ایم کیو ایم پاکستان
رینجرز کے دستوں نے ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر 90 پر چھاپہ مارا اور بہت سے ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا۔
ایم کیو ایم پاکستان نے ایم کیو ایم لندن سے لاتعلقی کا اظہارکر دیا۔کراچی میں گزشتہ 6 دن سے پریس کلب کے سامنے ایم کیو ایم کے کارکنوں کی بھوک ہڑتال، الطاف حسین کی جارحانہ تقریر، مشتعل ہجوم کا ٹی وی چینلز پر حملوں کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار، نسرین جلیل اور دیگر رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان اپنے لندن میں ہونے والے فیصلوں کو قبول نہیں کرے گی اور تمام فیصلے کراچی میں ہوں گے اور ایم کیو ایم کے امیدوار وسیم اختر میئر کے عہدے پر کامیاب ہوگئے۔لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے ایک رہنما واسع جلیل نے واضح کیا کہ الطاف حسین ہی فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں، مگر رات گئے یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ یوں ایم کیو ایم اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ہونے والی لڑائی کا ایک منطقی نتیجہ سامنے آ گیا ۔
کراچی کی صورتحال تو گزشتہ کئی عشروں سے خراب ہے مگرگزشتہ 8 برسوں کے دوران ٹارگٹ کلنگ کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت کا راستہ دکھایا۔ پولیس اور رینجرز کے افسران نے کراچی میں آپریشن شروع کیا۔ سیاسی، مذہبی اور لسانی بنیادوں پر ٹارگیٹ کلنگ کا مرکزکراچی کا ڈسٹرکٹ سینٹرل اور ایسٹ ہونے کے بعد پولیس، رینجرز اور انٹیلی جنس ایجنسیوںنے ڈسٹرکٹ سینٹرل اور ایسٹ میں ٹارگٹ کلنگ کا ذمے دار ایم کیو ایم کو قرار دینا شروع کیا۔مزید یہ الزام بھی لگایا کہ ٹارگٹ کلنگ کرنے والے نوجوان ماہر اور تربیت یافتہ ہیں اور ٹارگٹ کلرزکو بھارت میں قائم کیمپوں میں تربیت دی جاتی ہے۔ جنوبی افریقہ میں موجود گروہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کو منظم کرتے ہیں۔
کراچی میں ایم کیو ایم کے ایک ایم پی اے رضا حیدر کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر قتل کیا تو ایم کیوایم نے اس قتل کی ذمے داری عوامی نیشنل پارٹی پر عائد کی اور اسی رات 100 کے قریب افراد نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ مرنے والے افراد کا تعلق پختون خوا اور بلوچستان کے پشتون علاقے سے تھا۔ بعد میں پولیس کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ کالعدم تنظیم اس قتل میں ملوث ہے۔ گزشتہ سال پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے خودکش حملے کے بعد آپریشن ضربِ عضب شروع ہوا۔
رینجرز کے دستوں نے ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر 90 پر چھاپہ مارا اور بہت سے ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا۔ اس آپریشن کے بعد ڈسٹرکٹ سینٹرل میں خاص طور پر اور پورے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں حیرت انگیز طور پر کمی آئی۔ ایم کیو ایم کے بہت سے کارکن لاپتہ ہونے لگے۔ رینجرز نے ایم کیو ایم کے کئی رہنماؤں کو 90 دن کے لیے تفتیشی مراکز میں رکھا اور ایم کیو ایم کی قیادت نے پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں پر ماورائے عدالت قتل کا الزام لگایا۔ ایم کیو ایم کے ایک رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے پارٹی قیادت سے اختلاف کی بنا استعفیٰ دے دیا جس کے بعد فیڈرل بی ایریا میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں عمران خان کی تحریکِ انصاف نے زور و شور سے حصہ لیا مگر ایم کیو ایم کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئے۔
بعد ازاں ایم کیو ایم نے اپنے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے خلاف احتجاجاً کئی دن کراچی شہرکو بند کرایا مگر رینجرز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دائرے کے بڑھنے کے ساتھ ہی ایم کیو ایم کے احتجاج بے اثر ثابت ہونے لگے۔ ڈسٹرکٹ ملیر کے ایس ایس پی راؤ انوار نے ایم کیو ایم کو بھارتی خفیہ ایجنسی ''را '' کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا کہ ایم کیو ایم والے شہر کو بند کراکے دکھائیں۔
ایم کیو ایم راؤ انوار کے چیلنج کو قبول کرنے کے قابل نہ رہی۔ پھر ذرایع ابلاغ میں یہ خبریں شایع ہونے لگیں کہ ایم کیو ایم کے بند ڈھانچے کو ختم کرنے، دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح کھلے ڈھانچے والی جماعت بنانے اور ایم کیو ایم کا آئین بنانے اور مستقل عہدیداروں کے انتخابات کے طریقہ کار پر غور ہو رہا ہے تاکہ ایڈھاک بنیادوں پر کام کرنے والی رابطہ کمیٹی کی جگہ منتخب سینٹرل کمیٹی بنے۔ یہ خبریں بھی شایع ہوئیں کہ ایم کیو ایم کا لندن سیکریٹریٹ معطل ہو جائے گا، الطاف حسین محض اس پارٹی کے آئینی سربراہ رہ جائیں گے اور فیصلے کراچی میں ہی ہونگے۔ یہ بھی شایع ہوا کہ الطاف حسین ان تبدیلیوں کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔ اس سے قبل الطاف حسین مہینے میں کئی دفعہ رابطہ کمیٹی کو توڑنے، پھر بحال کرنے اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو کمیٹی سے نکالنے اور شامل کرنے کی مشق کرتے رہے ہیں اور مئی 2013ء کے عام انتخابات کے بعد انھوں نے اپنی تقریر میں رابطہ کمیٹی کے اراکین کی اتنی بے عزتی کی تھی کہ کارکنوں نے کئی اراکین کو جن میں واسع جلیل بھی شامل ہیں شدید زدوکوب کیا۔
پیپلز پارٹی کی حکومت کے بری طرزِ عمل پر عمل پیرا ہونے کی بناء پر کراچی کوڑے دان میں تبدیل ہوا، بڑی اور چھوٹی سڑکیں پانی کے جوہڑ میں تبدیل ہوگئیں۔ سندھ میں ملازمتیں فروخت ہونے لگیں اور کراچی کے نوجوانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں کے دروازے محدود ہوگئے۔ لاہور ہائی کورٹ نے الطاف حسین کی تقاریر کی اشاعت اور نشر کرنے پر پابندی لگادی۔
اس ماحول میں سپریم کورٹ کے حکم پر بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ ایم کیو ایم کراچی اور حیدر آباد میں بھاری اکثریت سے کامیا ب ہوئی مگر عدالتی کارروائیوں اور دیگر وجوہات کی بناء پر میئر اور کارپوریشنوں کے چیئرمینوں کے انتخابات ملتوی ہوئے۔ ایم کیو ایم کے قائد کی تقاریر پر بہت سے تھانوں میں باغیانہ مقدمات درج ہوئے۔ بہت سے رہنما اور کارکن بھی اس میں گرفتار ہوئے اور سیکڑوں کارکن لاپتہ ہوگئے۔ ایم کیو ایم شہر سے فطرہ اور زکواۃ کی مد میں چندا جمع کرنے میں ناکام رہی۔ شہر کے کئی بااثر تاجروں کو ایم کیو ایم کو چندا دینے اور لندن رقم منتقل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ گزشتہ سال ایم کیو ایم کے کارکن قربانی کی کھالیں جمع نہ کر پائے۔ کئی رہنماؤں پر بلدیہ ٹاؤن کی گارمینٹس فیکٹری میں مزدوروں کو زندہ جلانے کے الزامات لگے۔ ایم کیو ایم کے بہت سے ر ہنما جن میں حیدر عباس رضوی اور واسع جلیل وغیرہ شامل ہیں ملک سے باہر چلے گئے۔
گزشتہ 6 ماہ کے دوران سابق ناظم مصطفی کمال نے علیحدہ جماعت بنائی اور بہت سے کارکن اس جماعت میں شامل ہوئے۔ مصطفی کمال کی کوششوں سے کئی درجن لاپتہ کارکن گھروں کو پہنچے ۔ میئر کے امیدوار وسیم اختر کو 12 مئی 2007ء کے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے جلوس پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ رؤف صدیقی پر ڈاکٹر عاصم کو دہشتگردوں کے علاج کی سفارش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ایم کیو ایم کے یونٹوں میں جمع ہونے والے کارکن بھی گرفتار ہونے لگے۔
اس صورتحال میں کراچی پریس کلب پر اس ماہ مسلسل احتجاجی کیمپ لگائے گئے مگر انتظامیہ نے ایم کیو ایم کے احتجاج پر کوئی مثبت ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ ایم کیو ایم کے کئی کارکنوں کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں نے قتل کے الزام ثابت ہونے پر موت کی سزا دی۔ پیر کو کراچی پریس کلب کے احتجاجی کیمپ سے اچانک الطاف حسین نے خطاب کیا اور پاکستان کے خلاف نعرے لگائے اور کارکنوں کو میڈیا ہاؤسز پر حملوں پر اکسایا جس پر تصادم ہوا۔ ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں نے لندن سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور میئر کے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ اس کے تمام امیدوار انتخابات میں کامیاب ہو گئے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم 2 ہونگی یا 3 یہ دو چار دنوں میں ظاہر ہو جائے گا مگر دستیاب خبروں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ الطاف حسین پس منظر میں چلے جائیں گے مگر ان کے پس منظر میں جانے کا دورانیہ کتنا ہو گا اس کا تعین کرنا ابھی مشکل ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار کی ذمے داریاں بڑھ گئی ہیں۔ انھیں سب سے پہلے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ایم کیو ایم کراچی کا لندن سے کسی قسم کا رابطہ نہیں۔ دوسری طرف کارکنوں کو یہ باور کرانا ہو گا کہ وہ اور ان کے ساتھی ایم کیو ایم کے قائد کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایم کیو ایم کو جدید سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے کے لیے ادارہ جاتی فیصلے کیے جائیں تاکہ ایم کیو ایم ایک جمہوری اور سیکولر جماعت کے طور پر جانی جائے اور جمہوری نظام کے استحکام میں کردار ادا کرے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کو بلدیاتی اداروں کو تمام اختیارات دینے ہونگے تاکہ یہ ادارے کراچی کی بہتری کے لیے کام کریں۔
سندھ حکومت نے اگر ایسا نہ کیا تو پھر سندھ میں ایک نیا بحران جنم لے گا جس کا سارا فائدہ اسٹیبلشمنٹ کو پہنچے گا مگر ایم کیو ایم پر پابندی لگانے یا ان کے کارکنوں کو عوام سے دور رکھنے کی حکمت عملی برقرار رہی تو پھر اردو بولنے والوں کی بستیوں میں انتہاپسند مذہبی تنظیمیں اپنی جڑیں مضبوط کریں گی۔ ایک سیکولر جمہوری ایم کیو ایم جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔