ناروے میں نمائشی میچ کے دوران اسد رؤف کی موجودگی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا

مصباح، عرفان، عمر اکمل،آصف، سعید اجمل، عبدالرزاق ،یوسف و دیگرشریک ہوئے


Saleem Khaliq August 21, 2016
آئی سی سی قوانین کے تحت بھارتی بورڈکی5سالہ پابندی پرتمام ممالک عمل کے پابند۔ فوٹو: فائل

پابندی کے شکار اسد رؤف کی ناروے میں نمائشی میچ کے دوران موجودگی کئی سوال اٹھاگئی،آئی سی سی قوانین کے تحت بھارتی بورڈ کی 5 سالہ پابندی پرتمام ممالک عمل کے پابند ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آئی پی ایل2013میں پاکستانی امپائر اسد رؤف پر کرپشن کے الزامات عائد ہوئے، ممبئی پولیس نے تو اس کیس میں انھیں ''مطلوب ملزم'' قرار دیا ہوا ہے، اسد تمام الزامات کو مسترد کر چکے، وہ بھارت کے سوا کسی دوسرے ملک میں بیان دینے پر آمادہ مگر پولیس نہیں مان رہی۔

بھارتی کرکٹ بورڈ نے رواں برس فروری پر ان پر5 سالہ پابندی عائد کر دی تھی جس کے تحت وہ امپائرنگ اورکھیلنے سمیت کرکٹ کی کسی بھی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے، گوکہ یہ سزا بی سی سی آئی نے سنائی لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل قوانین کے تحت کسی ایک ملک کے ایسے فیصلے پر تمام ممبران کو عمل کرنا پڑتا ہے، ایسے میں جمعے کو اوسلو ناروے میں ایک نمائشی میچ کے دوران اسد رؤف کی موجودگی کئی سوال اٹھاگئی۔

پاکستانی کرکٹ الیون اور ورلڈ اسٹار کے درمیان اس میچ میں مصباح ، محمد عرفان، عمر اکمل، محمد آصف ، سعید اجمل،فواد عالم اور عبدالرزاق سمیت سابق کرکٹ محمد یوسف و دیگر بھی شریک ہوئے، بورڈ نے اپنے سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کو اس کی اجازت بھی دی تھی، اس کے ایک آفیشل بھی نجی حیثیت سے موجود تھے، نمائندہ ''ایکسپریس'' کے پاس موجود تصاویر میں اسد رؤف کئی کھلاڑیوں اور ایک بورڈ آفیشل کے ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں، انھوں نے ٹیم ہوٹل میں ہی قیام کیا اور میچ میں بھی سب سے گھلے ملے رہے۔

معاملہ آئی سی سی کے علم میں بھی ہے اور تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، پی سی بی کے تمام اعلیٰ عہدیدار بیرون ملک ہیں اس لیے کسی سے ردعمل نہ لیا جا سکا، واضح رہے کہ الزامات سامنے آنے پر آئی سی سی نے اسد رؤف کو چیمپئنز ٹرافی کے امپائرز پینل سے ہٹا دیا تھا، بعد میں وہ الیٹ پینل سے بھی باہر ہو گئے تھے۔60 سالہ اسد رؤف 49 ٹیسٹ، 98 ون ڈے اور23 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔یاد رہے کہ پاکستانی اسپنر دانش کنیریا پر انگلش کرکٹ بورڈ نے پابندی عائد کی لیکن انھیں اسی آئی سی سی قانون کے تحت پاکستان میں کھیل کی کسی سرگرمی میں شریک نہیں ہونے دیا جاتا۔