دہشت گردی کی باقیات کے بزدلانہ حملے

مردان خودکش دھماکے نے دہشتگردی کے تسلسل اور سلامتی و تحفظ کے اقدامات کےدرمیان کسی اہم کڑی کےگم ہونے کا سوال اٹھایا ہے۔


Editorial September 04, 2016
مردان خودکش دھماکے نے دہشتگردی کے تسلسل اور سلامتی و تحفظ کے اقدامات کےدرمیان کسی اہم کڑی کےگم ہونے کا سوال اٹھایا ہے۔ فوٹو: فائل

ضلع کچہری مردان کے اندر خودکش دھماکے نے دہشتگردی کے تسلسل اور سلامتی و تحفظ کے اقدامات کے درمیان کسی اہم کڑی کے گم ہونے کا سوال اٹھایا ہے۔ اس دردانگیز سانحہ کے نتیجے میں 14 افراد شہید جب کہ چار وکلاء اور تین پولیس اہلکاروں سمیت 52 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ جمعہ کی صبح دس بجے ضلع کچہری مردان میں اس وقت خودکش بمبار نے اپنے آپ کو اُڑا دیا۔

اس دردناک سانحہ سے جو سوال یہاں جنم لیتا ہے وہ بمبار کے اپنے ہدف تک پہنچنے کا ہے، اس پہلو پر دنیا بھر کے ماہرین غور و فکر کر رہے ہیں کہ دہشتگردی اب کسی ایک خاص ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ اس عفریت کے باعث دنیا کو عدم تحفظ کے مربوط عالمی خطرات لاحق ہو گئے ہیں، بمبار دنیا کے ان خطوں سے بھی آ رہے ہیں جہاں غربت، ناانصافی، ظلم اور عزت نفس کو کچلنے کی ہر کارروائی ریاستی و حکومتی پالیسی کا حصہ بنی ہوئی ہے۔

مردان کچہری پر حملہ کوئٹہ سانحہ کی یاد دلاتا ہے جس سے بربادی کی ضدی اور سرکش قوتوں نے واضح عندیہ دیا ہے کہ وہ آزاد عدلیہ، اقلیتیں اور وکلاء برادری کو اپنا ٹارگٹ بنا چکی ہیں، کراچی میں لاشیں ملنے لگی ہیں، اس لیے سلامتی پر مامور اداروں اور ارباب اختیار کو مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے جس کے تحت دہشتگردی پر کمر بستہ عناصر پر پہلے سے وار کرنے کی سٹریٹجی ایجاد کرنا ہو گی۔

مغرب میں دہشتگردی کی وجہ سے پیدا شدہ عدم تحفظ اور نئے عالمی اندیشوں اور بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے ہیں اور ہمارے یہاں ابھی تک نیشنل ایکشن پلان پر معقولیت سے ماورا ایک لایعنی بحث جاری ہے جو قوم کے انتشار خیالی کا باعث بن رہی ہے جب کہ دنیا اومنی کلچرل ازم کے ذریعے دہشتگردی سے ابھرنے والے عدم تحفظ کے احساس کی بیخ کنی کے طریقے ڈھونڈ رہی ہے، ہمیں بھی اس دھارے سے الگ نہیں رہنا۔

ارباب اختیار اور سیکیورٹی فورسز کے لیے یہ سوالیہ نشان ہے کہ خودکش حملہ آور نے چھ سے آٹھ کلو وزنی خودکش جیکٹ پہن رکھی تھی، کیا وہ سلیمانی ٹوپی بھی پہنے ہوئے تھا؟ اگرچہ پولیس کی بروقت کارروائی کی وجہ سے زیادہ نقصان نہیں ہوا تاہم اس بمبار کو اس بھاری بھرکم جیکٹ کے ساتھ ہدف سے بہت دور دبوچ لینا چاہیے تھا تا کہ اس سے پوچھ گچھ ہوتی تو ماسٹر مائنڈز کا سراغ مل جاتا۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ دہشتگرد نہتے شہریوں کو نشانہ بنا کر بزدلانہ اقدام کے مرتکب ہو رہے ہیں، انھوں نے دہشتگردوں کو للکارا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وردی والوں کے ساتھ لڑیں، خبروں کے مطابق بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے مردان ایئر بیس پر ملاقات کی جس میں موجودہ ملکی حالات اور دہشتگردی کے خاتمے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آرمی چیف اور عمران خان نے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے موثر کوششوں پر اتفاق کیا، عمران خان نے بعد میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، پولیس اہلکار اگر حملہ آور کو نہ روکتا تو بڑا نقصان ہوتا۔ ادھر بم ڈسپوزل یونٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ کرسچین کالونی ورسک روڈ پر حملہ آور دہشتگرد اپنے ساتھ بھاری اسلحہ لائے تھے جس سے وہ فورسز کے ساتھ کئی گھنٹے تک مقابلہ کر سکتے تھے، ان کی اس رعونت، باقیات کی بچی ہوئی طاقت کو کچل دینے کا یہی وقت ہے، کیونکہ دہشتگرد ی کی وارداتوں میں کمی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔

آپریشن ضرب عضب کی تعریف ہو رہی ہے، وزارت داخلہ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ نیپ پر عملدرآمد کے بعد سے دہشتگردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی، امریکی رپورٹ کے مطابق سال 2015ء میں گزشتہ سال کے مقابلے میں پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں 45 فیصد کمی واقع ہوئی جب کہ بھارت اور بنگلہ دیش میں دہشتگردی کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

درد انگیز حقیقت یہ ہے کہ مردان کچہری اور پشاور کرسچین کالونی پر حملے انسانیت سوز اور بزدلانہ کارروائیوں کا شرمناک سلسلہ ہیں جو دہشتگردوں نے اپنے ناقابل تسخیر اور نام نہاد عسکریت پسندانہ ٹھکانوں سے راہ فرار اختیار کرنے بعد سافٹ ٹارگٹ پر توجہ مبذول کی ہے، اس لیے بربادی کی ان قوتوں کے خلاف ''ہارڈ اینڈ سافٹ'' عسکری، سیاسی و معاشی وسائل کو پوری قوت سے استعمال میں لایا جائے۔ تاہم بنیادی حقیقت پھر بھی یہی ہے کہ مروجہ فسطائی مائنڈ سیٹ اور مذہبی انتہا پسندی کے نظریاتی مغالطے سے نئی نسل کو بچانا ہے جسے دہشتگرد تنظیمیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے بطور ایندھن کرتی ہیں۔

دہشتگردی ایک تلخ حقیقت سہی، مگر وطن عزیز سمیت دنیا کے تقریبا سب ہی ممالک کو مستقبل کے خطرات اور ریاست و انسانی سماج کے ان بے چہرہ اور مستقل حرکت میں رہنے والے دشمنوں سے نمٹنا ہے جنھوں نے مردان کچہری اور کرسچین کالونی پر حملے کیے۔ کل ان کا ہدف کچھ اور بے گناہ لوگ ہونگے اس لیے دہشتگردوں کو انجام تک پہنچانے میں دیر نہ ہو، قوم کو عدم تحفظ کے اجتماعی بحران سے نکالنے کے لیے دہشتگردوں کے خلاف آہنی دیوار کھڑی کرنے کی ضرورت ہے، ملک حالت جنگ میں ہے، خود کش بمبار ہمارے اندر یہیں کہیں ہیں، ہمیں جاگتے رہنا ہو گا۔