قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

جب سے یہ دنیا پیدا ہوئی ہے اور فلک کج رفتار نے اسے اپنی ٹیڑھی میڑھی گود میں پالا ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq August 12, 2016
[email protected]

جب سے یہ دنیا پیدا ہوئی ہے اور فلک کج رفتار نے اسے اپنی ٹیڑھی میڑھی گود میں پالا ہے تب سے اب تک اس نے بہت کچھ دیکھا ہو گا حتیٰ کہ وہ بھی دیکھا ہو گا جو دیکھنے کے لائق تھا ہی نہیں لیکن ایسا اس نے ابھی تک نہیں دیکھا، جو ہم نے دس پندرہ بار دیکھا ہے اور سو دو سو بار دیکھنے کی ہوس ہے اور ابھی ہم آپ کو دکھانے والے ہیں لیکن ذرا دھیرج رکھیے صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور یہ ''پھل'' تو بہت ہی زیادہ میٹھا ہے کیونکہ فوٹو گرافی کی رال ہم مسلسل ٹپکتے دیکھ رہے ہیں، بلکہ دنیا ہی کیا وہ جو آسمان پر اکلوتی آنکھ والا پھرتا رہتا ہے ۔

آپ تو جانتے ہیں کہ صرف سورج اور ہنی بال سلطان بایزید اور اپنے مہاراجہ رنجیت سنگھ ہی دنیا کو ایک آنکھ سے نہیں دیکھتے تھے بلکہ ہمارے چشم گل چشم عرف قہر خداوندی بھی ان نابغہ روزگار لوگوں میں شامل ہے، ایک مرتبہ نہ جانے کہاں سے اور کیسے؟ چھوٹی مکھی کا ایک بڑا سا چھتا توڑکر لا رہا تھا اور راستے میں اس کے دشمن نمبر ون علامہ بریانی عرف برڈ فلو سے ٹکراؤ ہو گیا اور اس وقت ہمیں پتہ چلا کہ مطلب کے لیے لوگ کیسے کیسے سمجھوتے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، علامہ کو اتفاق سے ان دنوں علامنی کی کھانسی کے لیے نسخہ بنانا تھا اور اس میں شہد ہی جزو اعظم تھا، ناہنجار کے ہاتھ میں چھتا دیکھ کر علامہ کا نحوست برساتا ہوا چہرہ ایک دم گلشن گلشن ہو گیا۔

ماتھے کی تمام شکنیں نہ جانے کہاں غائب ہو گئیں اور آنکھوں سے ڈھیر سارا پیار چھلکاتا ہوا زیر مونچھ مسکرایا ۔۔۔ کمال ہے چشم خان چشم گل چشم خان میں ابھی تم ہی کو یاد کر رہا تھا ۔۔۔ سچ کہا ہے کہ کسی عرب نے کہ المومن حلوہ ویحب الحلوا، یعنی ''مومن میٹھا ہے اور میٹھے کو پسند کرتا ہے'' اور آج تو ثابت ہو گیا کہ ہمارے خان چشم خان گل خان چشم خان سے بڑا مومن اور کوئی نہیں ہے، خاص طور پر شہد کے بارے میں تو ہمارے والد محترم نے اپنی کتاب واضح البیان میں لکھا ہے کہ جس کسی کے ہاتھ چھوٹی مکھی کا چھتا لگ جاتا ہے اس پر دوزخ کی آگ حرام ہو جاتی ہے۔

علامہ جب اسی طرح اپنے مطلب کے لیے کوئی بے بنیاد مسئلہ نکالتا ہے تو حوالے اپنے والد کی کتاب کا دیتا ہے جس کا صرف ایک نسخہ ہے اور وہ علامہ کے دماغ بلکہ پیٹ میں موجود ہے، لیکن ناہنجار کو بھی کسی ایسے ویسے بھڑ نے نہیں کاٹا ہے سمجھ گیا کہ علامہ کس حملے کے لیے میدان ہموار کر رہا ہے چنانچہ علامہ کو مزید جلانے کے لیے بولا ۔۔۔۔ دیکھو نا علامہ کم از کم ڈیڑھ سیر تو ہو گا یہ چھتا اور میں نے سنا ہے کہ بازار میں سالم چھتا تین ہزار روپے کلو بکتا ہے، اسے کہتے ہیں بندہ پریشان اللہ مہربان۔ آج یونہی باہر نکلا تھا اور یہ چھتا ہاتھ لگ گیا اچھی خاصی رقم مل جائے گی، اس پر علامہ نے بڑے مومنانہ طریقے پر حاجت روائی کے ثوابات گنوانا شروع کیے اور پھر شہد کا طالب ہوا، لیکن قہر خداوندی نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ میں کسی کالے کافر کو تو شہد دے سکتا ہوں لیکن تمہیں نہیں دوں گا تم تو ہر وقت مجھے یک چشم اور کانا دجال وغیرہ کہتے ہو، وہ علامہ ہی کیا اور اس کی علامگی ہی کیا جو موقع پر کام نہ دے

وہ سحر مدعیٰ طلبی میں نہ کام آئے
جس سحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں

بولے تم بالکل ہی غلط سمجھے ہو تمہیں جب یک چشم کہتا ہوں تو میرا مطلب تحقیر نہیں تعریف کا ہوتا ہے دراصل میں تمہیں سورج بلکہ چندے آفتاب اور چندے مہتاب کہنا چاہتا ہوں، دیکھیے چاند سورج اور ستاروں سب کی ایک ہی آنکھ ہوتی ہے اور تم ہمارے گاؤں کے آفتاب عالم تاب ہو، اس جملے سے قہر خداوندی بچ نہیں پایا اور شہد بھجوانے کا وعدہ کر گیا، علامہ تو اپنا کام کر گیا لیکن ہماری معلومات میں یہ اضافہ کر گیا کہ سورج کی آنکھ اگرچہ ایک ہے لیکن انیک آنکھوں پر بھاری ہے بلکہ ایک اور سب پر بھاری ... یہاں اب ایک اور آنکھ پھوٹنے والی ہے کہ بھاری واقعی بھاری ہوتا ہے چاہے دشمنوں پر ہو یا ملک پر ہو لیکن اسے چھوڑ کر اپنے اصل موضوع پر آتے ہیں۔

اصل میں ہم کہنا یہ چاہتے ہیں کہ سورج نے اپنی ایک لیکن سب پر بھاری آنکھ سے بہت دیکھا ہو گا لیکن جس تصویر کی ہم بات کر رہے ہیں ایسا کبھی نہیں دیکھا ہو گا اگر دیکھا ہوتا تو اب تک اس کی اکلوتی آنکھ ڈبل چمک دار ہو چکی ہوتی، یہ ایک اخبار کے کونے میں لگی ہوئی چھوٹی سی تصویر ہے لیکن کیا واقعی صرف تصویر ہے؟ اگر صرف تصویر ہوتی تو ہم یہ ذکر کیوں کر رہے ہوتے تصویریں تو روزانہ چھپتی ہیں لیکن یہ تصویر دیکھ کر ہمیں تو ایسا لگا جیسے سارا اخبار ہی سمٹ کر اسی ایک تصویر میں سما گیا ہو وہ ایک انگریزی فلم ''جمانجی'' تو آپ نے دیکھی ہو گی کہ آخر میں سب کچھ سمٹ کر ایک چھوٹے سے سوراخ میں سما جاتا ہے بالکل ویسے ہی نہ صرف پورا اخبار بلکہ ساتھ ہی ہم بھی سمٹ کر تصویر میں سما گئے اور ابھی تک ایسے سمائے ہوئے ہیں کہ

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی

اب اس موقع پر ہمارے دل سے دعاؤں اور داد و تحسین کا جو فوارہ نکل رہا ہے کاش وہ فوٹو گرافر ہمیں دستیاب ہوتا ہمارے دل سے عش عش کا جو زبردست چشمہ پھوٹا ہے اسے ہم نے چار نہروں میں تقسیم کیا سب سے بڑی نہر کا رخ تو ظاہر ہے کہ فوٹو گرافر کا حق بنتا ہے واہ کیا نگاہ پائی ہے ایکسرے وغیرہ تو اس کے آگے آلو چھولے بیچتے ہوئے نظر آتے ہیں، نگاہ عاشق کی دیکھ لیتی ہے ہزار پردے ہٹا کر

وا کر دیے ہیں عشق نے بند نقاب حسن
غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا

تصویر میں کمال یہ ہے کہ جو کچھ اس میں دکھتا ہے وہ تو دکھتا ہے لیکن جو نہیں دکھتا وہ سب سے زیادہ دکھتا ہے ہمیں تو فوراً علامہ اقبال کی غزل لاحق ہو گی کہ

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدہ دل واکرے کوئی

تصویر مذکور میں موصوف و ممدوح فوٹو گرافر نے دو ایسی خواتین کو نشانہ بنایا ہے جو کشمیری الیکشن کے بعد اپنے انگوٹھے دکھا رہی ہیں لیکن کون کم بخت ہو گا جس کی نظر اس وقت انگوٹھوں اور ان پر لگی سیاہی کی طرف جائے گی کیونکہ میں اور بھی اتنا اگر ۔۔۔۔ کسی کی ہزار آنکھوں ہوں اور وہ ہزار گھنٹے دیکھا کرے تب بھی شاید ہزاروں حصہ دیکھ پائے گا، ایک پشتو ٹپہ یاد آ رہا ہے جو شاید کسی نے ایسے ہی ایک منظر کے لیے کہا ہوا ہے کہ

ستا پہ دیدن بہ زہ موڑ نہ شم
کہ تما می وجود مے سترگے سترگے شینہ

یعنی تمہارے دیدار سے میرا جی بھر نہ پائے گا چاہے میرا سارا وجود ہی آنکھ آنکھ ہو جائے، معلوم نہیں ان دو خواتین نے انگوٹھا لگوانے اور پھر دکھانے کے لیے پہلے ہی سے انتظامات کر رکھے ہیں یا فوٹو گرافر کا کیمرہ ہی کچھ زیادہ مبالغہ آمیز ہے لیکن چیز ایسی بن گئی ہے کہ فوٹو گرافر کو اس پر بڑے سے بڑا انعام بھی مل جائے تو وہ چھوٹا ہی ہو گا ۔