت کے بعد امریکا اورترکی کے تعلقات میں دراڑ پڑگئی ہے ۔کیونکہ سازش کے ایک کردار فتح محمد گولن کی حوالگی کا مطالبہ تاحال امریکا نے پورا نہیں کیا ہے ۔

دوسری جانب گزشتہ سال نومبر میں روسی طیارے کو مارگرائے جانے کے بعد ترکی اور روس کے تعلقات خاصے کشیدہ رہے ہیں،اس کے باوجود ترکی کے صدرکا روس چلے جانا اورروس کے صدرکا ان کا خیرمقدم کرنا، آنے والے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں،کیونکہ اکلوتی سپر پاور کے اثر سے کئی ممالک ''آزاد'' ہونا چاہتے ہیں۔ ترکی اور روس کے درمیان سو ارب ڈالرکی دوطرفہ تجارت کی بحالی پر ولادی میرپیوٹن اوررجب طیب اردوان میں اتفاق ہونا دراصل تعلقات کی بحالی کی طرف پہلا قدم ہے۔

امریکا کی یہ روایت رہی ہے کہ اس نے کبھی بھی اپنے دوستوں سے وفا نہیں کی ۔ترکی اس وقت ایک مشکل داخلی صورتحال سے دوچارضرور ہے لیکن ترک صدرکا عزم اور بہترین خارجہ پالیسی اختیارکرنے کا عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آہنی عزم کے مالک ہیں ۔اگر شام میں جاری خانہ جنگی پر روس اور ترکی مل کر قابو پانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ عالمی امن کی جانب بہترین پیش قدمی ہوگی ۔دوسری جانب ترکی نے امریکا کوخبردارکیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو فتح اللہ گولن کی وجہ سے قربان نہ کرے ۔

کیا خوبصورت اور دوٹوک موقف اختیار کیا ہے ترکی نے ۔ دراصل قومی سلامتی کسی بھی ملک کے لیے ہر چیز پر مقدم ہوتی ہے ، امن وانصاف کے نام نہاد علمبردارامریکا کو اپنے دوستوں کی پشت میں چھرا گھونپنے کی روایت کو ترک کرنا ہوگا ۔ ترکی نے تو یورپی یونین میں شمولیت کے لیے بہت جتن کیے، لیکن یورپی اقوام کا تعصب آڑے آیا،کیونکہ ترکی ایک مسلم ملک ہے ۔ ترکی نے بہترین خارجہ پالیسی کے ذریعے اپنی اہمیت وافادیت کو خطے میں منوایا ہے۔ ترکی نے دہشتگردی کے خلاف جاری عالمی جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے،جس کے باعث داعش جیسی دہشتگرد تنظیمیں ترکی کی داخلی صورتحال کو بگاڑنے میں مصروف ہیں،کثیرجانی اور مالی نقصان ہوچکا ہے ۔ان حالات کے تناظر میں ترکی کا روس سے تعلقات بحال کرنا تاریخ کو نیا موڑ دے گا۔