یونیورسٹیوں کا بحران
’’اساتذہ، اساتذہ اور اساتذہ‘‘ کسی بھی یونیورسٹی کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
''اساتذہ، اساتذہ اور اساتذہ'' کسی بھی یونیورسٹی کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ صدر پاکستان اور وفاق کی یونیورسٹیوں کے چانسلر ممنون حسین نے یہ انتہائی اہم بات اردو یونیورسٹی میں قائم ہونے والی مسند بابائے اردو مولوی عبدالحق کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کا اہتمام گورنر ہاؤس کراچی میں کیا گیا تھا۔ صدر ممنون حسین کا اپنے خطبے میں پی ایچ ڈی کی جعلی ڈگریوں کی بھرمار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اساتذہ جعلی پی ایچ ڈی کرکے اور غیر معیاری ریسرچ پیپر لکھ کر یا سرقے والے پیپر لکھ کر ترقی حاصل کرتے ہیں، جعلی پی ایچ ڈی کرنیوالے اساتذہ کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔
انھوں نے اردو یونیورسٹی میں اساتذہ کی گروہ بندیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑی بڑی باتیں کرکے عالم فاضل نہیں بنا جاسکتا، اساتذہ کو مطالعہ پر زیادہ توجہ دینی چاہیے، اساتذہ اپنے علم میں اضافہ کرکے ہی بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ صدر ممنون حسین پاکستان کی تاریخ کے پہلے صدر ہیں جو وفاق کے زیرِ انتظام یونیورسٹیوں کے معاملات پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں اور مختلف یونیورسٹیوں کا دورہ کرکے خود معلومات حاصل کرتے ہیں۔ صدر ممنون حسین کی ذاتی کوششوں کی وجہ سے اردو یونیورسٹی سے بدعنوان انتظامیہ کا خاتمہ ہوا لیکن اردو یونیورسٹی کا بحران ختم نہیں ہوسکا۔ اس کی وجہ اس یونیورسٹی کے اداروں کی ناکامیاں ہیں۔ یونیورسٹی کے معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین اردو یونیورسٹی کے قانون کو خرابیوں کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔ یہ قانون عطاء الرحمن امریکا سے لائے تھے جو پاکستان کے کلچر سے مطابقت نہیں رکھتا۔ چانسلر ممنون حسین نے یونیورسٹیوں میں جعلی پی ایچ ڈی اور ریسرچ پیپر نقل کرکے اہم عہدوں پر پہنچنے کے بارے میں بنیادی مسائل کی نشاندہی کی ہے۔
جب سے یونیورسٹی گرانڈ کمیشن کا درجہ بلند کرکے ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں تبدیل کیا گیا ہے تو پاکستان میں یونیورسٹیوں کی ہیئت تبدیل ہوگئی ہے۔ ایچ ای سی نے نئی یونیورسٹیوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کی اور ریسرچ کلچر کو مضبوط کرنے کے اقدامات کیے۔ اساتذہ کے تقرر اور ترقیوں کے لیے نئے معیار نافذ کیے ہیں۔ اس تبدیلی کو تحقیق سے منسلک کیا گیا جب ڈاکٹر عطا الرحمان ایچ ای سی کے پہلے چیئر پرسن تھے جن کے فیصلے کے تحت یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے گریڈکو بڑھا دیا تھا، اب ایک لیکچرار بھی گریڈ 18 میں تقرر ہوتا ہے اور پروفیسر گریڈ 21 کا ہوتا ہے۔
ایچ ای سی نے اساتذہ کے تقرر اور ترقیوں کے لیے پی ایچ ڈی کی شرط لازمی کردی ہے۔ کچھ یونیورسٹیوں میں تو پی ایچ ڈی کی تعلیم کا طریقہ کار تبدیل کیا گیا مگر اکثر یونیورسٹیوں میں پرانا طریقہ کار ہی نافذ ہے۔ اب تھیسس پر کام کرنے سے پہلے طالبعلم کو کورس ورک کرنا پڑتا ہے۔ بھارت، یورپ اور امریکا میں طالبعلم کو اپنی تحقیق کے دوران کئی مرحلوں پر اساتذہ اور طلبا کے سامنے اپنے موضوع اور اس کے بار ے میں جمع ہونیوالے مواد اور اپنے تجزیہ کا دفاع کرنا پڑتا ہے، بعض غیر ملکی یونیورسٹیوں میں تو اس موقع پر غیر ملکی ماہرین کو مدعو کیا جاتا ہے مگر پاکستان کی کئی یونیورسٹیوں میں طالبعلم کو صرف ایک دفعہ تھیسس جمع کروانے کے بعد زبانی امتحان کے وقت اپنے کام کا دفاع کرنا پڑتا ہے پھر موضوعات کے بارے میں پاکستان کی یونیوسٹیوں میں کوئی خاص بحث نہیں ہوتی، عمومی طور پر ایک جیسے موضوعات پر تحقیق کی جاتی ہے۔
اگر کراچی یونیورسٹی کے معاشیات، کامرس اور بزنس ایڈمنسٹریشن کے شعبوں میں پی ایچ ڈی کے مقالات کے موضوعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بلاسود معیشت اکثر طالبعلموں کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ ان طالبعلموں کے بیشتر سپروائزروں کا بھی موضوع کچھ ایسا ہی تھا۔ اس موضوع پر تیار ہونیوالے تھیسس مخصوص ممالک میں مخصوص علما کو بھیجے جاتے ہیں جن کا بنیادی مضمون اسلامیات ہوتا ہے مگر وہ معاشیات، کامرس، بزنس ایڈمنسٹریشن جیسے اہم موضوعات میں بھی پی ایچ ڈی کے مقالوں کے بار ے میں حتمی رائے دیتے ہیں۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں بیشتر طالبعلم جو پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لیتے ہیں ان کے تھیسس کتابی شکل میں شایع نہیں ہوتے۔
معاشیات کے شعبے کے بین الاقوامی ماہرین اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ اسلامیات کے اساتذہ کس طرح ان اہم مضامین کے تھیسس کے بارے میں رائے دیتے ہیں۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت اور اداروں کے بار ے میں تحقیق کی شدید ضرورت ہے مگر ان اہم موضوعات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ جب کسی طالبعلم پر سرقہ کی پی ایچ ڈی یا سرقہ کے ریسرچ پیپر کا الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ معاملہ متعلقہ یونیورسٹی کے پاس بھی جاتا ہے جس نے ڈگری جاری کی ہوتی ہے۔
اس یونیورسٹی کی انتظامیہ اس طالبعلم کے دفاع میں لگ جاتی ہے۔ اگر طالبعلم یونیورسٹی کا استاد ہوتا ہے تو پھر یونیورسٹی کے ادارے شکایت پر توجہ نہیں دیتے۔ عموماً پاکستان کی یونیورسٹیاں اپنے طالبعلموں کو اس طرح کے الزامات سے بری کردیتی ہیں۔ بعض معاملات میں ایچ ای سی نے اگر کسی طالب علم کے تھیسس یا ریسرچ پیپر کو سرقہ کے زمرے میں شامل کیا تو متعلقہ یونیورسٹی اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتی۔ اگر ہائر ایجوکیش کمیشن کی جانب سے زیادہ دباؤ ڈالا جاتا ہے تو پھر معاملات عدالت میں چلے جاتے ہیں۔ یوں عدالتی نظام کی طوالت کا فائدہ متعلقہ فرد کو ہوتا ہے۔
یہ صورتحال پاکستان کی یونیورسٹیوں کی تمام فیکلٹیوں کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں ہونے والی تحقیق کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اگر صدر صاحب چاہیں تو ایسے معاملات کی فائلیں منگوا کر خود حقائق سے آگاہ ہوسکتے ہیں۔ صدر صاحب کو اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خودکار طریقہ کار بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ یونیوسٹیوں کے وائس چانسلروں اور ایچ ای سی کے چیئرمین پر مشتمل ایک کمیٹی قائم ہونی چاہیے جو ان سنگین الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے ایسا طریقہ کار طے کرے کہ یونیورسٹیوں کا تقدس بھی برقرار رہے اور متعلقہ فرد سزا سے بھی نہ بچ سکے۔ ملک بھر میں بہت سارے افراد جعلی پی ایچ ڈی اور ریسرچ پیپر تیار کرکے یونیورسٹیوں کے اہم عہدوں پر کام کررہے ہیں، یہ صورتحال اعلیٰ تعلیم کے لیے خطرناک ہے۔
ان میں سے کچھ یونیورسٹی کی انتظامیہ کا حصہ بن گئے ہیں، یہ لوگ یونیورسٹی سے مختلف مدعوں میں خطیر رقم حاصل کر چکے ہیں، اس طرح اب ان کا کردار یونیورسٹی کے اداروں کی نگرانی کے بجائے انتظامیہ کی تاریخ و توصیف کا ہوگیا ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی خطرناک ہے کے جن لوگوں کو نگرانی کا فریضہ سونپا گیا ہے اگر وہ انتظامیہ کا حصہ بن جائینگے تو پھر نگرانی کا فریضہ پورا نہیں ہوسکے گا۔ صدر ممنون حسین کو وفاق کی یونیورسٹیوں کے چانسلر کی حیثیت سے اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے اور ان افراد کو ادارے سے علیحدہ کرنا چاہیے جنھوں نے کسی قسم کا یونیورسٹیوں سے مفاد حاصل کیا ہے۔
جدید ممالک میں یونیورسٹیاں سماجی اداروں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی ہیں، یونیورسٹیاں یہ فریضہ تحقیق کے معیار کو بلند کرکے حاصل کرتی ہیں، ایچ ای سی نے یونیورسٹیوں کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کی ہیں مگر ناقص نصاب، کمزور اساتذہ اور ریسرچ کے ناقص طریقہ کار کی بنا پر یونیورسٹیاں سماج کے دوسرے اداروں کی رہنمائی کا فریضہ انجام نہیں دے پارہیں۔ صدر صاحب کے اس خطاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم ان کی بنیادی ترجیح ہے اور وہ یونیورسٹیوں کے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ صدر ممنون حسین کی توجہ سے یونیورسٹیوں میں بدعنوانی کا خاتمہ ہوگا، تعلیم کا معیار بلند ہوگا اور یونیورسٹیوں میں ہونے والی تحقیق سے معاشرے کو فائدہ ہوگا۔