نتاشا کی جرأت
نتاشا فتح محمد کراچی یونیورسٹی میں انگریزی لٹریچر کی طالبہ ہے
ISLAMABAD:
نتاشا فتح محمد کراچی یونیورسٹی میں انگریزی لٹریچر کی طالبہ ہے۔ ان کا تعلق کراچی کے قدیم خاندان سے ہے۔ ان کے والد ڈاکٹر برفت ممتاز سماجی ماہر ہیں جو اپنی بچیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے دیگر والدین کے لیے ایک مثال ہیں۔
نتاشا کراچی کی سڑکوں پر موٹر سائیکل چلاتی ہیں۔ گزشتہ دنوں کراچی میں ہونے والی بارش کے دوران وہ کراچی یونیورسٹی کی سڑکوں پر موٹر سائیکل چلا رہی تھی کہ ان کی فوٹیج ایک بڑے ٹی وی چینل کی خبروں کا حصہ بنی۔ اس طرح نتاشا کے جرأت مندانہ اقدام سے باقی لڑکیوں کو موٹر سائیکل چلانے کا حوصلہ ملا۔ کراچی میں لڑکیوں کی موٹر سائیکل چلانے کی روایت نہیں ہے مگر لاہور میں حکومت پنجاب نے دہشت گردی کے انسداد کی فورس میں موٹر سائیکل چلانے والی لڑکیوں کو شامل کیا ہے۔ یہ پولیس افسران موٹر سائیکل کے ذریعے لاہور کی سڑکوں پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ملتان میں 120 لڑکیوں کو موٹر سائیکل فراہم کی گئی ہیں۔ بھارت میں لڑکیوں کا موٹر سائیکل چلانا عام سی بات ہے۔ بھارت کے بڑے اور چھوٹے شہروں میں لڑکیاں اسکوٹر بھرپور طریقے سے استعمال کرتی ہیں۔ لڑکیاں اسکول، کالج اور یونیورسٹی جانے کے علاوہ اپنی ملازمت اور کاروبار کی جگہوں پر جانے کے لیے اسکوٹر استعمال کرتی ہیں۔ بھارت میں لڑکیاں اپنی رشتے دار اور دوست خواتین کے علاوہ والد، بھائیوں اور دوستوں کو بھی موٹر سائیکل پر بٹھاتی ہیں اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کو آسان کرتی ہیں۔
پبلک ٹرانسپورٹ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ بھارت کے بڑے شہروں میں انڈر گراؤنڈ میٹرو ٹرین، بسوں، رکشہ اور ٹیکسیوں کے ساتھ موٹر سائیکلوں کا استعمال عام ہے۔ لڑکیوں کے موٹر سائیکل استعمال کرنے سے نہ صرف خواتین کا ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل ہوتا ہے بلکہ خواتین کی اکثریت جب موٹر سائیکلوں پر سڑکوں پر نظر آتی ہے تو پھر خواتین کو ہراساں کرنے والے مردوںکے عزائم ناکام ہوتے ہیں۔
بھارت کے شہروں میں خواتین کا موٹر سائیکل چلانا اور موٹر سائیکل کی دوسری نشست پر عورتوں اور مردوں کو بٹھانا ایسی عام سی بات ہے کہ کوئی بھارتی شہری اس صورتحال کو غیر معمولی محسوس ہی نہیں کرتا۔ امرتسر کا دورہ کرنے والے ایک پاکستانی دانشور کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں کے لیے خواتین کا موٹر سائیکل چلانا حیرت کا باعث تھا، انھیں پاکستان اور بھارت کے لوگوں کے رویوں میں فرق واضح نظر آیا مگر بھارت میں موٹر سائیکل چلانے والی خواتین اور دوسری نشست پر بیٹھنے والے افراد کے لیے ہیلمٹ پہننا لازمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں موٹر سائیکل سواروں کے حادثات میں ہلاک ہونے کی شرح کم ہے۔
کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی صورتحال انتہائی مایوس کن ہے۔ قیامِ پاکستان سے پہلے کراچی میں ٹرام چلا کرتی تھی۔ ایک ٹرام کیماڑی سے ٹاور ہوتی ہوئی صدر کے راستے کینٹ اسٹیشن پر اختتام پذیر ہوتی تھی تو دوسری ٹرام چاکیواڑہ سے ٹاور اور ایم اے جناح روڈ سے ہوتی ہوئی سولجر بازار پر ختم ہوتی تھی۔ کراچی میں ڈبل ڈیکر بسیں چلا کرتی تھیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (K.P.T) کی بسیں چلتی تھیں۔ یہ بڑی بسیں تھیں۔ بھٹو دور میں سویڈن نے جدید بسوں کا ایک فلیِٹ کراچی کے شہریوں کو تحفہ میں دیا تھا۔ پھر یہ بسیں کراچی یونیورسٹی کے پوائنٹ میں شامل ہوتی تھیں۔ شہر کے ہر علاقے سے صبح کے اوقات میں کراچی یونیورسٹی جانے کے لیے پوائنٹ چلا کرتے تھے۔
یہ بسیں سلور جوبلی گیٹ سے یونیورسٹی میں داخل ہوتی تھیں اور کراچی یونیورسٹی کی بڑی سڑکوں سے گزر کر پرانی ڈسپنسری پر اختتام پذیر ہوتی تھیں۔ دوپہر کو 12 بجے یہ پوائنٹ واپسی کے روٹ پر چلتے تھے۔ آخری پوائنٹ 6 بجے شام روانہ ہوتا تھا۔ اس طرح طالب علم کم رقم دے کر یونیورسٹی آتے جاتے تھے۔ پھر شہر بھر میں نجی کمپنیوں کی بسیں چلی تھیں۔ ایوب خان کے دور میں سرکلر ریلوے چلنا شروع ہوئی۔ سرکلر ریلوے پپری سے کینٹ اسٹیشن اور سٹی اسٹیشن سے ہوتی ہوئی وزیر مینشن پر اختتام پذیر ہوتی تھی۔
سرکلر ریلوے کی دوسری لائن وزیر منشن سے سائٹ، ناظم آباد، لیاقت آباد اور گلشن اقبال سے ہوتی ہوئی ناتھا خان گوٹھ اسٹیشن پر مرکزی لائن سے منسلک ہو جاتی تھی، مگر بھٹو کے دور میں ٹرانسپورٹ مافیا نے قدم جمانے شروع کر دیے۔ شہری انتظامیہ نے منی بسوں کے دباؤ پر ٹرام کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ بڑی بسوں کی جگہ منی بسیں پبلک ٹرانسپورٹ میں شامل ہو گئیں۔ ان بسوں میں مسافر مرغا بن کر سفر کرتے تھے۔ پھر سرکلر ریلوے کی سروس خراب ہونے لگی۔ ریل کے ڈبوں کی صفائی کی روایت ختم ہو گئی، بلب اور پنکھے غائب ہونا شروع ہو گئے۔ انجنوں کا خراب ہونا، ریل گاڑیوں کا لیٹ ہونا معمول بن گیا، جس کی بنا پر عام آدمی کا اعتماد اٹھ گیا اور مسافروں کی تعداد کم ہونے لگی۔ اسی زمانے میں کے ٹی سی میں بدعنوانیاں بڑھ گئیں جس کی بنا پر اس کا خسارہ بڑھتا چلا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں کے ٹی سی کے خسارے کو ختم کرنے اور ادارے سے بدعنوانی کا کلچر ختم کرنے پر توجہ نہیں دی گئی۔ ایک دن کے ٹی سی بند کر دی گئی۔
سرکاری کمپنی کے بند ہونے کا کراچی کے شہریوں کو تو نقصان ہوا ہی مگر کراچی اور این ای ڈی یونیورسٹیوں کے طلبا کو اس سے بہت زیادہ نقصان ہوا۔ ان یونیورسٹیوں کے طلبا کا دارومدار سرکاری بسوں پر تھا۔ کراچی میں ہونے والے ہنگاموں سے نجی بسیں اور منی بسیں براہِ راست متاثر ہوئیں۔ بسوں کو نذرِ آتش کرنے اور ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کو ہلاک کرنے کی مسلسل وارداتوں کی بنا پر نجی شعبے نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری بند کر دی۔ جنرل پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام کے نفاذ کے بعد جماعت اسلامی کے رہنما نعمت اﷲ خان پہلے ناظم بنے۔
انھوں نے نجی شعبے کو بینکوں سے قرضے دلوائے اور ایئرکنڈیشنڈ جدید بسوں کا فلیٹ شہر کی سڑکوں پر نظر آنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی بڑی بسیں بھی چلنے لگیں، مگر نعمت اﷲ خان کے دور میں ہی یہ بسیں سڑکوں پر سے غائب ہونا شروع ہو گئیں۔ اخبارات میں خبریں شایع ہوئیں کہ ٹرانسپورٹ مالکان بہت سی بسیں پنجاب لے گئے۔ کچھ مالکان نے بینکوں کے قرضوں کی اقساط جمع نہیں کرائیں، جس کی بنا پر یہ بسیں سڑکوں سے غائب ہو کر گوداموں میں جمع کی گئیں۔ سابق ناظم مصطفیٰ کمال کے دور میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے سرکلر ریلوے کی بحالی کا اعلان کیا۔ اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز نے سرکلر ریلوے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔
سرکلر ریلوے کی پٹریوں پر لینڈ مافیا نے قبضہ کیا ہوا تھا۔ اس لینڈ مافیا کی برسرِ اقتدار جماعتیں سرپرستی کرتی تھیں، جس کی بنا پر یہ پٹریاں بحال نہ ہو سکیں۔ ایک دن سرکلر ریلوے خاموشی سے بند ہو گئی۔ اسی دور میں گرین بسیں چلیں۔ سابق ناظم مصطفیٰ کمال کے دور میں چین کے مال برداری کے لیے تیار کیے گئے چنگ چی رکشے سڑکوں پر دوڑنے لگے۔ اس کے ساتھ سی این جی رکشے آ گئے۔ چنگ چی رکشہ پبلک ٹرانسپورٹ کی تعریف پر پورے نہیں اترتے ہیں۔
کراچی کا شمار دنیا کے چند بڑے شہروں میں ہوتا ہے مگر کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ ختم ہو گئی ہے۔ صرف چند روٹس پر بڑی بسیں چلتی ہیں۔ اسی طرح منی بسوں کی تعداد بھی بہت کم ہے۔ شہر سے ٹیکسیاں غائب ہو چکی ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چنگ چی رکشے بھی بند ہو چکے ہیں۔ سی این جی رکشوں کی ہر طرف بھرمار ہے مگر بینکوں سے لیز پر ملنے والی گاڑیوں کی تعداد بڑھنے سے ٹریفک جام ہونے کا معاملہ عام سی بات بن گیا ہے۔ نچلا متوسط طبقہ سی این جی کی بندش والے دن سی این جی رکشوں کے کرائے ادا کرنے کی سکت نہ رکھنے کی بنا پر شدید مشکلات کا شکار ہوتا ہے۔ وفاقی حکومت سرجانی سے ٹاور تک میٹرو بس لائن تعمیر کر رہی ہے۔
سند ھ کی حکومت اورنگی سے بڑا بورڈ تک بس لائن تعمیر کر کے اپنا فرض ادا کرنا چاہتی ہے مگر مجموعی طور پر یہ کراچی شہر کے لیے بہت چھوٹے منصوبے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔ طلبا و طالبات خطیر رقم خرچ کر کے یونیورسٹی پہنچ پاتے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی میں طلبا کو ایک فیکلٹی سے دوسری فیکلٹی جاتے ہوئے دشواری ہوتی ہے۔
اس ماحول میں نتاشا کے موٹر سائیکل چلانے کو ایک جرأت مندانہ اقدام کہا جا سکتا ہے۔ خواتین کے ٹرانسپورٹ کا حقیقی حل موٹر سائیکل ہے، اگر صرف کراچی یونیورسٹی میں طالبات کے موٹر سائیکل چلانے کی حوصلہ افزائی کی جائے تو طالبات کے لیے ایک شعبہ سے دوسرے شعبے تک جانے میں بہت آسانی پیدا ہو جائے گی مگر خواتین کو ہیلمٹ پہن کر قوائد و ضوابط کی مکمل پابندی کرتے ہوئے موٹر سائیکل چلانی چاہیے۔ شہریوں کو بھی خواتین کے موٹر سائیکل چلانے کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے، اور اپنے رویے تبدیلی لانی چاہیے، ٹریفک نظام کو شائستگی اور شہریت کی اعلیٰ قدروں سے متسف کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں موٹر سائیکل سوار افراد کی ٹریفک کے حادثات میں مرنے کی شرح بہت زیادہ ہے، اگر سڑکوں پر موٹر سائیکلوں کے لیے لائن مختص کر دی جائے تو ہیلمٹ پہن کر قوانین کی پاسداری کرنے والی خواتین کی موٹر سائیکل چلانے کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ اس طرح خواتین کا ٹرانسپورٹ کا مسئلہ خاصی حد تک حل ہو گا۔