کراچی کی صورتحال ایک لمحہ فکریہ

ملکی سلامتی پر مامور اداروں کو ہدف تنقید بنانے کی روش ترک کرنی چاہیے یہی ملک کے مفاد میں ہے۔


Editorial August 24, 2016
آئی جی سندھ کی ہدایت پرکراچی میں قائم تمام میڈیا ہاؤسز پراسپیشل سیکیورٹی یونٹ (SSU) کے کمانڈوز تعینات کر دیے گئے۔ فوٹو : ایکسپریس

کراچی میں پیدا شدہ نئی صورتحال خاصی تشویش ناک ہے تاہم شکر ہے کہ تمام تر ہنگامۂ داروگیر کے بعد بھی شہر قائد نے ''لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام بھی '' جیسی مراجعت مناسب نہیں سمجھی یا سیاست پھر کوئے ملامت کو جانے پر تیار نہیں ہوئی ، یہ کراچی کا ایک حوصلہ افزا چہرہ اور نئی قلب ماہیت تھی ، اب اس میں کمال تدبر ارباب اختیار اور خود سیاسی جماعتوں اور بالخصوص متحدہ کی قیادت مقامی قیادت کا تھا کہ جس نے صورتحال کی نزاکت کا بروقت ادراک کیا جس کے نتیجے میں کراچی کے خصوصاً اور ملک کے بالعموم حالات حریصانہ و مخاصمانہ نظر ڈالنے والی داخلی و خارجی قوتوں کے رحم و کرم پر نہیں ہیں ۔

یہ کریڈٹ کثیر جہتی ہے اور ملکی سالمیت ، قومی یک جہتی اور جمہوری عمل کے تسلسل کے لیے مطالبات وشکایات کے حل کی پر امن جمہوری جدوجہد سے نہ حکومت کوخائف رہنے کی ضرورت ہے اور نہ معاشرتی فضا خراب ہونے کا کوئی خوف ، لیکن جو کچھ گزشتہ روز ہوا اس کی ملکی حالات کے پیش نظر قطعی ضرورت نہ تھی، الطاف حسین کے بیان نے اہل پاکستان کو تکلیف تو پہنچائی ہے لیکن متحدہ کے احتجاج پر رینجرز ، پولیس اور سندھ حکومت کے اقدامات ناگزیر ہونے کے باوجود صورتحال کی تشویش ناکی اور سنگینی کے سدباب میں فوری مثبت نتائج دے گئے اور کوئی ہولناکی ظہور پذیر نہیں ہوئی ، متحدہ کے گرفتار رہنما فاروق ستار کی رہائی کا فیصلہ قابل تحسین اور زمینی حقائق کے سیاق و سباق میں مناسب تھا ، کراچی میں پریس کانفرنس کرنے کی اجازت بھی ملی، اسی طرح متحدہ کے جو پاکستان دوست رہنما ہیں ان سے بھی احسن طریقے سے معاملات کا تصفیہ ہونا شہر کے مفاد میں ہے۔

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آج کا دن سیاہ ترین دن ہے، پاکستان خلاف ہر سازش کو ناکام بنا دیں گے، حقیقت میں میڈیا ہاوئسز ، سول سوسائٹی اور شہر قائد کے اجتماعی سیاسی کلچر کو لاحق خدشات اگرچہ شدید تھے تاہم یہ دن صوبائی حکومت اور اس کے نئے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کے تدبر کے امتحان کا بھی تھا ۔وہ وقوعہ پر پہنچے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ میڈیا ہاؤسز اور ان کے کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور فائرنگ اور تصادم میں ملوث افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔

انھوں نے اے آر وائی ٹی وی کے دفتر کا دورہ کر کے ٹی وی چینل کی انتظامیہ اور کارکنوں سے ملاقاتیں کیں اور انھیں یقین دلایا کہ حکومت صحافت اور آزادی اظہار رائے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کریگی اور اس حملے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں امن و امان کا قیام ان کی اولین ترجیح ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ان خیالات کا اظہار انھوں نے رات گئے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں امن و امان پر ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈٰی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر ، آئی جی پولیس سندھ اے ڈی خواجہ، اے آئی جی کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ ثناء اللہ عباسی، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے قانون مرتضیٰ وہاب، مشیر برائے اطلاعات مولا بخش چانڈیو اور دیگر نے شرکت کی۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہوش مندانہ کارروائی، سندھ حکومت کے تدبر اورانتشار پھیلانے کی کوشش میں ملوث عناصر کی فوری سرکوبی کے باعث امن ومان کی صورتحال کنٹرول میں رہی جب کہ میڈیا پر حملہ اور پر تشدد سیاست کے غیر متوقع واقعات کے اچانک ظہور پزیر ہونے سے شہر قائد کے لیے مشکلات دو چند ہوسکتی تھیں جب کہ ارباب اختیار ، سیاسی حلقوں اور سول سوسائٹی نے جس معاملہ فہمی، صبر وتحمل ، امن اور شہر سے محبت ، رواداری اور جمہوری رویے کا اظہار کیا ہے وہ کسی بھی سیاسی اقدام کے حق یا اس کی مخالفت سے زیادہ شہر قائد اور پاکستان سے جذباتی و روحانی وابستگی کا آئینہ دار ہے ۔

سیاسی جماعتوں کو دنیا بھر کے جمہوری اور مسلمہ پارلیمانی روایات کے مطابق احتجاج اور مطالبات کو منظور کرانے کے لیے پر امن طریقے اختیار کرنے کی مکمل آزادی ہے ، حکومت اور اپوزیشن رہنما بھی اقتدار و اختلاف کے مابین دو طرفہ بقائے باہمی کو ملکی تعمیر و سلامتی اور داخلی امن و امان کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔ معاملات حکمرانی اسی خیر سگالی ، وطن دوستی اورامن پسندی سے انجام پاتے ہیں۔ سیاسی اختلافات ناگزیر ہیں، جمہوریت کی گاڑی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی ''معاصرانہ چشمک زنی'' اور قومی مفاد کے وسیع تر تناطر میں جاری رہتی ہے، یہی عالمی جمہوری طرز عمل ہے ، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے صائب بات کی ہے کہ جمہوری معاشرے میں بات بندوق سے نہیں منوائی جاتی ، کراچی میں میڈیا پر حملہ کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کے خلاف کچھ نہیں سننا چاہتے، ہر لفظ کا حساب ہوگا۔

اسی طرح آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ کراچی کا امن خراب کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے، ڈی جی رینجرزمیجر جنرل بلال اکبر نے امن قائم رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس تناظر میں پیر کی شام کو جو ناخوشگوار واقعات پیش آئے وہ بلاشبہ ابھی تک ملک کے سنجیدہ اور فہمیدہ طبقوں کی سمجھ سے بالاتر ہیں جب کہ ملک کو دہشتگردی سمیت ہمہ جہتی داخلی مسائل اور اعصاب شکن چیلنجز کا سامنا ہے۔جو ہوا اسے افسوسناک قراردیا گیا ، واقعہ یہ ہے کہ کراچی میں پریس کلب سے باہر ایم کیو ایم کی تا دم مرگ بھوک ہڑتاک جاری تھی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید متحدہ کے وفد سے بات چیت بھی کرچکے تھے ،اس وفد میں ڈاکٹر فاروق ستار، کنور نوید جمیل، خواجہ سہیل منصور اور نسرین جلیل بھی موجود تھیں، وفد نے وزیر اطلاعات کو 20 نکاتی مطالبات پر مشتمل یادداشت پیش کی، وفاقی وزیر اس یقین دہانی پر اسلام آباد روانہ ہوئے کہ متحدہ کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ سے بھی متحدہ کا وفد ملا تھا، مگر پھر ایم کیو ایم کے کارکنوں کی میڈیا ہاؤس پر یلغار کے بعد سب کچھ منتشر ہوگیا۔

رینجرز نے بھوک ہڑتالی کیمپ اکھاڑ دیا، ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو کو سیل کردیا، ڈاکٹر فاروق ستار اور خواجہ اظہار اور نامزد ڈپٹی میئر ارشد وہرا کو ان ہی کی گاڑی میں بٹھا کر رینجرز ہیڈکوارٹر منتقل کردیا۔ دوسری جانب رینجرز کی بھاری نفری نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر مکاچوک کا محاصرہ کیا اور عامر خان و دیگر کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ ادھر رینجرز کی بھاری نفری نے ایم کیوایم رہنما ڈاکٹر عامر لیاقت کے آئی آئی چند ریگرروڈ پر واقع دفتر کا بھی گھیراؤ کیا اور انھیں ساتھ لے گئے۔ ذرایع کے مطابق ملیر میں بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے کارروائی کی ، آئی جی سندھ کی ہدایت پرکراچی میں قائم تمام میڈیا ہاؤسز پراسپیشل سیکیورٹی یونٹ (SSU) کے کمانڈوز تعینات کر دیے گئے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مقتدر سیاست دان قومی ایشوز پر ہوشمندانہ طرز عمل اور سنجیدگی گفتگوکو اپنا شعار بنائیں، سیاسی اختلافات کو قومی مفادات پر ترجیع نہ دیں، اسی لیے قومی اسمبلی میں محمود اچکزئی کا ملکی صورتحال کے حوالے سے انداز بیان غیر ضروری تھا، ملکی سلامتی پر مامور اداروں کو ہدف تنقید بنانے کی روش ترک کرنی چاہیے ۔ یہی ملک کے مفاد میں ہے۔