الیکشن کی ابتدائی جھلک
اگر کبھی الیکشن ہوتا ہے تو ہم اس کے غیر مانوس آداب اور روایات کا زیادہ احترام نہیں کر پاتے.
میں اس وقت ٹی وی پر ضمنی الیکشن کے نتائج کی باتصویر رپورٹنگ دیکھ رہا ہوں۔ ایک حلقے میں زبردست فائرنگ ہو رہی ہے۔ یہ فائرنگ کرنے والے ایک کامیاب امیدوار کے بے تاب حامی ہیں۔ میرے ساتھ جو لوگ بیٹھے ہیں وہ فائرنگ پر سخت معترض ہیں لیکن میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم چونکہ الیکشن کے عادی نہیں ہیں اور ہمارے ہاں زیادہ وقت غیر الیکشنی حکومتوں کی ماتحتی میں گزرتا رہا ہے اس لیے ہم ووٹ کی پرچی سے زیادہ میرے ہموطنو کے اعلان کے عادی ہیں.
ایسے میں اگر کبھی الیکشن ہوتا ہے تو ہم اس کے غیر مانوس آداب اور روایات کا زیادہ احترام نہیں کر پاتے چنانچہ حالات حاضرہ کے خلاف چھپی ہوئی جارحانہ خواہشوں کی تسکین کے لیے فائرنگ پر اتر آتے ہیں اس کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ ہمارے سیاستدان جمہوری بن جائیں اور فوجی آمروں کا دست و بازو بننے سے باز آ جائیں۔ درست کہ فوجی جرنیلوں کی تربیت ایک خاص محدود ماحول میں ہوتی ہے اور ان کے ذہنوں میں زیادہ وسعت اور فراخی نہیں ہوتی لیکن وہ اپنے ملک کے کمزور سیاستدانوں اور اپنی طاقت دونوں سے بے خبر نہیں ہوتے چنانچہ جب وہ میڈیا پر اپنے ہموطنوں سے خطاب کرتے ہیں تو سیاستدانوں کی بھاری اکثریت امیدیں باندھ کر بیٹھ جاتی ہے کہ انھیں کب پکارا جائے گا۔
الیکشن کی ایک جھلک آپ نے ضمنی الیکشنوں میں دیکھ لی لیکن بڑے الیکشن سے پہلے ہی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے بارے میں جو گفتگو کر رہی ہیں اس میں عوام کی تفریح طبع کا بہت بڑا سامان ہے۔ اگرچہ ان دنوں ایک مدت کے بعد بھارتی فلمیں ہمارے ہاں دکھائی جانے لگی ہیں اور ان کی طرحدار اداکارائوں کو پاکستانی قوم پہلی بار دیکھ رہی ہے لیکن پھر بھی ہمارے انتخابی سیاستدان ایک دوسرے کے بارے میں جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ کسی بھارتی فلم سے کم نہیں ہے بلکہ اس میں تفریح طبع کا سامان شاید زیادہ ہی ہے۔
میں ذاتی طور پر افسردہ ہوں کیونکہ پیپلز پارٹی کی کارکردگی بہت ہی مایوس کن ہے، جس سیاست میں پیپلز پارٹی نہ ہو وہ بھی کوئی سیاست ہے، جو رونق جیالے دکھاتے اور لگاتے ہیں وہ کسی بھارتی فلم ساز کے تصور میں بھی نہیں آ سکتی۔ عمران خان کے متوالوں نے بھی بہت رونق لگائی جس کا ایک نمونہ لاہور کے جلسے میں پہلی بار دیکھا گیا اور تقریروں کے ساتھ ساتھ موسیقی بھی گونجتی رہی، جلسے میں ادھر ادھر رقص بھی کیا جاتا رہا، وہ تو جلسے کچھ رک گئے ہیں ورنہ متوالے کئی رنگ دکھاتے۔ ہمارے نوجوانوں نے قدرتی طور پر عمران کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن خان صاحب اچانک قیلولہ میں چلے گئے اب وہ جاگے ہیں اور ہم توقع کر رہے ہیں کہ وہ کوئی نیا رنگ دکھائیں گے۔
وہ ایک دو دنوں کے بعد نئی فوجی حکومت کی قربت تلاش کرنی شروع کر دیتی ہے۔ ہماری فوج بھی ہم میں سے ہوتی ہے اور سیاستدانوں سے باخبر اور متعارف ہوتی ہے اس لیے زود یا بدیر سیاستدانوں کو قبول کر لیا جاتا ہے۔ اقتدار تو جرنیلوں کے پاس رہتا ہے لیکن ان کی سویلین سپاہ یا اہلکار بھی ان کی مدد کے لیے تیار ہوتے ہیں ان کی مدد سے جرنیل آرام سے حکومت شروع کر دیتے ہیں۔ صرف ایک بار ایسا ہوا کہ فوجی حکومت سے ناآشنا سیاستدان جھجھکتے رہے لیکن پاکستان کے پہلے فوجی حکمران ایوب خان نے کچھ عرصہ بعد خود ہی محسوس کر لیا کہ سویلین پلٹن کے بغیر مارچ کرنا مشکل ہوگا۔ بہر حال کنونشن لیگ بنی اور باقی قصہ آپ کو معلوم ہی ہے لیکن ایوب خان کے بعد جب یحییٰ خان آئے تو انھیں سویلین کی پلٹن بنی بنائی مل گئی۔ کتنے ہی سیاستدان ان کے آس پاس حاضر خدمت رہے اور تو اور ہمارے انقلابی بھٹو صاحب تو ان سویلین کے کمانڈر تھے۔
پھر ایک وقفے کے بعد ضیاء الحق آ گئے۔ انھوں نے اسلام کا علم بلند کیا، اس علم کے سائے میں انھیں ایک مضبوط لشکر مل گیا۔ وہ اگر امریکا سے اندر خانے ٹکر نہ لیتے اور امریکا کی متعین حدود کی خلاف ورزی کا ارادہ نہ کرتے تو ان کا جہاز تباہ نہ ہوتا اور صحیح و سلامت اسلام آباد لوٹ آتا۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے بہت صبر کیا مگر کب تک، انھیں ایک بہانہ مل گیا اور وہ ملک پر ایسے مسلط ہوئے کہ اب تک ایک بار پھر اقتدار کے طلب گار ہیں۔ اس پس منظر میں اگر پاکستانی الیکشن سے مانوس نہ ہوں تو ان کا قصور...
جب کہ کسی منتخب حکومت کے باوجود وہ فوج کے منتظر رہتے ہیں جیسے موجودہ حکومت میں تو فوج پر بزدلی تک کے الزامات لگائے گئے لیکن جنرل کیانی نے صبر کیا اور اب گیند سیاست کے میدان میں پھینک دیا ہے یعنی اقتدار قوم کے سپرد کرنے کا عزم کر لیا ہے۔ اب الیکشن میں قوم نے خود اپنے حکمرانوں کا فیصلہ کرنا ہے۔ ضمنی الیکشن میں قوم نے اپنے ارادوں کی جو جھلک دکھائی ہے اس سے کچھ اندازہ ہوتا ہے کہ قوم کے ارادے کیا ہیں۔ سب سے بڑی خبر ہماری عوامی پیپلز پارٹی کا صفایا ہے۔ افسوس کہ عوام نے فی الحال اس کا ساتھ نہیں دیا شاید اس لیے کہ پارٹی کی حکومت نے عوام کا صفایا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔