شاید گھوڑا بول ہی پڑے

ان دنوں الیکشن سے زیادہ گرم موضوع اور کوئی نہیں اور سیاستدان دن رات اس میں زبردست مصروف ہیں۔


Abdul Qadir Hassan December 03, 2012
[email protected]

ان دنوں ہر سیاسی مجلس میں ایک مسئلہ زیر بحث ہے کہ متوقع اور مجوزہ الیکشن کب ہوں گے اور پھر یہ بھی کہ ابھی ہوں گے بھی یا نہیں۔ ایسی مسلسل بحثوں کے درمیان جب اہل سیاست کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچتے تو وہ یہی فیصلہ کرتے ہیں کہ پھر بھی الیکشن کی تیاری ضروری ہے کیونکہ اس انتخابی مہم میں کارکن بھی سرگرم ہو جاتے ہیں، ساتھیوں کا بھی پتہ چل جاتا ہے کہ کون کتنا ساتھ ہے اور جماعت کی انتخابی حیثیت کا بھی کسی حد تک اندازہ ہو جاتا ہے، اس طرح الیکشن ہوں یا نہ ہوں یعنی کسی وقت بھی ہوں ان کے لیے تیار رہنا ضروری ہوتا ہے اور سیاسی لحاظ سے مفید بھی۔

جو انتخابی فضا بن جاتی ہے وہ سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ اخباروں میں شایع ہونے والی خبروں اور سیاستدانوں کے بیانات سے ایک بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ اگر الیکشن ہو گئے اور ان کے لیے تیاری نہ ہوئی تو پھر کیا ہو گا، اس لیے اس امید پر ہی سہی جماعتی سیاست کرتے رہیں کہ الیکشن شاید ہوں گے۔ بات وہی پرانی ہے کہ ایک تھا بادشاہ، اسے اپنا ایک گھوڑا بہت پسند تھا ۔بادشاہوں کو اپنا کوئی نہ کوئی گھوڑا بہت پسند ہوا کرتا ہے۔ وہ اس گھوڑے پر دور و نزدیک کی سواری بھی کرتا ، اسے پیار سے بار بار تھپکی بھی دیا کرتا، خوش ہو کر اس سے باتیں بھی کرتا رہتا لیکن گھوڑا سوائے سر ہلانے کے کچھ نہ کرتا۔ بادشاہ کی شدید خواہش تھی کہ یہ میری باتوں کا جواب بھی دے اور میرے ساتھ گفتگو بھی کرے چنانچہ اس شوق سے مغلوب ہو کر اس نے اپنی مملکت میں اعلان کرایا کہ جو کوئی اس گھوڑے کو بلانے اور باتیں کرانے میں کامیاب ہو گا۔

اس کو بڑی جاگیر دی جائے گی اور نقد انعام بھی بہت سارا ملے گا لیکن شرط یہ ہے کہ یہ کام چھ ماہ میں کر دیا جائے ورنہ گردن اڑا دی جائے گی۔ کئی شوقیہ قسمت آزما آئے اور گھوڑے کو دیکھ کر چلے گئے۔ بالآخر ایک سائیسں نے حامی بھری اور بادشاہ سے کہا کہ وہ یہ کام وقت مقررہ پر کر دے گا ورنہ سزا کا مستوجب ہو گا۔ بادشاہ کے حکم پر وہ گھوڑا اس کی تحویل میں دے دیا گیا اور اخراجات کے لیے ایک بڑی رقم اس کے حوالے کر دی گئی۔ اس دوران اس سائیسں سے اس کے ہمدرد دوستوں نے کہا کہ بے وقوف تم کیوں اپنی موت کا سامان کر رہے ہو، کبھی گھوڑے بھی بولے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ بادشاہ کا دماغ چل گیا ہے، جلد ہی پاگل ہو کر مر جائے گا۔ ویسے بھی وہ خاصا ضعیف ہے، اس کے دشمن بھی بادشاہ کی کمزوری کی تاک میں ہیں اور اس کی بیماری کی خبر اڑی تو وہ اس کے لیے خطرہ بھی بن سکتے ہیں، اس طرح بادشاہ مجھے بس دنوں کا مہمان دکھائی دیتا ہے، اس لیے مجھے عیش کرنے دو اور اس بڈھے سے مال بٹورنے دو اور پھر کیا پتہ گھوڑا شاید بول ہی پڑے۔

اسی طرح ان سیاستدانوں کو بھی امید ہے کہ شاید الیکشن ہو ہی جائیں اور ان کی انتخابی تیاریاں کام آ جائیں ورنہ تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملک میں جو بدامنی ہے خصوصاً کراچی جیسے بڑے اور اہم ترین شہر کی جو حالت ہے اسی طرح پورے صوبے بلوچستان میں حالات کے جو اشارے ہیں بلکہ جو بدامنی جاری ہے اسے دیکھیں تو کون کہہ سکتا ہے کہ الیکشن ہوں گے۔ یہ بات منہ سے کوئی نہیں کہتا لیکن آپس میں کہا جاتا ہے کہ بھارت اس تاک میں ہے کہ پاکستان میں کچھ ہلچل ہو اور وہ تخریب کاری تیز کر دے، اس نے اس کے لیے اپنی خصوصی سپاہ تیار کر رکھی ہے جو پاکستان بھر میں دھماکے کر سکتی ہے اور الیکشن کی بساط الٹا سکتی ہے۔ وہ پاکستانی جو سرسری طور پر بھی اخبار پڑھتا ہے، اسے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا بھی اس علاقے میں سیاسی استحکام نہیں چاہتا اور پاکستان کی ایٹمی صلاحیت بھی اسے قابل برداشت نہیں ہے، اس لیے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔

ایسے لاتعداد اندیشوں اور اندازوں میں سابق صدر پرویز مشرف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ کراچی میں مقامی طور پر مارشل لاء لگا دیا جائے۔ لاہور میں بھی فسادات کے موقع پر 1953ء میں ایسا کیا گیا تھا اور یہ شہر غالباً ستر دن تک فوج کے پاس رہا جب دودھ دہی کی دکانوں پر جالیاں لگائی گئیں اور ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں بہت کمی کی گئی۔ یاد آیا کہ میں ان دنوں ایک سیاسی رضا کار تھا اور ایک ایمبولینس پر میری ڈیوٹی تھی۔ ہم مظاہرین میں سے زخمی اٹھاتے تھے اور کبھی کوئی لاش بھی۔ ان دنوں اندرون لاہور کی مسجد وزیر خان میں ختم نبوت والوں کا مرکز تھا اور مرحوم مولانا عبدالستار نیازی اس کے سربراہ اور لیڈر تھے۔ انھوں نے مسجد کے راستے بند کر دیے تھے لیکن جب فوج نے اس مرکز کو توڑنے کے لیے یلغار کی تو مولانا نیازی داڑھی ہلکی کرا کے قصور کی طرف نکل گئے تاکہ انھیں آسانی کے ساتھ پہچانا نہ جا سکے لیکن وہ پھر بھی پکڑے گئے تھے بہر کیف یہ بھی صرف ایک شہر کا مارشل لاء تھا۔

پرویز مشرف ایسا ہی کراچی کے لیے تجویز کرتے ہیں جو اس شہر کی بدامنی کا صفایا کر دے اور اسے بدامنی پھیلانے والوں سے پاک کر دے لیکن ساتھ ہی وہ ایک خطرناک بات بھی کہتے ہیں کہ اس کے ذمے دار سیاستدانوں کا بھی قلع قمع یعنی صفایا کر دیا جائے۔ اس تجویز پر عمل بظاہر نا ممکن دکھائی دیتا ہے لیکن سچ بتائیے کہ یہ کوئی ناجائز بات تو نہیں ہو گی۔ ان نام نہاد سیاستدانوں نے ملک کی بقا کو دائو پر لگا دیا ہے۔ یہ ایک فوجی جرنیل کی باتیں ہیں جو وزن رکھتی ہیں اگر ان پر ریفرنڈم ہو تو شاید خطر ناک نتائج برآمد ہوں۔ بہر کیف ان دنوں الیکشن سے زیادہ گرم موضوع اور کوئی نہیں اور سیاستدان دن رات اس میں زبردست مصروف ہیں۔

دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک

مقبول خبریں