گوادر میں دہشت گردی کی واردات

بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی اور کشمیریوں پر مظالم کا حساب بلوچستان اور کراچی میں برابر کرنا چاہتا ہے


Editorial August 26, 2016
سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور دہشت گردی کے خلاف حکومتی عزم کو متزلزل کرنا ہے۔ فوٹو؛ فائل

بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں تیزی سے ہوتا ہوا اضافہ پریشان کن صورت حال کی غمازی کرتا ہے۔ ضلع گوادر میں جمعرات کو دہشت گردوں کے حملے میں ایک تحصیلدار سمیت لیویز فورس کے چھ اہلکار شہید اور تین زخمی ہو گئے۔

بلوچستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کی وارداتوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اگرچہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں اور متعدد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ دہشت گردی کی کارروائیاں کم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی جا رہی ہیں جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک موجود ہے، شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد بہت سے دہشت گرد یہاں سے فرار ہو کر بلوچستان اور دیگر علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں بنا چکے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی مضبوطی غیرملکی قوتوں کی اعانت کی مرہون منت ہے جب تک دہشت گردوں کو غیر ملکی آشیر باد حاصل ہے اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کی ضرورت ہے۔ ایسی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں کہ بلوچستان میں بھارتی ایجنسی 'را' ملوث ہے جس کا اہم ثبوت اس کے اہلکار کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہے۔

گزشتہ دنوں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی بلوچستان کے بارے میں جو بیان دیا اس سے بھی یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ بھارت پاکستان کی سالمیت اور بقا کو نقصان پہنچانے کے لیے شرپسندوں کو دہشت گردی کی تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت اپنے مذموم مقاصد کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، اس نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ قائم کر رکھے ہیں۔ پاکستانی حکومت بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت امریکا کو فراہم کر چکی ہے مگر وہ اس معاملے میں مکمل طور پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے اور اس نے بھارت کی مذموم کارروائیوں کی مذمت تک کرنا گوارا نہیں کیا۔ گزشتہ دنوں کوئٹہ میں دہشت گردوں نے ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت وکلاء کو نشانہ بنایا جس میں وکلاء کی ایک بڑی تعداد شہید ہو گئی۔

سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور دہشت گردی کے خلاف حکومتی عزم کو متزلزل کرنا ہے۔ لیکن حکومت یہ واضح کر چکی ہے کہ دہشت گردی کی وارداتیں اس کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ اب حکومت کو نہ صرف داخلی سطح پر بلوچستان میں بڑے پیمانے پر آپریشن کرنا ہو گا بلکہ سرحد پار سے ہونے والی مداخلت کو روکنے کے لیے بھی سرحدوں کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط اور موثر بنانا ہو گا۔ حکومت غیر ملکی مداخلت کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھائے یہ ملکی بقا کا مسئلہ ہے اس میں کسی قسم کا تغافل خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

دہشت گردوں پر قابو پانے کے لیے گراس روٹ لیول پر عوام کو متحرک کیا جائے کیونکہ یہ بے چہرہ دشمن معاشرے کے اندر ہی کہیں چھپے ہوئے ہیں جنھیں تلاش کرنے کے لیے عوامی حمایت بہت ضروری ہے، اس کے علاوہ خفیہ ایجنسیوں اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان بھی مربوط اور منظم رابطے کا سسٹم متحرک ہونا چاہیے کیونکہ دہشت گردی کی وارداتوں سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ دشمن بہت مضبوط ہے جسے ختم کرنے کے لیے بڑی قوت کی ضرورت ہے۔ ایک طرف بلوچستان کے حالات خراب ہیں تو دوسری جانب خیبرپختونخوا اور کراچی میں بھی وطن دشمن قوتیں امن و امان کے مسائل پیدا کرنے کے لیے سرگرم ہو چکی ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ غیرملکی قوتیں پاکستان میں داخلی سطح پر افراتفری اور خلفشار پیدا کرنا چاہتی ہیں تاکہ اس کے سیکیورٹی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کو اندرون ملک اتنا مصروف کر دیا جائے کہ ان کے لیے سرحدوں کا دفاع مشکل ہو جائے۔

اس طرح ملکی بجٹ پر بھی غیرضروری بوجھ پڑنے سے ملکی معیشت متاثر ہو گی۔ ایک جانب پاکستان کو اندرونی خلفشار کا شکار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو دوسری جانب بھارت اور افغانستان اپنے مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان بارہا افغان حکومت سے یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے لیکن افغان حکومت اس جانب پوری توجہ نہیں دے رہی۔

ایسی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ بھارت افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے وہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کے علاوہ اسلحہ بھی فروخت کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا ہے، اس طرح وہ افغان حکومت کو اپنے زیراثر لا کر اسے پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی قوتیں اپنے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے وطن کی سالمیت کے لیے متحد ہو جائیں اور دشمن کو واضح پیغام دیں کہ ایک پرچم کے سائے تلے وہ ایک ہیں اور وہ وطن کی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دیں گی۔

بھارت کے عزائم اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں، وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی اور کشمیریوں پر مظالم کا حساب بلوچستان اور کراچی میں برابر کرنا چاہتا ہے، بھارتی پالیسی سازوں کے حالیہ بیانات سے یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ بلوچستان اور کراچی کے حالات خراب کرنے میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور اس کی اتحادی پاکستان دشمن ایجنسیوں کا اتحاد ہے، پاکستان میں جمہوریت، انسانی حقوق اور قومیتوں کے نام پر جو تحریکیں چل رہی ہیں، ان میں سے بعض کے عزائم پاکستان دشمنی پر استوار ہو گئے ہیں۔

پاکستان کی مین اسٹریم سیاسی و دینی سیاسی جماعتوں اور محب وطن قوم پرست سیاسی جماعتوں کی قیادت کو ان پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور ایسے عناصر کو خود سے الگ کرنا چاہیے جو غیرملکی ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہیں، بلوچستان کے ضلع گوادر میں گزشتہ روز دہشت گردی کی جو واردات ہوئی ہے، اس کے مقاصد بھی واضح ہیں، پاکستان کی بقا، سلامتی اور یہاں کے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ایسی قوتوں کو شکست دی جائے جن کا مقصد وطن عزیز کو انتشار کا شکار کرنا ہے۔