سعودیہ میں پھنسے ہوئے پاکستانی

سعودی عرب میں مقیم مالدار پاکستانیوں کو بھی اپنے غریب ہم وطنوں کی اپنے طور پر مدد کر کے ثواب دارین حاصل کرنا چاہیے


Editorial August 29, 2016
جہاں پاکستانی محنت کشوں کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے وہاں کے سفارت خانے عملے کی قلت کا شکار رہتے ہیں۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر پیر سید صدر الدین شاہ راشدی نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان سعودی عرب میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے، اس سلسلے میں پاکستانی سفارتخانے نے ون ونڈو کی سہولت کا آغاز کیا ہے۔ وفاقی وزیر پیر صدر الدین شاہ راشدی نے سعودی عرب میں پھنسے ہوئے ہزاروں پاکستانیوں کے مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کہا دو ڈیفالٹر کمپنیوں میں 9 ہزار پاکستانی محنت کشوں اور مزدوروں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی، مراعات کا خاتمہ، اقامہ کی تجدید، ورک پرمٹ کی منتقلی، خوراک اور صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر نے سعودی عرب کا پانچ روزہ دورہ کیا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ پاکستانی محنت کش سعودی دارالحکومت ریاض، سعودی ساحلی شہر جدہ اور پرفضا تفریحی مقام طائف سمیت مختلف شہروں کے 20 کیمپوں میں رکھے گئے ہیں جن کو صحت اور خوراک کی سہولیات کی فراہمی کے لیے سعودی حکومت نے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ اصولاً تو یہ پاکستانی سفارت خانے کا کام تھا کہ وہ اپنے ہم وطن کارکنوں کے حالات اور مسائل کا خیال رکھے اور متعلقہ سعودی حکام سے رابطہ کر کے ان کی شکایات کا ازالہ کرانے کی کوشش کرے مگر یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہمارے سفارتی حکام کا رویہ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ مناسب نہیں ہوتا بلکہ بیرون ملک قائم ہمارے سفارت خانوں کا انداز پاکستانی تھانوں کے مماثل ہوتا ہے۔

اس میں غالباً ہمارے اعلیٰ حکام کی کوتاہی کا بھی عمل دخل ہے جو ان ممالک میں جہاں پاکستانی محنت کشوں کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے وہاں کے سفارت خانے عملے کی قلت کا شکار رہتے ہیں۔ اب جب کہ ہمارے وفاقی وزیر نے سعودی حکام سے ان پاکستانیوں کو سہولتیں پہنچانے کی یقین دہانی حاصل کی ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے ذمے داروں کو مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ جانا چاہیے بلکہ مسلسل ''فالو اپ'' بھی کرتے رہنا چاہیے، نیز سعودی عرب میں مقیم مالدار پاکستانیوں کو بھی اپنے غریب ہم وطنوں کی اپنے طور پر مدد کر کے ثواب دارین حاصل کرنا چاہیے کیونکہ تارکین وطن بالعموم وہ پاکستانی ہوتے ہیں جن کے پورے گھرانے کے نان نفقے کی ذمے داری انھیں کے سر ہوتی ہے۔