افغان مہاجرین کی آمد اور اب رفت

افغان مہاجرین کو جس باعزت اور بے مثل طریقے سے واپس بھیجا جارہا ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq August 23, 2016
[email protected]

افغان مہاجرین کو جس باعزت اور بے مثل طریقے سے واپس بھیجا جارہا ہے اس سے ہمیں ایک بہت پرانی بات یاد آرہی ہے، ہم جس گھر میں رہ رہے ہیں اس میں ہمارے ساتھ ایک چچا کی رہائش بھی تھی۔ دونوں گھروں میں گائے بھینسیں پالی جاتی تھیں اور اس زمانے میں دودھ دہی وغیرہ بیچنے کا رواج نہیں تھا چنانچہ ضرورت پڑنے پر لوگ ایک دوسرے سے مانگ لیتے تھے، ہمارے گھر میں بھی اکثر رشتہ داروں اور پڑوسیوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا جب کوئی بچہ یا بڑا دودھ یا دہی یا لسی مانگنے کے لیے آتا تھا تو ہماری والدہ اور چچی کے مزاج ایک دوسرے کی ضد تھے، ہماری چچی ایسے لوگوں کے ساتھ بڑی محبت کے ساتھ پیش آتی تھی اور کہتی ، بیٹا یا بیٹی تمہارے قربان جاؤں' ذرہ بھر بھی (دودھ دہی یا لسی) نہیں ہے ورنہ میں تمہارے اوپر نچھاور کر دیتی۔

ہائے اللہ! ذرا پہلے آجاتے تو ۔۔۔ ، حالانکہ گھر میں سب کچھ ہوتا لیکن وہ نہ دے کر بھی سائل کو نہال کر کے رخصت کر دیتیں ... اس کے برعکس ہماری والدہ چونکہ ہم پر گئی تھیں تو وہ ایسے لوگوں کو دیکھتے ہی برس پڑتیں، پھر آگئے تم لوگ تو بس مانگنے کو کام سمجھے ہوئے ہو کہاں ہے اتنا دودھ یا لسی یا دہی کہ سارے گاؤں کی ضرورت پوری کروں، اس اثناء میں اس بچے یا شخص سے برتن لے لیتیں اور وہ چیز دینے کے لیے روانہ ہو جاتیں لیکن واپس آنے پر اور بھرا ہوا برتن سائل کے ہاتھ میں دینے تک برابر منہ بھی چلاتی رہتی اور سائل کی کھچائی برابر کرتی رہتیں، نتیجے میں سب کچھ دینے کے باوجود ہماری والدہ کا امیج ہماری چچی سے بدرجہا خراب تھا، لوگ چچی کی تعریف کرتے کہ کیا سخی اور خوش مزاج عورت ہے جب کہ والدہ کو شوم کنجوس اور نہ جانے کیا کیا خطابات ملے ہوئے تھے، پاکستان کا معاملہ بھی کم از کم افغان مہاجرین کے بارے میں کچھ کچھ ہماری والدہ کے جیسا رہا ہے سب کچھ دیا بھی، دیتے بھی رہے اور اب وہ کچھ اس انداز میں نکالے جارہے ہیں کہ

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن
بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

جس انداز اور طریقے سے آج ان کو واپس بھیجا جارہا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ یہ لوگ جو اتنا عرصہ یہاں کھاتے پیتے رہے وہ سب کچھ بھول جائیں گے اور آخری سلوک کا داغ ان کے دلوں پر مستقل نقش ہو جائے گا، ویسے بھی دونوں ملکوں کے درمیان شکوک و شبہات کا دھواں نہایت ہی دبیز اور گاڑھا ہوتا جارہا ہے کیوں کہ بھارت افغانیوں کے دلوں میں پاکستان کے خلاف مستقل نفرت کے بیج ڈالے جارہا ہے، ہم حسب عادت اس کا الزام بھارت اور افغانستان پر دھرتے ہیں لیکن اس میں سب سے زیادہ قصور وار ہماری عارضی اور حماقت پر مبنی پالیسیاں ہی ہیں، جن دنوں یہ سلسلہ حضرت ضیاء الحق کے بابرکت دور میں شروع ہوا تو یہ مہاجر نہیں تھے بلکہ خدا کی نعمت تھے، چنانچہ روزانہ کی خبروں میں جتنی جتنی مہاجرین کی تعداد بڑھتی تھی اس سے کہیں زیادہ تیز رفتار سیاسی بیانوں میں بڑھتی تھی اور اس بڑھتی تعداد کو یوں خوشی خوشی سنا جاتا جیسے کوئی امیدوار اپنے ووٹوں کی تعداد بڑھنے پر خوش ہوتا ہے، ویسے ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ ان دنوں مہاجروں کے لیے آئے ہوئے ڈالر جو بالا ہی بالا ہڑپے جاتے تھے۔

یہ اچھا تھا یا برا ۔سوچتے جو ہڑپے گئے اور اتنے زیادہ ہڑپے گئے کہ بہت سارے لوگوں کو بدہضمی ہو گئی، بالفرض خدانخواستہ اگر وہ مہاجروں کو مل جاتے تو وہ پکے مکان بنا لیتے اور ہر طرح سے خود کو پکا کر لیتے کیوں کہ پاکستان میں جو ادارے اور محکمے پکا کرنے کا کام کرتے ہیں وہ نہایت ہی قناعت پسند واقع ہوئے ہیں وہ ڈالروں کے بجائے روپوں میں بھی مان جاتے ہیں اور ایسا مان جاتے ہیں کہ بھینسے کو چھپر پر بھی چڑھا سکتے ہیں، ابتداء میں جب پاکستان کو خدا نے چھپڑ پھاڑ کر ''مہاجر'' دینا شروع کیے تو ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جنہوں نے صرف خیموں اور رضائیوں میں کروڑوں بنا لیے، ہمارے ایک جاننے والے نے چار کروڑ بنا لیے تو پکڑ میں آگیا لیکن پکڑنے والے بھی تو اس کے دشمن نہیں رور بھائی تھے۔

اس لیے صرف ایک کروڑ کے ڈیٹرجنٹ سے باقی کے تین کروڑ ماں کا دودھ کر گیا، اس لیے ہم سوچ رہے ہیں بلکہ آج تک ان لوگوں کے بارے میں برا کہتے سمجھتے اور سوچتے تھے جنہوں نے ڈالروں کی اس برسات میں ہولیاں کھیلی تھیں لیکن اب سوچتے ہیں کہ چلو اچھا ہوا کہ وہ ڈالر اپنے صحیح مقام تک نہیں پہنچ پائے ورنہ نہ جانے کیا انرت ہو جاتا، اب حکومت نے تاجروں اور دکانداروں کو خوش کرنے کے لیے یہ جو ''بے آبرو'' کر کے نکالنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اس سے دکاندار اور تاجر تو خوش ہو جائیں گے کیوں کہ کاروباری میدان میں مہاجر ان کے حریف بنتے جارہے تھے لیکن یہی دکاندار اور تاجدار تھے جنہوں نے مہاجروں کی آمد کو اپنے لیے نعمت عظمیٰ پایا تھا، اتنی جلدی کوئی کسی بھی لینگوئج اسکول میں کوئی زبان نہیں سیکھ سکتا جتنی جلدی سے دکانداروں نے فارسی زبان سیکھ لی تھی بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ اکثر دکاندار پاکستانی خریداروں کو منہ لگانا تک پسند نہیں کرتے، ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ حکومت کی بالائی سطح پر یہ کام ''اچھے'' طریقے سے ہو رہا ہے لیکن ہر محکمے اور ادارے کے نیچے والے اہل کار ان واپس جانے یا ملک بدر کرنے والوں کے ساتھ جو کر رہے ہیں۔

یہ ایسا ہی ہے کہ آپ کسی کو مہمان بنا لیں اس کی خوب خاطر داری کریں اور پھر اسے ''لوٹ'' بھی لیں اور دھکے لگا کر نکال بھی لیں، اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ وہ مہمان اپنی خاطر داری کو یاد رکھے گا یا اپنی بے عزتی اور لوٹے جانے کو، حالانکہ یہ وقت ایسا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے باشندوں کو مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہیے جس کے لیے باہم اعتماد سازی اور اچھا تعلق ضروری ہے، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ جو ایک بڑی آبادی افغانستان کو منتقل ہو رہی ہے وہ اپنے ساتھ کچھ اچھے جذبات لے کر نہیں جارہی ہے بلکہ باقاعدہ ایک نفرت کی گرہ دل میں لے کر جارہی ہے، یہ کام اگر افغانستان سے روسیوں کے نکل جانے کے بعد دھیرے دھیرے اور آہستگی سے شروع کیا جا چکا ہوتا تو اب یہ نوبت نہیں آتی کہ ایک ہلڑ سا مچا ہوا ہے اوراس میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے اچھا نہیں ہو رہا ہے، کوئی بوجھ نہ تو اچانک چھت پر چڑھایا جاتا ہے اور نہ ہی اوپر سے پھینک کر گرایا جاتا ہے کیوں کہ دونوں صورتوں میں الزام چڑھانے اور گرانے والے پر آتا ہے۔