عمران کا خواب

محمد عمران 52 سال پہلے لیاقت آبادمیں پیدا ہوئے، وہیں تعلیم حاصل کی پھر اپنے آبائی پیشے سے منسلک ہوگئے


Dr Tauseef Ahmed Khan August 24, 2016
[email protected]

DI KHAN: محمد عمران 52 سال پہلے لیاقت آبادمیں پیدا ہوئے، وہیں تعلیم حاصل کی پھر اپنے آبائی پیشے سے منسلک ہوگئے ۔کچھ عرصے کے لیے گیس کمپنی میں نوکری کی۔ عمران نے اپنے بزرگوں کی روایت پر عمل کرتے ہوئے بچپن سے ہی سماجی کاموں کواپنا شعار بنالیا اور زندگی کے آخری مرحلے پر لوگوں کی خدمت عبادت سمجھ کرکرتے رہے، عمران کی ساری زندگی لیاقت آباد میں گزری۔ لیاقت آباد کا قدیم نام لالوکھیت تھا۔کراچی کی تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس علاقے میں کھیت پھیلے ہوئے تھے۔

قیام پاکستان کے بعد دہلی' یوپی ، سی پی ، حیدر آباد دکن اور دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے نچلے متوسط طبقے کے افراد یہاں آباد ہوئے۔1971کے بعد مشرقی پاکستان سے بہاری بھی آکر لیاقت آباد میں بس گئے۔ قیام پاکستان کے بعد یہاں آباد ہونے والوں میں بیشتر ہنرمند مزدور تھے۔ یہ مزدور سائٹ اور کراچی کے دوسرے علاقوں کے صنعتی اداروں میں کام کرتے تھے۔ تعلیم یافتہ اساتذہ، صحافیوں، وکلا ، ڈاکٹروں، انجینئروں کی اکثریت بھی لیاقت آباد میں آباد ہوئی، اس طرح لیاقت آباد میں سماجی اور سیاسی شعور دوسرے علاقوں سے زیادہ بڑھ گیا ۔

سیاسی کارکن جان عالم جو لیاقت آباد میں پروان چڑھے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے علاقوں شاہجہاں پور، آگرہ، رام پور، بریلی اوردہلی وغیرہ سے آنے والے ہنرمند مزدور جوشیلے اور باشعور تھے، ان علاقوں کے رہنے والوں نے 1857کی جنگ آزادی میں قربانیاں دی تھیں۔ یہ لوگ مسلم لیگ کی تحریک آزادی میں زیادہ فعال تھے ۔ سینئر صحافی عابد علی سید کہتے ہیں کہ 1963میں سائیٹ کے علاقے میں چلنے والی مزدور تحریک میں لیاقت آباد اور اطراف کے علاقوں کے مزدوروں نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ پولیس نے بہیمانہ فائرنگ کرکے مزدوروں کی تحریک کو کچلا تھا۔

اردو بولنے والے مزدوروں کے لیے روزگار کے دروازے محدود ہوگئے تھے جن لوگوں نے لیاقت آباد اور اطراف کے علاقوں میں سڑکوں اور گلیوں میں چھوٹے چھوٹے کارخانے قائم کیے۔ یہ کارخانے آج بھی لیاقت آباد میں موجود ہیں۔ ایوب خان کی آمریت کے خلاف تاریخی مزاحمت کی ایک الگ داستان ہے ۔ ایوب خان کی آمریت کے خلاف تاریخی مزاحمت کے بارے میں اخباروں میں شایع ہونے والی خبروں سے واضح ہوتا ہے ایوب خان اور فاطمہ جناح کے درمیان ہونے والے صدارتی معرکے میں لیاقت آباد کی عوام فاطمہ جناح کے ساتھ تھے۔

لیاقت آباد کے عوام نے 1968 میں ایوب خان کے خلاف ہونے والی تحریک میں اہم کردارادا کیا تھا۔ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے تعلق رکھنے والے رہنما علی مختار رضوی، معراج محمد خان وغیرہ اس ایجی ٹیشن میں بنیادی کردار ادا کررہے تھے۔ اس علاقے میں مسلم لیگ کے علاوہ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان خاصی مقبول رہیں، پیپلزپارٹی نے 1970میں معراج محمد خان کو قومی اسمبلی کا امیدوار نامزد کیا تھا۔ جماعت اسلامی نے پروفیسر غفورکو ٹکٹ دیا تھا۔ معراج محمد خان نے انتخاب لڑنے سے انکار کیا یوں غفور صاحب انتخابات میں کامیاب ہوئے۔ 1985سے لیاقت آباد کی سیاسی ماحول میں تبدیلیاں رونما شروع ہوئیں اور یہ علاقہ ایم کیو ایم کا سب سے مضبوط مرکز بن گیا۔ایم کیو ایم نے 1988 سے 2013تک جتنے انتخابات میں حصہ لیا، ان کے امیدوارکامیاب ہوئے۔

لیاقت آباد ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نوے گزکے پلاٹ کی بنیاد پر آبادکیا گیا تھا۔ پہلے یہاں جھگیاں ڈالی گئی تھیں پھر لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مکانات تعمیرکیے تھے، پھر سیاسی اور سماجی کارکنوں کی کوششوں سے بجلی آگئی، پانی کے کنکشن گھروں میں لگ گئے ،گٹر لائنیں تعمیر ہوئیں اور سڑکیں کشادہ ہوگئیں۔ جان عالم ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لیاقت آباد کی سڑکیں چوڑی اورگلیاں کشادہ ہوتی گئیں ،گھروں کی لائنوں کے درمیان تعمیر ہونے والی گلیاں پندرہ فٹ چوڑی تھیں جہاں رات کو مرد پلنگ بچھاکر سوجاتے تھے۔

دن میں خواتین اپنے کام کاج کرتی تھیں اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا تصور نہیں تھا۔ محمد عمران نے اسی ماحول میں اپنی زندگی کا آغاز کیا، ان کے ماموں اشفاق احمدخان نیشنل عوامی پارٹی اور پیپلز پارٹی کے بانیوں میں شامل تھے۔دوسرے ماموں آئی اے رحمنٰ صحافی ہیں اور ہمیشہ انسانی حقوق کی جدو جہد میں مصروف رہے ہیں۔ اشفاق خان نے یحییٰ خان اور جنرل ضیاء کی مارشل لا ادوار میں طویل جیل کاٹی تھی، یوں عمران کے ذہن میں ہمیشہ سے جدوجہد کا شعور موجود تھا۔ عمران نے سماجی خدمات کا راستہ اختیار کیا ، گزشتہ صدی کے اختتام سے لیاقت آباد میں اہم تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوئیں، ملک کے اور سندھ کے مختلف علاقوں سے لوگ آکر آباد ہونے لگے، ان لوگوں نے کرائے پر مکانات حاصل کیے اور عمارتوں کی خریداری میں سرمایہ کاری کی۔یوں بلڈر مافیا میدان میں آگئی، نوے گز کے مکان کو توڑ کر چار سے پانچ منزلہ عمارتیں تعمیر ہونے لگیں ۔بے ہنگم عمارتوں کی تعمیر سے سڑکیں محدود ہوگئیں ،گلیاں بند ہوگئیں۔ اسکول کی بڑی بسوں میت گاڑیوں ایمبولینس کے گھروں تک پہنچنے کے راستے بند ہوگئے۔

بجلی کا غائب ہونا عام سی بات بن گئی، پھر بجلی کے نرخ اتنے بڑھادیے عام آدمی کے لیے بل ادا کرنا مشکل ہوگیا۔ جس کے نتیجے میں پانی کی سپلائی اور گندے پانی کی نکاسی کا کام براہ راست متاثر ہوا ہے۔ جب بلدیاتی ادارے منتخب نمایندوں کی نگرانی میں کام کرتے تھے تو پانی کی فراہمی صفائی اور گندے پانی کی نکاسی کا نظام بہتر تھا، لوگ اپنے کونسلروں کے ذریعے شکایت کرتے تھے اور ان شکایات کا فوری طور پر ازالہ ہوتا تھا۔عمران اپنے دن کا بیشتر حصہ بجلی کی نایابی کی شکایتیں، پانی نہ آنے گٹر لائنوں کے بندہونے اور ٹوٹی ہوئی لائنوں کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مختلف محکموں کے چکر لگاتے تھے۔انھوں نے اس علاقے کے کونسلروں کے ساتھ مل کر خاصا کام کیا تھا یہی وجہ تھی کہ گزشتہ دسمبر میں جب سپریم کورٹ کے حکم پر بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے تو علاقے کے لوگوں نے یونین کونسل 40کے جنرل کونسلر کے لیے عمران کا نام تجویز کیا۔ ایم کیو ایم نے عمران کو ٹکٹ دیا عمران دوسرے امیدواروں کی طرح انتخابات میں کامیاب ہوئے۔

یہ وہ وقت تھا جب لیاقت آباد کا بلدیاتی ڈھانچہ مکمل طور پر مفلوج ہوچکا تھا۔ بیشتر علاقوں میں پانی نہیں آتا تھا اور گٹر کا پانی چوبیس گھنٹے جمع رہتا تھا، ان خراب ماحولیاتی صورتحال کی بنا پر لیاقت آباد میں پیٹ کے امراض، خارش ، بخار، ٹائیفائیڈ، یرقان دل کی بیماری اورکینسر جیسے امراض کی شرح بڑھ گئی ۔ عمران اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں سے بلدیاتی حکام لیاقت آباد کے مختلف علاقوں میں نئے گٹر لائنوں کی تعمیر پر تیار ہوئے کے الیکٹرک نے لائنوں کی تبدیلی اور نئے پی ایم ٹی لگانے پر اتفاق کا اظہار کیا۔ مگر عمران کی بیماری نے بہت سے کام ادھورے چھوڑ دیے۔ عمران کا خیال یہ تھا کہ منتخب کونسلروں کو اسکولوں اور اسپتالوں میں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے پرانے پارکوں کو بہتر بنانے لائبریریوں میں اخبار کتابوں کی فراہمی اور نوجوانوں میں بیروزگاری جیسے مسائل کے حل کے لیے جدو جہد کرنا ہوگی۔

عمران مئی کے مہینے میں اپنے علاقے میں گٹر لائن کی مرمت کے کام کی نگرانی کررہے تھے، اس دن شدید گرمی تھی، عمران کے دوست ڈاکٹر سعید وہاں سے گزرے ان کی نظر عمران کے چہرے پر پڑی اور وہ اچانک رک گئے، عمران کے چہرے کی جلد سیاہ ہوگئی تھی، جب ڈاکٹر سعید نے عمران کی توجہ ان کی جلد کی رنگت میں تبدیلی کی طرف کرائی تو عمران نے کہا کہ کئی دن تک دھوپ کھڑے رہنے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے عمران کو دواخانہ بلایا اور عمران کو مختلف ٹیسٹ کرانے کی ہدایت کی اوران ٹیسٹوں کے نتیجے میں یہ پتہ چل گیا کہ عمران جگر کے کینسر میں مبتلا ہیں ۔ عمران نے زندگی کی آخری لڑائی بڑے جرأت کے ساتھ لڑی ان کے بڑے بھائی محمد عرفان دن رات بھائی کی زندگی بچانے میں مصروف رہے۔

لیاقت آباد کے بہت سے لوگوں کی بیماری کی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے، جو بلدیاتی اداروں کے فعال نہ ہونے کی وجہ سے بڑھ رہی ہے ۔عمران کا ذہن آخری وقت تک کام کرتا رہا ، عمران کا خیال یہ تھا کہ بلدیاتی اداروں کی نگرانی منتخب نمایندے کریں گے تو وہ زیادہ بہتر انداز میں لیاقت آباد کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوں گے ۔ صفائی کا نظام بلدیاتی اداروں سے چھین لیا گیا ہے، اس طرح لوکل ٹیکس ماس ٹرانزٹ ماسٹر پلان تعلیم صحت واٹر بورڈ بلڈنگ کنٹرولر اتھارٹی کے ڈی اے وغیرہ اب منتخب نمایندوں کی نگرانی میں نہیں ہوں گے مگر عمران سمجھتے تھے کہ جب منتخب نمایندے اپنے اختیارات سنبھال لیں گے تو بلدیاتی اداروں کو ان کے اختیار واپس ملیں گے۔