کراچی کے دکھ اجتماعی ہیں

سندھ کی تلاطم خیز سیاست ایک نئے دورانئے میں داخل ہوچکی ہے۔


Editorial August 26, 2016
سندھ کی تلاطم خیز سیاست ایک نئے دورانئے میں داخل ہوچکی ہے۔ فوٹو؛ ایکسپریس

سندھ کی تلاطم خیز سیاست ایک نئے دورانئے میں داخل ہوچکی ہے جہاں ایک طرف بلدیاتی انتخابات کا آخری مرحلہ بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا جب کہ دوسری جانب ملکی سالمیت کے خلاف ہرزہ سرائی کا سختی سے نوٹس لیا گیا اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سمیت متحدہ قائد کے خلاف برطانیہ سے قانونی کارروائی کے لیے رابطہ کی تصدیق بھی کی گئی۔

ایک اہم پیش رفت میئر و ڈپٹی مئیر ، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات کے پر امن انعقاد کی صورت میں سامنے آئی، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے بے ضابطگیوں کی شکایت کی ، تاہم الیکشن کمیشن کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میئر و ڈپٹی میئر کے انتخابات میں ایم کیوایم نے کراچی و حیدرآباد جب کہ پیپلز پارٹی نے اندرون سندھ کامیابی حاصل کی، ایم کیوایم کے وسیم اختر 208 جب کہ ارشد وہرہ 205ووٹ کے ساتھ بالترتیب میئر و ڈپٹی میئر منتخب ہوگئے۔

ان کے مد مقابل پیپلزپارٹی کے کرم اللہ وقاصی نے86 جب کہ ڈپٹی میئر کے لیے مدمقابل امان اللہ آفریدی نے89ووٹ حاصل کیے۔ایم کیو کے مد مقابل6 رکنی اتحاد میں پھوٹ پڑنے کی باتیں بھی منظر عام پر آئیں ، اسی طرح بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کے میئر اور ڈپٹی میئر کے الیکشن میں متحدہ قومی موومنٹ کے امیدواروں نے بھاری اکثریت سے میدان مار لیا اور ایم کیوایم کے سید طیب حسین بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کے چوتھے میئر منتخب ہوگئے جب کہ میونسپل کمیٹی ٹنڈوجام کے چیئرمین اور وائس چیئرمین شپ پیپلزپارٹی کے نامزد امیدواروں نے حاصل کرلی۔

بلدیاتی الیکشن کے اس آخری مرحلہ کے بعد اب کراچی و سندھ کے سیاسی تاریخی اور سماجی حوالہ سے ایک نئے دور کا آغاز ہوتاہے، ایم کیو ایم ایک نئی شکل اور تنظیمی ڈھانچہ کے ساتھ سیاسی افق پر جلوہ گر ہورہی ہے اگرچہ ابھی کراچی کی اس بڑی مینڈیٹ رکھنے والی جماعت کو داخلی و خارجی سطح پر بے شمار سیاسی آزمائشیں درپیش ہیں، لندن سے کی جانے والی دلآزاری پر مبنی تقریر کا فال آؤٹ بھی غیر معمولی ہے ، قومی سلامتی اور ملکی خود مختاری و آزادی کے خلاف اس ہرزہ سرائی کو معاف کرنے کے لیے قوم کا اجتماعی ضمیر کسی طور رضامند ہونے پر تیار نظر نہیں آتا، متحدہ کو اس ضمن میں ''دست تہہ سنگ'' کی پوزیشن سے بھی نکلنا ہے۔

اسے میڈیا میں جاری اعصاب شکن بحث کے سیاسی، نظریاتی اور اخلاقی ایشوز پر ارباب اختیار کو مطمئن بھی کرنا ہے کیونکہ کراچی میں امن کا قیام ، دہشتگردی کا خاتمہ اور متحدہ کی نئے رنگ و آہنگ سے سیاسی پیش قدمی سیاسی افسانہ کا اہم موڑ ہے ، نو آزاد ایم کیو ایم کو اپنے منشور ، پارٹی آئین اور اس کے بانی اور ان کے سپریم اختیارات کی موجودہ صورتحال کا جواب بھی دینا ہے، کئی حساس امور ایم کیو ایم کی قیادت کے لیے بے حد اہمیت کے حامل ہیں جن میں مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے مطالبات اور سول سوسائٹی کے رد عمل کو بھی فاروق ستار کی ٹیم نظر انداز نہیں کرسکتی۔ ایم کیو ایم میں ہونے والی غیر معمولی اور زلزلہ خیز تبدیلیوں کے سیاق وسباق میں وفاقی حکومت بھی متحرک ہوگئی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے ایک اجلاس میں مختلف صوبائی اور وفاقی ایجنسیوں کی طرف سے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس عمل کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ متحدہ قائد کے خلاف برطانیہ سے رابطہ کی بھی منظور دی گئی، اجلاس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ نہ تو چوائس اور نہ ہی آپشن بلکہ یہ ہمارے وجود اور بقا کے لیے ناگزیر ہے، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ الطاف حسین کے خلاف شواہد برطانیہ کودے دیے ہیں۔

تقریر نے تمام پردے ہٹا کر سارے رازعیاں کردیے، گورنر ہاؤس کراچی میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کراچی کے عوام کو مبارکباد دیتا ہوں جنہوں نے 25 سال کا بوجھ اتار پھینکا، اب کراچی کو کوئی یرغمال نہیں بنا سکے گا، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ الطاف حسین نے پاکستان کی ریاست پر براہ راست حملہ کیا ، کارکنوں کو میڈیا ہاؤسز پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا جس کے بعد کراچی میں پرتشدد کارروائیاں کی گئیں ۔ اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ قائد متحدہ کی طرف سے پریس ریلیز آنے کے بعد سے ابہام دور ہوگیا ہے۔

لندن والوں پر پہلی بار فیصلہ مسلط کیا ہے۔ فاروق ستار نے نائن زیرو اور دیگر دفاتر کھولنے کی اپیل کی جس پر زمینی حقائق پر نظر رکھتے ہوئے ہمدردی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا ناگزیر ہے کہ کراچی کے عوام کو صرف ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی شراکت داروں سے شکایت نہیں بلکہ شہر قائد کے دکھ اجتماعی ہیں، اس لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور سول سوسائٹی کو آگے بڑھ کر کراچی کو سنبھالنا چاہیے۔ یہ ملکی اقتصادی انجن اور پاکستان کی امیدوں کا مرکز ہے، اس کی تکلیف کو سبھی اہل وطن محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ آنے والے دنوں میں منی پاکستان میں ہم وطنوں کو حالات بدلے ہوئے ملیں گے۔