سرمایہ دارانہ نظام کے سہولت کار
اس نظام میں جہاں دو فیصد لٹیری کلاس اربوں ڈالر کی مالک ہوتی ہے اور آئین اورقانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا
کوئی ذی شعور اور اہل علم اہل دانش اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ دنیا بھر میں سیاسی معاشی اور سماجی ناانصافیاں سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہیں اور جب تک یہ نظام موجود ہے ناانصافیاں ختم نہیں ہو سکتیں خواہ حکومتیں کتنی ہی اصلاحات کریں، کتنی ہی بیان بازیاں کریں کیونکہ جس نظام کی بنیاد ہی استحصال اور ناانصافیوں پر رکھی گئی ہو، اس نظام میں انصاف اور مساوات کو تلاش کرنا اندھیری رات میں کالی بلی کو تلاش کرنے کی حماقت کے علاوہ کچھ نہیں۔ جس نظام میں قومی دولت کا 80 فیصد حصہ دو فیصد سے کم لٹیروں کے قبضے میں ہو اس نظام میں اگر 90 فیصد لوگ دو وقت کی روٹی سے محتاج نہ ہوں گے تو اور کیا ہو گا۔ اس نظام کے خالقوں نے لٹیری کلاس کو لوٹی ہوئی دولت کا قانونی مالک بنانے کے لیے آئین میں لامحدود نجی ملکیت کے حق کو تحفظ فراہم کیا ہے۔
اس نظام میں جہاں دو فیصد لٹیری کلاس اربوں ڈالر کی مالک ہوتی ہے اور آئین اورقانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اسی نظام میں 98 فیصد عوام کی نجی ملکیت ان کے دو ہاتھ ہوتے ہیں جو رات دن محنت کر کے حرام خوروں کی دولت میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ اس نظام میں قانون اور انصاف غریب عوام کے گرد آہنی شکنجے کا کام انجام دیتے ہیں خود مغربی ملکوں کے میڈیا کے مطابق ہر سال لاکھوں غریب بھوک کی وجہ، لاکھوں غریب علاج سے محرومی کی وجہ، لاکھوں بچے دودھ اور متوازن غذا سے محرومی کی وجہ، لاکھوں خواتین ناقص غذا اور علاج معالجے کی سہولتوں کے فقدان کی وجہ موت کے شکار ہو جاتے ہیں۔ کیا ہم اسے موت کہیں یا قتل عام اگر یہ قتل عام ہے تو قانون اور انصاف کہاں ہے وہ ان قاتلوں کے خلاف حرکت میں کیوں نہیں آتا؟ کراچی میں موسلا دھار بارش سے درجنوں لوگ کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئے ہیں کیا یہ اموات بھی طبعی ہیں یا قتل عمد ہے اگر قتل عمد ہے تو اس کا ذمے دار کون ہے؟
یہ ظلم یہ بربریت نئی نہیں بلکہ اس کا سلسلہ دو ڈھائی سو سال سے جاری ہے سوال یہ ہے کہ آخر 90 فیصد عوام کان دبا کر صدیوں سے یہ ظلم کیوں سہہ رہے ہیں؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ سرمایہ داروں نے عوام کے ہاتھوں میں جمہوریت کا جھنجھنا تھما دیا ہے۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اس نظام کے عیار سرپرستوں نے عوام کو سر اٹھانے سے روکنے اور کچلنے کے لیے ایک تیار ریاستی مشینری قائم کی ہے جو 90 فیصد غریب عوام کے سروں پر ناقابل گرفت بلا کی طرح مسلط ہے۔ 1917ء میں اس ظالمانہ استحصالی نظام کے خلاف ایک منصفانہ نظام روشناس کرایا گیا بہت کم عرصے میں یہ نظام ساری دنیا خاص طور پر پسماندہ ملکوں میں اس تیزی سے مقبول ہوا کہ دنیا کا 1/3 فیصد حصہ اس نظام کا شیدائی بن گیا۔
یہ صورتحال سرمایہ دارانہ نظام کے منصوبہ سازوں اور سرپرستوں کے لیے انتہائی تشویشناک تھی، اس صورتحال کو قابوکرنے اور سوشلسٹ معیشت کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کے منصوبہ سازوں نے کئی اقدامات کیے مثلاً سرد جنگ کا آغاز کر کے سوشلسٹ ملکوں کے وسائل کو تباہ کیا جانے لگا۔ اس کے علاوہ دنیا کے سادہ لوح مذہب پرست عوام کو یہ باور کرایا جانے لگا کہ سوشلزم ایک لادینی نظریہ ہے جو غریب عوام سے ان کا مذہب چھین لے گا۔ یہ پروپیگنڈا خاص طور پر مسلم ملکوں میں کیا گیا جہاں ذہنی پسماندگی نسبتاً زیادہ تھی اس پروپیگنڈا مہم میں کچھ مذہبی طاقتیں دولت کے عوض شریک ہوئیں اور کچھ مذہبی عناصر اپنی سادہ لوحی کی وجہ سازشی عناصر کے ہاتھوں کا کھلونا بن گئے۔ ڈھائی سو سال سے دنیا کے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ سرمایہ دارانہ استحصالی نظام رہا ہے لیکن دنیا کے عوام کی توجہ اس استحصالی نظام سے ہٹانے کے لیے کبھی جنگوں کا سہارا لیا گیا کبھی علاقائی مسائل کا سہارا لیا گیا کبھی انسانوں کی مختلف حوالوں سے تقسیم کا سہارا لیا گیا۔
دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ طبقاتی نظام کے خلاف جیسے جیسے نفرت بڑھ رہی ہے، سرمایہ دارانہ نظام کے پشتی بانوں کے اضطراب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے ان عیار منصوبہ سازوں نے مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بنا دیا۔ آج سرمایہ دارانہ نظام کے مظالم پس منظر میں چلے گئے ہیں اور دہشت گردی کو پیش نظر میں دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے، اس حوالے سے یہ پروپیگنڈا بڑے دھڑلے سے کیا جا رہا ہے کہ دہشت گرد ساری دنیا پر اپنا مذہب مسلط کرنا چاہتے ہیں لیکن حیرت اور تعجب کی بات یہ ہے کہ دنیا میں اسلامی نظام کو نافذ کرنے والے دہشت گردوں کا سب سے بڑا نشانہ مسلمان اور مسلم ملک ہی ہیں۔ ایسا کیوں؟ کیا مغربی ملکوں میں اکا دکا دہشت گردی کی وارداتیں کروا کر دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش نہیں کی جا رہی ہے کہ مغربی ملک بھی دہشت گردی کے شکار ہیں۔
کیا یہ سوال ذہن میں پیدا نہیں ہوتا کہ اسرائیل میں آج تک دہشت گردی کا کوئی حادثہ کیوں پیش نہیں آیا بھارت میں دہشت گرد کیوں سرگرم نہیں؟دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو پکڑا جا رہا ہے انھیں کڑے تفتیشی مراحل سے گزارا جا رہا ہے اور لمبی لمبی سزائیں دی جا رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سرمایہ دارانہ نظام کے سہولت کاروں یعنی اشرافیائی جمہوریت کے حامل حکمرانوں سرمایہ دارانہ نظام کے سہولت کاروں کا کردار ادا نہیں کر رہے ہیں؟ اگر کر رہے ہیں تو ان کے خلاف ترقی یافتہ ملک کیا تادیبی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ یہ نظام ہر سال لاکھوں غریب عوام کو موت کے منہ میں دھکیل رہا ہے کیا یہ قتل عمد نہیں ہے؟ اگر ہے تو اس ظالمانہ طبقاتی نظام کے سہولت کاروں کے خلاف کوئی کارروائی کرے گا؟ کیا اس سوال کا جواب انقلاب فرانس کے علاوہ کچھ اور ہو سکتا ہے؟