ملکی سیاست میں حدت کے اشارے

پانامہ لیکس کے ایشو نے اپوزیشن جماعتوں کو حکومت مخالف محاذ مزید تیز کرنے کا سنہری موقع فراہم کر دیا


Editorial August 23, 2016
آج وطن عزیز جن گوناگوں مسائل میں گھرا ہوا ہے اور ملک بھر میں دہشت گرد جس منظم انداز میں کارروائیاں کر کے افراتفری پھیلا رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت مخالف جلسوں اور شدید تنقید کے باعث ملکی سیاسی فضا بدستور پر جوش اور گرم دکھائی دے رہی ہے۔ ایک جانب عمران خان حکومت کے خلاف تحریک احتساب چلا رہے ہیں تو دوسری جانب عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری تحریک قصاص کا علم بلند کیے ہوئے ہیں' انھوں نے اتوار کو گوجرانوالہ سمیت 25 شہروں میں احتجاجی دھرنوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا اور حکمرانوں کو بھرپور تنقید کا نشانہ بنایا' انھوں نے 25اگست کو مختلف شہروں سے احتجاج کا اعلان کیا۔ ادھر مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی حکومت کی ''گڈگورننس'' کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ یوں ملکی سیاسی منظرنامے کا بہ نظر غائر جائزہ لیا جائے تو جو نقشہ ابھرتا ہے وہ حکومت کے لیے پریشان کن ہونے کے ساتھ سیاسی ہلچل اور افراتفری کی لکیریں گہری ہونے کی بھی غمازی کرتا ہے۔

2013ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن بھاری مینڈیٹ کے ساتھ برسراقتدار آئی تو یہ تاثر ابھرا کہ وہ حسب وعدہ نہ صرف ملک کو معاشی گرداب سے نکالے گی بلکہ لوڈشیڈنگ' دہشت گردی سمیت دیگر مسائل سے بھی نجات دلائے گی۔ حکومت کا ابتدائی سال تو ترقی اور خوشحالی کے پرجوش نعروں کی گونج میں ہنی مون مناتے گزر گیا مگر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کچھ حلقوں میں دھاندلی کا شور مچاتے ہوئے حکومت کے خلاف سیاسی محاذ گرم کرنا شروع کر دیا۔ حکومت کے خلاف ان کی تحریک اس وقت شدت اختیار کر گئی جب انھوں نے علامہ طاہر القادری کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں دھرنا دے دیا۔

اس دھرنے کے دوران جو سیاسی ماحول بنا اس سے بعض حلقوں میں یہ تاثر ابھرنے لگا کہ اب حکومت کے چل چلاؤ کے دن قریب آ گئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی حکومت اس بحران سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی مگر عمران خان کی جانب سے حکومت مخالف سرگرمیوں میں کوئی کمی نہ آئی۔ پھر ایسا بھی وقت آیا کہ فرینڈلی اپوزیشن تصور کی جانے والی پیپلز پارٹی نے بھی بلاول بھٹو کی قیادت میں حکومت کے خلاف محاذ کھول لیا اور بلاول بھٹو کے حکومت مخالف نعرے اور تند و تیز جملے حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بننے لگے۔

پانامہ لیکس کے ایشو نے اپوزیشن جماعتوں کو حکومت مخالف محاذ مزید تیز کرنے کا سنہری موقع فراہم کر دیا اور یوں محسوس ہونے لگا کہ حکومت بیک فٹ پر آ گئی اور اپوزیشن کے سامنے دفاعی پوزیشن پر کھیلنے پر مجبور ہو گئی ہے' ایسے میں پیپلز پارٹی' تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات پر اس طرح کے تبصرے سامنے آنے لگے کہ حکومت کے خلاف جلد ہی متحدہ اپوزیشن محاذ وجود میں آ جائے گا جو حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے اسے ٹف ٹائم دے گا اور حکومت کو متحدہ اپوزیشن کے سامنے جھکنا پڑ جائے گا۔ بعض مبصرین تو یہاں تک دعویٰ کرنے لگے کہ حکومت بس چند دنوں کی مہمان ہے۔ بادی النظر میں حکومت اس بحران سے بھی نکل آئی اور اس نے اپوزیشن جماعتوں کے خلاف جلسے کر کے عوامی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوشش شروع کر دی۔

مبصرین کے مطابق حکومت نے کامیاب اننگز کھیلتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے اپوزیشن جماعتوں کا ایجنڈا کمزور کر دیا اور اس کے خلاف متحدہ اپوزیشن محاذ وجود میں نہ آ سکا۔ اب ایک بار پھر تحریک انصاف اور عوامی تحریک حکومت کے خلاف میدان میں سرگرم ہو گئی ہیں۔ یہ صورت حال 90ء کی دہائی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والی سیاسی رسہ کشی کی یاد دلاتی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت مخالف چلنے والی یہ تحریک اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے گی یا اس کا سفر یونہی چلتا رہے گا۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کو بھی اپنے خلاف جنم لینے والے ان خطرات کا بخوبی ادراک ہے اور وہ ان سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔

وزیراعظم مختلف جلسوں اور تقریبات میں عوام کو یہ یقین دلا رہے ہیں کہ وہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا اپنا انتخابی وعدہ جلد پورا کرنے، ملکی ترقی اور خوشحالی کا جو خواب انھوں نے دکھایا تھا اسے وہ شرمندہ تعبیر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ آج وطن عزیز جن گوناگوں مسائل میں گھرا ہوا ہے اور ملک بھر میں دہشت گرد جس منظم انداز میں کارروائیاں کر کے افراتفری پھیلا رہے ہیں اس کا تقاضا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں سیاسی مخالفت میں کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے ملکی سالمیت اور اس کی بقا کو نقصان پہنچے۔ اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ملکی مسائل صرف تقریریں کرنے یا ان کی نشاندہی کرنے سے حل نہیں ہوں گے انھیں حل کرنے کے لیے مناسب پالیسی اپنانے اور اس پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔