سانحہ لال مسجد ہدایت کے باوجود تحقیقات نہیں کی گئی سپریم کورٹ

کمیشن دیکھے گا کہ کیا سانحہ کی ذمے داری اداروں پر عائد کی جاسکتی ہے، تفصیلی فیصلہ


Monitoring Desk December 07, 2012
کمیشن دیکھے گا کہ کیا سانحہ کی ذمے داری اداروں پر عائد کی جاسکتی ہے، تفصیلی فیصلہ۔ فوٹو: فائل

لاہور: سپریم کورٹ نے لال مسجد کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت پولیس کو اس کیس میں کئی مرتبہ ہدایات جاری کرچکی ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے۔

تاہم عدالتی حکم کے باوجود کوئی تسلی بخش اقدام نہیں گیا جبکہ لال مسجد کے واقعے میں رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں گئیں اور جامعہ حفصہ کی جائیداد کو بھی نقصان پہنچا۔ اس کیس میں الزامات اور جوابی الزامات کا ایک سلسلہ موجود ہے جس کی باقاعدہ تفتیش کے بغیر عدالت کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتی، اس لیے عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ کمیشن قائم کیا جائے جو ان ضوابط کے تحت تحقیقات کریگا۔

05

ایک ٹی وی کے مطابق کمشن دیکھے گا کہ لال مسجد سانحہ کی وجوہ کیا تھیں اور کیا دستیاب مواد کی بنیاد پر اس سانحے کی ذمے داری سیکیورٹی اداروں پر عائد ہوسکتی ہے یا ان سے متعلق افراد پر انفرادی حیثیت سے عائد ہوسکتی ہے۔

عدالت نے مقدمے کے ریکارڈ کی نقل کمیشن کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ فیصلہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس شیخ عظمت سعید نیڈاکٹر اکمل سلیمی کی درخواست پر تحریر کیا۔