مریخ سے پہلے

ناسا اور دوسرے خلائی تحقیق کے ادارے مسلسل خلائی تحقیق کا کام انجام دے رہے ہیں۔


Zaheer Akhter Bedari September 01, 2016
[email protected]

ناسا اور دوسرے خلائی تحقیق کے ادارے مسلسل خلائی تحقیق کا کام انجام دے رہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ناسا کے ماہرین نے مریخ پر پہنچنے کے لیے خلا میں ایک پلیٹ فارم بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک سیارچے کو توڑ کر اس سے حاصل ہونے والی بڑی چٹان کو دھکیل کر چاند کے مدار میں پہنچائے گا۔ اس سے قبل ناسا نے مریخ پر پہنچنے کے لیے چاند کو پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن ناسا کے ماہرین نے اب ایک نیا منصوبہ بنایا ہے۔

جس کے مطابق اب چاند کے بجائے کسی سیارچے کے ٹکڑے کو مریخ پر پہنچنے کے لیے اڈے کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ جب تک دنیا جدید علوم سائنس ٹیکنالوجی، تحقیق اور انکشافات سے محروم تھی ہمارے کرۂ ارض ہی کو کل کائنات سمجھا جاتا تھا اور اسی تناظر میں نظریات اور عقائد تشکیل پاتے تھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر دور کے نظریات اور عقائد کا تعلق اس دور کے علم اور معلومات کے مطابق رہا ہے لیکن ماضی کے مدبرین نے غالباً بڑے سوچ بچار کے بعد سزا جزا کو روشناس کرایا۔ دنیا خواہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں کتنی ہی ترقی کر لے، فطرت کے پوشیدہ رازوں سے کتنے ہی پردے کیوں نہ ہٹا لے، کرۂ ارض کے انسان کو ہمیشہ ایک ایسے سیارچے کی ضرورت ہمیشہ رہے گی جو مایوسیوں اور مجبوریوں میں اس کا سہارا بنا رہے۔ اگر سزا جزا کا تصور نہ ہو تو انسان اس قدر بے لگام ہو جائے گا کہ کرۂ ارض ایک شدید نظریاتی انارکی کا شکار ہوکر رہ جائے گا۔

بلاشبہ جدید علوم تحقیق، انکشافات، خلائی سائنس نے ماضی کے تمام تصورات کو بے معنی بنا کر رکھ دیا ہے لیکن کسی بھی صورت میں انسان کا خدا کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ انسان نے خدا کو مختلف نام دے کر انسانوں کے درمیان تعصبات اور نفرتوں کا ذریعہ بنا ڈالا ہے۔ انسانوں کی تقسیم کے بے شمار حوالے ہیں۔ جن میں ملک و ملت، رنگ و نسل، زبان اور قومیت شامل ہیں اور المیہ یہ ہے کہ ان تمام حوالوں کو تعصب اور نفرت کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ ناسا کے ماہرین کسی سیارچے کو توڑ کر اس کی چٹانوں کو مریخ پر پہنچنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

بلاشبہ اس کارنامے کو ہم انسانی عقل و فہم کا ایک شاہکار قرار دے سکتے ہیں لیکن یہ سوال بہر حال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا کرۂ ارض پر بسنے والے 7 ارب سے زیادہ انسانوں کے مسائل حل ہو گئے ہیں؟ کیا انسان نے ان قدرتی آفات پر قابو پا لیا ہے جو زلزلوں، طوفانوں، سیلابوں کی شکل میں انسانوں پر نازل ہوتے رہتی ہیں ان قدرتی آفات میں زلزلہ ایک ایسی آفت ہے جو لمحوں میں شہروں کو کھنڈرات اور جیتے جاگتے انسانوں کو لاشوں میں بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ایک خلا میں تیرتے ہوئے سیارچے کو توڑ کر اسے چاند کے مدار میں دھکیلنا اور اسے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر کے مریخ پر پہنچنے کی کوشش کرنا اس سے زیادہ ضروری ہے کہ کرۂ ارض کے انسانوں کو ان مصائب سے نکالا جائے، جنھوں نے اس کی زندگی کو عذاب بنا کر رکھ دیا ہے۔

یہاں ہم نے زلزلوں کی تباہ کاریوں کا حوالہ دیا تھا، بلاشبہ زلزلے چشم زدن میں آ کر شہروں کو کھنڈرات میں، جیتے جاگتے انسانوں کو لاشوں میں بدل دیتے ہیں لیکن خلا میں تیرتے سیارچوں کو توڑ کر انھیں چاند کے مدار میں دھکیلنے اور اسے مریخ تک پہنچنے کا وسیلہ بنانے والا انسان اگر اپنی ذہانت اپنے علم سائنس اور ٹیکنالوجی کی مہارت کو کرۂ ارض پر نازل ہونے والی قدرتی آفات کے محرکات اور ان محرکات کے خاتمے کے لیے استعمال کرے تو کیا وہ ان قدرتی آفات پر قابو نہیں پا سکتا۔ کیا زیر زمین حرکت پذیر مادے کی قبل از وقت معلومات حاصل نہیں کر سکتا؟ یہ ایسے سوال ہیں جو ماہرین ارض اور سائنس دانوں سے جواب طلب کرتے ہیں۔

کرۂ ارض پر جو معاشی نظام مسلط ہیں وہ اس قدر غیر منصفانہ ہیں کہ کرۂ ارض پر بسنے والے 7 ارب انسانوں میں سے 80 فی صد انسانوں کو دو وقت کی روٹی سے محروم کر رکھا ہے۔ کیا مریخ پر بستیاں بسانے کا عزم رکھنے والوں کی یہ ذمے داری نہیں کہ وہ مریخ پر پہنچنے کی کوششوں سے قبل کرۂ ارض پر بسنے والے اربوں انسانوں کو اس معاشی نظام سے نجات دلائیں جس نے انسانوں کی زندگی کو جہنم بنا کر رکھ دیا ہے۔ کرۂ ارض پر بسنے والے 7 ارب انسان ملک و ملت کے حوالے سے تقسیم ہیں اور اس تقسیم کے نتیجے میں قومی مفادات کے فلسفے روشناس کرائے گئے ہیں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے لاکھوں انسانوں پر مشتمل فوجیں بنائی گئی ہیں اور اربوں کھربوں ڈالر کا اسلحہ خریدا اور بیچا جا رہا ہے حتیٰ کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنا لیے گئے ہیں جو پلک جھپکنے میں لاکھوں انسانوں کو جلی ہوئی لاشوں میں بدل دیتے ہیں۔

یہ ایٹمی ہتھیار اتنی بڑی تعداد میں انسانوں کی تحویل میں ہیں کہ اگر ان میں سے صرف چند استعمال کیے جائیں تو کرۂ ارض سے زندگی ہی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ کیا خلائی ماہرین کی سرپرستی کرنے والوں کی یہ ذمے داری نہیں کہ وہ مریخ پر جانے سے پہلے زمین پر بسنے والے 7 ارب انسانوں کو ملک و ملت کی نظریاتی تقسیم سے نجات دلائیں؟

کیا مریخ پر زندگی ممکن ہے؟ اس سوال کا ابھی تک کوئی حتمی جواب تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر بفرض محال مریخ پر انسان پہنچ جاتا ہے تو کیا کرۂ ارض پر بسنے والے 7 ارب انسانوں کی کرۂ ارض سے مریخ پر نقل آبادی ممکن ہے؟ اس کا جواب نفی ہی میں آتا ہے، البتہ وہ طبقات مریخ پر جا سکتے ہیں جو کرۂ ارض پر خدا بنے بیٹھے ہیں، کیا مریخ پر پہنچ کر انسان اسی کلچر کو روشناس کرائے گا جو کرۂ ارض پر روشناس کرایا ہے یہ ایسے سوالات ہیں جو مریخ پر جانے کے خواہش مندوں سے جواب طلب کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں