کشمیر پر مذاکرات لیکن کس سے

مسئلہ کشمیر ہرگز بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ یہ سہ فریقی تنازعہ ہے جس میں پاکستان،بھارت اورکشمیری فریق ہیں


Editorial August 24, 2016
اب یہ نریندرمودی پر منحصر ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ فوٹو : فائل

بھارتی سرکار مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم ڈھانے کی قبیح روایت ترک کرنے کو تیار نہیں اور ''اٹوٹ انگ''کی جھوٹی رٹ تو ہر پردھان منتری کولگانے کی عادت ہے، لیکن گزشتہ روز وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیرکی صورتحال پر مقبوضہ کشمیر کی اپوزیشن جماعتوں کے وفد سے ملاقات کے موقعے پر کہا کہ مسئلہ کشمیرکے مستقل حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے مقبوضہ وادی میں کئی ہفتوں سے جاری پرتشدد واقعات پرگہری تشویش اوردکھ کا اظہارکیا۔

بظاہر تو ایسا محسوس ہوتاہے کہ ان کے موقف میں تبدیلی ہوئی ہے ۔ اور وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کشمیرکے مسئلے کے لیے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات کا راستہ نکالاجانا چاہیے، لیکن سب سے پہلے تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ تاریخی طور پر کشمیر کبھی نہ تو بھارت کا حصہ تھا اور نہ ہوگا، قبضہ کرنا اوراس قبضے کے لیے ہزاروں، لاکھوں کشمیریوں کو قتل عام کروانا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ کشمیری اپنے نہیں ہیں بلکہ غیر ہیں کیونکہ دنیا کی کسی بھی ریاست میں فوج اتنی بے رحمی سے اپنے ہی لوگوں کا قتل عام نہیں کرتی ۔ مسئلہ کشمیر ہرگز بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ، بلکہ یہ سہ فریقی تنازعہ ہے جس میں پاکستان ، بھارت اورکشمیری فریق ہیں ۔بھارت نے تو اقوام متحدہ میں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا، جسے اس نے کبھی پورا نہیں کیا ۔

ہاں دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی خاطر ہمیشہ کٹھ پتلی حکومت سے کام چلایا، کشمیریوں نے تو ہر الیکشن کا بائیکاٹ کیا ۔ ظلم وجبر کی ایک طویل داستان ہے جسے رقم کرنے کے لیے دفترکے دفتر چاہئیں ۔ عالمی سطح پر بھی مسئلہ کشمیر پر اقوام عالم کی حمایت کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ بھارت سے تین جنگیں بھی ہوچکی ہیں مسئلہ کشمیر پر ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارتی حکومت مسئلے کا سیاسی حل نکالنے میں ناکام رہی ہے۔ بس جبر کے ذریعے کشمیریوں کو دبایا جاتاہے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ جاتے ہیں، کشمیر کے قبرستان آباد کرنے اور بستیاں اجاڑنے کی سفاکانہ پالیسی کے باوجود کشمیریوں کا جذبہ آزادی ماند نہیں پڑا ہے ۔ تقریبا چالیس دن ہوچلے ہیں،کشمیر میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، بھارت کو اب سمجھ آجانی چاہیے کہ کشمیر کے مسئلے پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مذاکرات شروع کیے جائیں ۔

ہٹ دھرمی ، زور زبردستی سے آپ کسی کو اپنا غلام نہیں بنا سکتے ۔ دوسری جانب بھارت کی سپریم کورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو سیاسی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے اور ہر مسئلے کو عدالتی حدود میں حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جو ریمارکس سپریم کورٹ نے دیے وہ حقیقت پر مبنی ہیں ۔ بھارت کے آئین میں تو کشمیر کو خصوصی درجہ دیا گیا تھا، تو نریندر مودی اگر واقعی انصاف پسند ہیں تو مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کو کم از کم وہ حقوق تو دے دیں جوایک عام بھارتی کو حاصل ہیں ۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل متضاد ہے ۔ بغل میں چھری ، منہ پر رام رام والی علت کو ترک کیے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس کا منطقی انجام کشمیر کی آزادی کی صورت میں نکلنے گا ۔ اب یہ نریندرمودی پر منحصر ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔