تحریک قصاص

عوامی تحریک اورمنہاج القرآن کی طرف سے حکومت کے خلاف تحریک قصاص کا آغاز ہوگیا ہے


Zaheer Akhter Bedari August 25, 2016
[email protected]

عوامی تحریک اورمنہاج القرآن کی طرف سے حکومت کے خلاف تحریک قصاص کا آغاز ہوگیا ہے۔ پہلے دن ایک سو سے زیادہ شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں جن سے ہزاروں کارکنوں نے جن میں مرد ،خواتین، بوڑھے، جوان سب شامل تھے، حصہ لیا 2014 میں اسلام آباد میں دھرنا تحریک کے بعد طاہر القادری کی یہ دوسری بڑی تحریک ہے جس کا دائرہ کراچی سے پشاور تک وسیع ہے۔

طاہر القادری دوجماعتوں عوامی تحریک اور منہاج القرآن کے سربراہ ہیں چونکہ دونوں جماعتیں نظریاتی بنیادوں پر استوار ہیں لہٰذا ان کے تمام کارکن نظریاتی ہیں اور نظریاتی کارکنوں کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنے قائد کی آواز پر بے دھڑک لبیک کہتے ہیں اور سخت سے سخت امتحان میں بھی مستقل مزاج رہتے ہیں جس کا مشاہدہ دنیا نے 2014 کی دھرنا تحریک میں عوام نے کیا۔ مہینوں تک کھلے آسمان تلے ہزاروں خواتین اور بچے موسم کی سختیاں برداشت کرتے رہے لیکن ان میں کسی قسم کی مایوسی نہیں دیکھی گئی۔اسی تحریک کے آغاز میں ماڈل ٹاؤن میں وہ المیہ پیش آیا جس میں پولیس کی براہ راست فائرنگ سے 14 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔

اس ظلم کے خلاف عوامی تحریک اور منہاج القرآن کی طرف سے ایف آئی آرکٹوانے کی کوشش کی گئی لیکن لاہور پولیس نے ایف آئی آر نہیں کاٹی۔ طاہر القادری نے چیف آف آرمی اسٹاف سے درخواست کی کہ وہ ایف آئی آر کٹوانے میں مدد کریں یوں جنرل راحیل شریف کی مداخلت پر اس سانحے کی ایف آئی آر درج ہوئی ۔ ایف آئی آر درج کرانا ہر شہری کا حق ہے لیکن 14 کارکنوں کی ہلاکتوں کے خلاف عوامی تحریک کی ایف آئی آر درج نہ کرنا نہ صرف قانون کی خلاف ورزی تھی بلکہ اس سے عوام میں یہ شکوک کا پیدا ہونا فطری تھا کہ پولیس کے اس غیر قانونی رویے کے پیچھے پنجاب کے حکمرانوں کا ہاتھ ہے۔ اس تاثر کی وجہ یہ تھی کہ ایف آئی آر میں پنجاب حکومت کے ذمے داروں پر الزام عائد کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا اس دوران ماڈل ٹاؤن المیے کے خلاف تحقیقات کی جائے لیکن اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ اسی پس منظر میں طاہر القادری نے 20 اگست سے تحریک قصاص کا آغاز کیا ہے، اس تحریک کے نعروں میں جان کے بدلے جان، سرکے بدلے سر جیسے نعرے متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ قصاص کا تعلق مذہبی احکامات سے ہے اور مذہبی قوانین کے خلاف کسی موقف کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس حوالے سے قادری صاحب کے نعرے جان کے بدلے جان اور سر کے بدلے سر کی مخالفت نہیں کی جاسکتی۔

البتہ اس حوالے سے یہ سوال بڑا دلچسپ ہوگا کہ پاکستان کی 69 سالہ تاریخ میں قتل کے ہزاروں مقدمات چلائے گئے اور مجرموں کو سزائے موت بھی دی گئی لیکن یہ فیصلے پاکستان پینل کوڈ کے مطابق ہوتے رہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قاتلوں کو قتل کے جرم میں جو سزائے موت دی جاتی رہی اسے قصاص کہا جاسکتا ہے؟ کیا قصاص کے قانون پر عملدرآمد کا حق ہمارے موجودہ عدالتی نظام کو حاصل ہے۔ یہ سوالات اس لیے ذہن میں آتے ہیں کہ قصاص کا مطالبہ عوام کو نیا لگ رہا ہے لیکن اس کی مذہبی حیثیت اور شرعی قوانین کی برتری پر اعتراض ممکن نہیں۔

یہ تو ہوئیں قانونی باتیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا تحریک قصاص کامیابی سے ہمکنار ہوگی؟ اس حوالے سے اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا دینی جماعتیں تحریک قصاص میں طاہر القادری کا ساتھ دیں گی جو جماعتیں پاکستان میں شریعت کے قانون کے مطالبے کر رہی ہیں ان کی تو یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ تحریک قصاص میں طاہر القادری کا ساتھ دیں لیکن اس حوالے سے توجہ طلب بات یہ ہے کہ ہماری مذہبی جماعتیں مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی بھی ہیں اور سیاست سمجھوتوں اور موقع پرستی کا نام ہے ۔اس پس منظر میں تحریک قصاص پر دینی جماعتوں کی خاموشی اور لاتعلقی کو دیکھا جاسکتا ہے۔

طاہر القادری تحریک قصاص کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کی کرپشن کے احتساب کی باتیں بھی کر رہے ہیں اور اس حوالے سے پانامہ لیکس اور آف شور کمپنیوں کا مسئلہ سرفہرست بھی ہے اور سیاسی جماعتوں کا احتجاجی مطالبہ بھی ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جس تحریک کا آغاز کیا ہے اس کا بنیادی مطالبہ بھی پانامہ لیکس اور آف شور کمپنیوں کی تحقیق ہے۔

اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مہینوں سے بات چیت چل رہی ہے لیکن ابھی تک بات چیت ٹرمز آف ریفرنس پر ہی اٹکی ہوئی ہے اپوزیشن خاص طور پر تحریک انصاف عوامی تحریک اور پیپلز پارٹی ٹی او آرز میں نواز شریف کو شامل کرنا چاہتی ہیں تاکہ وزیر اعظم اس کیس میں ملوث ہوجائیں لیکن حکومتی اکابرین کسی قیمت پر پانامہ لیکس میں وزیراعظم کو ملوث کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ ایک ایسا تنازعہ ہے جس کا بات چیت کے ذریعے حل ممکن نظر نہیں آتا اور آخرکار بات سڑکوں تک آجاتی ہے۔

کرپشن خواہ اس کا حوالہ پانامہ لیکس ہو لندن اور دبئی کے فلیٹس ہوں سرے محل ہو یا سوئس بینک ہوں اس ملک کے 20 کروڑ عوام کی غربت میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے کوئی سیاستدان کرپشن کی حمایت نہیں کرسکتا لیکن ''محتاط'' سیاستدان اس حوالے سے یہ موقف رکھتے ہیں کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ یہ ایک ایسا غیر منطقی موقف ہے جس کے ذریعے ''محتاط'' سیاستدان حکومت کو بھی خطرے میں ڈالنا نہیں چاہتے اورکرپشن کا خاتمہ بھی چاہتے ہیں۔

بدقسمتی سے کرپشن کی پوری تاریخ حکمران طبقے سے بھرتی ہوئی ہے۔ طاہر القادری اور عمران خان سانحہ ماڈل ٹاؤن اور پانامہ لیکس کی پوری ذمے داری شریف خاندان پر ڈال رہے ہیں جن سیاستدانوں کے مفادات حکمرانوں سے جڑے ہوئے ہیں وہ جمہوریت کے ڈی ریل ہونے کے خطرے کو بہانہ بناکر کسی تحریک کو اس مقام تک پہنچنے نہیں دیں گے جو حکومت کے لیے خطرہ بنے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان طاہر القادری اس صورتحال کا مقابلہ کس طرح کریں گے اور پیپلز پارٹی کس حد تک ان کے ساتھ کھڑی رہے گی؟

مقبول خبریں