متحدہ کے سامنے چیلنجوں کا صحرا

شہر قائد کی ایک بھاری مینڈیٹ رکھنے والی مہاجروں کی سب سے بڑی پارٹی کو داخلی انتشار سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے


Editorial August 25, 2016
بلاشبہ گیند اب فاروق ستار اور ان کی ٹیم کے پاس ہے جسے سیاسی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہوشمندی سے کام لینا ہوگا۔ فوٹو:فائل

منگل کو کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ میں داخلی سطح پر تنظیمی تبدیلیوں کا اہم اعلان کیاگیا اور کراچی پریس کلب میں ایک ہنگامی و پرہجوم پریس کانفرنس میں متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما فاروق ستار نے لندن آفس سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ کے فیصلے آج سے لندن میں نہیں پاکستان میں ہونگے، متحدہ کے قائد کی ذہنی کیفیت کا مسئلہ حل کرنے کی ضرورت ہے، ہم پاکستان کی جماعت ہیں، یہیں رجسٹرڈ اور یہیں سیاست کرتے ہیں، ایم کیو ایم اب پاکستان سے آپریٹ ہوگی۔

انھوں نے پاکستان مخالف نعروں اور میڈیا ہاؤسز پر حملوں کی مذمت اور ان سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو یقین دلایا کہ ایم کیو ایم کا کارکن ہو یا قائد کسی کو ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے ایسا عمل نہیں دہرانے دیں گے۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن یا رینجرز اختیارات کے خلاف نہیں، سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کی سوچ ترک کر دی جائے، نائن زیرو اور دیگر سیل دفاتر کو کھولا جائے۔

متحدہ پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ کس حد تک متحدہ کی نشاۃ ثانیہ یا احیا کا پیغام لے کر نمودار ہوں گے اور داخلی دراڑ اور پاک سرزمین پارٹی سمیت ایم کیو ایم حقیقی کی موجودگی میں کس طرح کراچی کے مخدوش سیاسی وسماجی منظر نامے کو یکسر تبدیل کریں گے اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے، اس کی بنیادی وجہ بھی متحدہ کی سیمابی اور جارحانہ لسانی سیاست ،ان کی تنظیمی ساخت ، پارٹی پر مکمل کنٹرول کے غیر مشروط اور وفادارانہ وابستگی کے میکنزم اورایک غیر مرئی فسطائیت سے جڑی وہ داستان ہے جسے اب وہی بیان کریں گے جنہوں نے متحدہ کے دشت سیاست کے ناز بھی اٹھائے اور کراچی میں شورش جیسی ہولناک صورتحال کے کئی لہو رنگ نظارے دیکھے۔

1985ء میں ایم کیو ایم کا قیام عمل میں آیا، اس سے قبل بھی کراچی کی سیاست میں مہاجر عنصر غالب تھا تاہم سیاسی شناخت کے حوالے سے کراچی اپنے ایک الگ تفکرانہ ،دانشورانہ اور بندہ پروری کے مزاج اور کلچر سے پہچانا جاتا تھا، ایک وسیع المشربی تھی جو منافرت ، قومیت ، لسانیت، علاقائیت، فرقہ واریت،برادری ازم اور قبضہ گیری و سیاسی بالادستی کی خواہشات سے پاک تھی، شہر قائد بلاشبہ ایشیا کا خوبصورت شہر کہلاتا تھا، اسے فصیح صحافتی اصطلاح میں عروس البلاد (شہروں کی دلہن) کا لقب ملا تھا ۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام تر الزامات اور تلخ حقائق کے باوجود ایم کیو ایم اب بھی ایک حقیقت ہے اور اسے سیاسی جماعت کے طور پر اپنا جمہوری کردار ادا کرنے کے لیے جس قدر سیاسی جماعتوں کی حمایت ملنی چاہیے اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کشادہ دلی سے کام لیں، قائد تحریک کے افسوس ناک بیان کی سزا پوری اردو بولنے والی برادری کو ہر گز نہیں ملنی چاہیے، فاروق ستار کو اعتبار، حمایت، اشتراک عمل اور دوستانہ جمہوری رفاقتوں کی اشد ضرورت ہے۔ ایم کیو ایم مشاہدہ کر سکتی ہے کہ ابتلا و آزمائش کی اس گھڑی میں متحدہ کتنی درد ناک تنہائی سے دوچار ہے، اسے اپنے کارواں میں جمہوریت پسند، علم دوست اور خدمت خلق کا جذبہ رکھنے والے بزرگ دانشوروں، سیاسی اکابرین اور مختلف مکاتب فکر کے بے لوث افراد کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا ، سفر دشوار ضرور ہے مگر تنظیمی تطہیر ناگزیر۔ اگر خود احتسابی کا عمل دہرایا نہ گیا تو مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

قائد متحدہ و دیگر رہنماؤں کے خلاف غداری کے مقدمات درج ہوئے ہیں، ایم کیو ایم کا نیا سیاسی کردار سندھ کی سیاست سمیت ملکی سیاسی افق کو نئی سیاسی رمزیت سے آشنا کرسکتا ہے لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے پارٹی کی جمہوری قلب ماہیت لازمی ہے، جس پارٹی نے صعوبتیں برداشت کی ہیں،وہ یہ بھی ادراک کرے کہ اس کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے والوں سے بھی متحدہ کا سلوک اچھا نہیں تھا، گذشتہ تین چار عشروں میں کراچی اور اندرون سندھ کے سیاسی پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے، ایم کیو ایم بلینک سلیٹ سے اپنے نئے جمہوری سفر کی کہانی کا عنوان تحریر کرے، سیاسی و جمہوری روایات کے ساتھ تنظیمی ڈھانچہ کی بحالی پر توجہ دے، اس کی قوت اس کا ووٹ بینک ہے۔

پیدا شدہ مایوسی پارٹی کی پالیسوں کے باعث پیدا ہوئی ہے، اس کی ذمے دار متحدہ قیادت ہے۔ متحدہ کے پلس اور مائنس پوائنٹس سیکڑوں ہیں، شہر قائد کی ایک بھاری مینڈیٹ رکھنے والی مہاجروں کی سب سے بڑی پارٹی کو داخلی انتشار سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے، حالات حاضرہ کے حوالے سے سیاسی ، سماجی ، فکری اور کاروباری طبقوں میں ایم کیو ایم میں رونما ہونے والے خلفشار پر بحث و مباحثے جاری ہیں جب کہ مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیوں کے سلسلے مزید دراز ہوسکتے ہیں ، ایم کیو ایم کے آئین کا ذکر چھڑا ہے، جس میں سپریم اختیارات کے سارے راستے اور آپشن تحریک کے قائد کی ذات سے جاکر ملتے ہیں اس بنا پر تجزیہ کار ڈاکٹر فاروق ستار کی آئینی حیثیت ، با اختیاریت اور ان کے لندن سیکریٹیریٹ سے علیحدگی کے اعلان کو کسی توثیق سے مشروط کرتے ہیں۔

متحدہ کے کئی رہنما، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز صدمہ کی حالت میں ہیں ، بلکہ یہ کہنا درست ہے کہ پوری اردو اسپیکنگ کمیونٹی کو اس صورتحال سے شدید جذباتی روحانی اور اعصابی دھچکا لگا ہے، متحدہ کراچی و حیدرآباد کی بلاشرکت غیرے تقدیر کی مالک بنی ہوئی تھی ، وہ شہر قائد کے لیے make or break جیسی قوت قاہرہ تھی۔ آج کراچی لاوارثوں کا شہر معلوم ہوتا ہے، ایم کیو ایم کی سیاسی جدوجہد کا ایک تاریخ ساز عہد بیت چکا ہے اور مہاجر قومی موومنٹ سے لے کر متحدہ قومی موومنٹ تک ابھی بہت سارے سوالوں کے جواب سامنے آنا باقی ہیں، میڈیا میں ایک عجیب پراسراریت کو جگہ دی جارہی ہے جس سے حقیقت کے خرافات میں کھونے کا خدشہ ہے ۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی میں پیدا شدہ صورتحال کی کیمسٹری بیان کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ گزشتہ روز وہ 8 گھنٹے رینجرز کے پاس رہے تو لامحالہ یہ تاثر جائے گا کہ سیکیورٹی اداروں کے دباؤ کی وجہ سے یہ بیان آیا، چنانچہ ان کی طرف سے واضح کیا گیا کہ کسی کے خوف یا ڈکٹیشن پر پریس کانفرنس نہیں کر رہے ، ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے جو بات گزشتہ روز کرنی تھی وہی آج کرنے جا رہے ہیں۔

دریں اثنا عامر لیاقت حسین نے کہا کہ ہمارے لیے صرف پاکستان زندہ باد ہے، اب ہم مزید یہ گفتگو نہیں سن سکتے، انھوں نے ایم کیو ایم چھوڑنے اور سیاست سے تائب ہونے کا اعلان کیا۔ سیاسی و عسکری قیادت نے ایک اجلاس میں کہا ہے کہ کسی کو کراچی کا امن تباہ کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی ۔ ادھر کراچی میں میڈیا ہاؤسز پر حملوں کے خلاف مختلف صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے ملک بھر میں احتجاج کیا۔ بلاشبہ گیند اب فاروق ستار اور ان کی ٹیم کے پاس ہے جسے سیاسی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہوشمندی سے کام لینا ہوگا۔