انسانی حقوق کے وکلا کی نسل کشی

باز محمد کاکڑ نے ساری زندگی مظلوم سیاسی کارکنوں کو ریاستی جبر سے نجات دلانے میں گزاری


Dr Tauseef Ahmed Khan August 12, 2016
[email protected]

ISLAMABAD: باز محمد کاکڑ نے ساری زندگی مظلوم سیاسی کارکنوں کو ریاستی جبر سے نجات دلانے میں گزاری۔ بیرسٹر عدنان کاسی نے شہریوں کے جاننے کے حق کے تحفظ اور انسانی حقوق سے متعلق جامع قوانین تیار کرنے کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ سنگیت جمال دینی نے اپنے والد بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے رہنما جہاں زیب جمال دینی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بلوچوں کے حقوق کے تحفظ میں اپنی زندگی صرف کی۔ دہشت گردوں نے بلوچستان کے قدیم باشندوں بلوچوں اور پختونوں کے حقوق کی پاسداری کرنے والے وکلاء کی نسل کو ختم کر کے ایک ایسا نقصان کیا ہے جو عرصہ دراز تک پُر نہیں ہو گا۔

کوئٹہ میں 8 اگست کو دہشت گردی کی خوفناک واردات میں شہید ہونے والے اکثریتی وکلا، وکلا تحریک میں متحرک تھے اور جونیئر وکلا ان کی پیروی کر رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ دہشت گردوںکے اس حملے کا مقصد بلوچستان کے عوام کو قانونی جدوجہد سے دور کرنا ہے۔ انسانی حقوق کی پاسداری کی جدوجہد میں مصروف بصیر نوید کہتے ہیں کہ شہید ہونے والے وکلا کا تعلق نچلے متوسط طبقے سے تھا۔ ان کے قتل سے مظلوموں کی دادرسی کرنے والے کوئٹہ میں کم رہ گئے۔ بلوچستان گزشتہ صدی کے اختتام سے دہشت گردی کا شکار ہے۔

بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کی نوعیت مختلف رہی ہے۔ پہلے دہشت گردوں نے ہزارہ برادری کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ دہشت گردوں نے کوئٹہ میں امام بارگاہوں اور ہزارہ ٹاؤن پر خودکش حملے کیے، کوئٹہ سے زیارت کے لیے ایران جانے والی بسوں کو نشانہ بنانا شروع کیا اور دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ شروع ہو گئی۔ دہشت گردوں نے پولیس، رینجرز اور فوجی دفاتر کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ دو سال قبل پہلے ایک ایس ایچ او کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا، پھر اس ایس ایچ او کی نماز جنازہ کے وقت پولیس لائن میں خودکش حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ڈی آئی جی اور ایس پی کے عہدے کے افسروں سمیت بہت سے پولیس افسران اور سپاہی جاں بحق ہوئے۔ اس وقت یہ محسوس ہو رہا تھا کہ دہشتگردوں نے کوئٹہ کی پولیس لائن کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں سیاسی کارکنوں، صحافیوں، وکلا اور ڈاکٹروں کی ٹارگٹ کلنگ کی لہر آئی۔ اس کے ساتھ ہی اساتذہ اور خواتین اساتذہ کو بھی قتل کیا گیا۔ اس وقت بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت تھی اور اسلم رئیسانی صوبے کے وزیراعلیٰ تھے۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کا کہنا تھا کہ کوئٹہ شہر کے اطراف کی پہاڑیوں میں دہشت گرد تنظیموں نے اپنی کمین گاہیں قائم کر لی ہیں۔ یہ گروہ فرقے کی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ کرتے تھے۔ بعض وزرا کے بارے میں یہ خبریں شایع ہوئیں کہ وہ ان جنگجو عناصر کی سرپرستی کرتے ہیں۔ یہ وزرا ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی ملوث تھے۔ یہ گروہ بغیر کسی رکاوٹ کے کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں کارروائیاں کرتے تھے۔ جب 2013ء میں ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت قائم ہوئی تو حالات بہتر ہونا شروع ہوئے۔

نیشنل پارٹی کے قریبی ذرایع کہتے تھے کہ اچھی طرز حکومت کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی میں تبدیلی بھی بہتر صورتحال کی بنیادی وجہ تھی۔ اس زمانے میں خضدار کے مضافاتی علاقے سے اجتماعی قبریں برآمد ہوئیں۔ کہا جاتا تھا کہ جس جگہ سے اجتماعی قبریں ملیں وہاں ایک قبائلی لشکر قیام پذیر تھا مگر دباؤ پر اس لشکر کو اس علاقے کو چھوڑنا پڑ گیا تھا۔ بلوچستان کے حالات بہتر ہونا شروع ہوئے تھے مگر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ حکومت کے رخصت ہونے کے بعد حالات پھر خراب ہونا شروع ہو گئے۔ کوئٹہ اور دیگر شہروں میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بڑھ گئیں۔ تربت کے علاقے میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل ہونے لگے۔

بین الاقوامی ذرایع ابلاغ میں یہ الزامات بھی لگے کہ طالبان شوریٰ کوئٹہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں مقیم تھے اور افغان حکومت اور امریکا نے اس کو کوئٹہ شوریٰ قرار دیا۔ طالبان کے قائد ملا منصور ایران کی سرحد کے قریب ڈرون حملے میں مارے گئے۔ ملا منصور کا پاسپورٹ ڈرون حملے میں جلتی کار سے مل گیا اور ملا منصور کا پاکستانی شناختی کارڈ بھی مل گیا۔ اس شناختی کارڈ میں ان کا عارضی پتہ گلشن اقبال کراچی کے ایک فلیٹ کا تھا۔ یہ فلیٹ ایک کرائے دار کے پاس تھا اور اسٹیٹ ایجنٹ کرایہ دار سے ہر ماہ کرایہ لیتا تھا۔ ان تمام حقائق کو جوڑ کر دیکھنے سے بہت سے حقائق سامنے آ گئے تھے۔

اگرچہ بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشن کے نتیجے میں حالات کسی حد تک معمول پر آ گئے تھے، اب صورتحال پھر تاریک ہو گئی ہے۔ کوئٹہ کے محل وقوع کو جاننے والوں کو اس بات پر حیرت ہے کہ یہ شہر جو صرف دو بڑی سڑکوں اور درجن کے قریب چھوٹی سڑکوں کے قریب مشتمل ہے وہاں قدم قدم پر سیکیورٹی کی چوکیاں ہیں، پھر بھی دہشت گرد ریڈ زون میں داخل ہو جاتے ہیں۔ وکلا رہنما عاصمہ جہانگیر کہہ رہی ہیں کہ کوئٹہ کے وکیل بار بار کہتے تھے کہ انتہاپسند دہشت گرد نئی کمین گاہیں قائم کر رہے ہیں۔ ان کی بات درست ثابت ہو گئی۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کوئٹہ کے واقعات میں بھارت کی خفیہ تنظیم ''را'' ملوث ہے۔ بعض رہنما را اور افغان خفیہ ایجنسی تخریب کاری میں ملوث ہونے کے الزامات لگاتے ہیں مگر الزامات لگانے والے اس حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ اگر را ہی اس تخریب کاری کے جرم میں شریک ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ را کے حکام ملک میں موجود مذہبی انتہاپسندوں کے ذریعے تخریب کاری کروا رہے ہیں۔ اگر ان مذہبی انتہاپسندوں کی سرکوبی کی جائے تو را کے حکام اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں سول و عسکری ایجنسیوں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کہتے ہیں کہ ریاست کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست کہیں نہ کہیں انتہاپسندوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔

اگر ریاست جامع اقدامات کرے تو اس معاملے کا تدارک ہو سکتا ہے۔ مولانا شیرانی نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ اچھے اور برے طالبان کی تقسیم ختم ہونی چاہیے اور آپریشن ضربِ عضب کی خامیوں کو دور ہونا چاہیے۔ کراچی میں سول سوسائٹی کی متحرک نوجوان لڑکیاں احتجاجی جلسے میں نعرے لگا رہی تھیں کہ نفرت نہیں انصاف چاہیے۔ یہ نعرہ غمزدہ خاندانوں کے احساسات کی ترجمانی کرتا ہے مگر وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی تقریر میں غمزدہ خاندانوں کے لیے کچھ بھی نہیں۔ اس صورتحال کے تدارک کے لیے ہر قسم کے انتہاپسند گروہوں کے خاتمے کے لیے جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات سے پہلے ریاستی بیانیہ میں تبدیلی ضروری ہے، مگر اس تبدیلی کے لیے بنیادی اقدامات وقت کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات سے پہلے ریاست کے بیانیہ کو جناح صاحب کی 11 اگست 1947ء کو آئین ساز اسمبلی میں پالیسی تقریر سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر انتہاپسندوں کے خاتمے کی کوشش کامیاب ہو گی۔