قانون الٹ پلٹ یا ممنوعات و ترغیبات
ارسطو نے دیکھا کہ صرف یہی ایک بچہ تھا جو سنورنے کے بجائے اور زیادہ بگڑ گیا تھا
KARACHI:
مشہور زمانہ فلسفی، دانشور، اسکالر اور ماہر انسانیات و لسانیات پروفیسر علامہ چوم چوم نومسکی نے اپنی تازہ ترین اور رسوائے عالم کتاب ''جھوم جھوم وسکی'' میں لکھا ہے کہ جب اس طرح ہونے لگے اس طرح کے کاموں میں تو انسان کو الٹ پلٹ کا اصول اپنانا چاہیے، ''الٹ پلٹ'' کا قانون یونان کے قدیم فلسفی دیوجانس کلبی نے بنایا ہے جس پر ہمارے ہاں کے دانشوروں نے تشریح کا یہ حاشیہ چڑھایا ہے کہ جب سیدھی انگلیوں سے گھی نہ نکلے تو انگلیوں کو ٹیڑھا کرنا چاہیے حالانکہ ہم نے اس اصول کو بارہا آزمایا ہے، گھی ٹیڑھی انگلیوں سے بھی نہیں نکلتا صرف پسینہ نکلتا ہے جب کہ گھی کنستر یا ڈبے سے نکلتا ہے۔
پروفیسر چوم چوم نومسکی نے لکھا ہے کہ انسان صدیوں سے ''امن'' کے لیے کوشش کر رہا ہے لیکن ایسی ہر کوشش سے امن کے بجائے جنگ جنم لیتی ہے۔ انسان سچ بولنے پر زور دیتا ہے لیکن زور جھوٹ پر پڑ جاتا ہے، انسان انصاف قائم کرنا چاہتا ہے لیکن اس سے بے انصافی میں اضافہ ہو جاتا ہے، انسان صحت کے لیے جتنی کوشش کرتا ہے اس کوشش کے پیٹ سے بیماریاں بڑھانے والے معالج اور بیماریاں بیچنے والے دوا ساز پیدا ہوتے ہیں، مذہب انسان بنانے کے لیے آتا ہے لیکن بن جاتے ہیں حیوان۔ اب ان حالات میں صرف ایک صورت باقی رہ جاتی ہے کہ حکیم دیو جانس کلبی کے قانون ''الٹ پلٹ'' کا اجراء کیا جائے یعنی سیدھا چلنے کے بجائے پلٹ کر الٹا چلنا شروع کیا جائے۔
دیو جانس کلبی نے دراصل یہ قانون الٹ پلٹ ایک بچے سے سیکھا تھا، ان دنوں دیو جانس کلبی ایک پرائمری اسکول میں ٹیچری یعنی بچوں کو بگاڑنے کا کام کرتا تھا اور ابھی اسکول سے دھکے دے دے کر نکالا نہیں گیا تھا۔ چلو بات کو آخری سرے سے پکڑ کر ہم بھی قانون الٹ پلٹ کی ابتداء کریں۔ دیو جانس کلبی کو اسکول سے نکالنے بلکہ دھکے دے دے نکالنے کی وجہ یہ ہوئی کہ ایک دن جب اسکول انسپکٹر ارسطو اسکول کے معائنے پر آیا تو اس نے دیکھا کہ بچے بگڑنے کے بجائے سنور گئے تھے، صرف ایک ہی بچہ سکندر تھا جو اپنے باپ فلپ کے بجائے اپنی ماں اولمپیاس کی اچھی شہرت کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔
ارسطو نے دیکھا کہ صرف یہی ایک بچہ تھا جو سنورنے کے بجائے اور زیادہ بگڑ گیا تھا۔ انسپکٹر ارسطو نے اسی وقت ماسٹر دیو جانس کلبی کو بیک بینی و دوگوش اسکول سے نکال دیا کہ تم بچوں کی ایک چھوٹی سی تعداد کو بگاڑ نہیں پائے، وہاں جا کر پاکستان میں دیکھو کہ ایک استاد اپنی زندگی میں کم از کم ایک میلنیم بچوں کو تو بگاڑ ہی لیتا ہے، اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے بعد میں سکندر یہاں آیا بھی تھا۔ خیر تو دیوجانس کلبی نے ایک مرتبہ ایک لڑکے سے اس کے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو لڑکے نے بتایا کہ بارش کی وجہ سے راستہ اتنا پھسلوان ہو گیا تھا کہ میں ایک قدم آگے بڑھاتا تو دو قدم پیچھے پھسل جاتا، پھر تم اسکول پہنچے کیسے؟ استاد نے گرج کر پوچھا۔
لڑکے نے کہا، سر پھر میں پلٹ کر الٹ ہو گیا، اپنا منہ اسکول کے بجائے گھر کی طرف کر لیا، ایک قدم آگے بڑھاتا تو دو قدم پیچھے پھسل جاتا اور یوں پھسلتے پھسلتے میں اسکول پہنچا لیکن آدھے دن کی دیری ہو گئی۔ دیو جانس کلبی نے یہ بات گانٹھ باندھ لی اور بعد میں اسے اپنے قانون الٹ پلٹ کی بنیاد بنایا، پروفیسر علامہ ڈاکٹر چوم چوم نومسکی نے اسی قانون الٹ پلٹ پر عمل درآمد کرنے کا فارمولا پیش کیا ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ تمام لوگ سچ بولنا چھوڑ دیں، بلکہ سچ بولنے پر سخت سزاؤں کا اعلان کیا جائے اور جھوٹ کو سرکاری طور پر سرپرستی میں لیاجائے۔
تمام کتابیں اور اقوال وغیرہ جن میں سچ بولنے کی تلقینات اور تاکیدات کی گئی ہیں، ان میں ترمیم کر کے ''سچ'' کی جگہ جھوٹ لکھا جائے، جیسے سانچ کو آنچ نہیں کی جگہ جھوٹ کو بوٹ نہیں یا جیت ہمیشہ سچائی کی ہوتی ہے کی جگہ جیت ہمیشہ جھوٹ کی ہوتی ہے لکھا جائے اور نہایت ہی وسیع اور ہنگامی بنیادوں پر سچ کی جگہ جھوٹ کو رائج کیا جائے۔ چند ہی برسوں میں آپ دیکھیں گے کہ دنیا میں سچ ہی سچ ہو گا کیونکہ یہ انسان ایسی مردود ہڈی ہے جس سے منع کرو وہی کرے گا۔ انسان تو انسان کے باوا امی کا بھی یہی وطیرہ تھا، جس بُوٹی سے منع کیا گیا تھا اسی کے ہو گئے۔
انسان کی اس جدی پشتی بیماری کے ثبوت آج بھی اس کے اندر ملتے ہیں، بازار میں دو لوگ لڑ پڑتے ہیں، اگر بیچ بچاؤ کرنے والے فریقین کو روکنا اور پکڑنا چھوڑ دیں تو جھگڑا خودبخود ختم، لیکن لوگ آ کر دونوں کو پکڑ لیتے ہیں اور وہ دونوں ایک دوسرے پر جھپٹنے کے لیے زور لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ دیو جانس کلبی کا وضع کیا ہوا اور چوم چوم نومسکی کا یہ قانون الٹ پلٹ نہایت کام کی چیز ہے، ہمارا خیال ہے اگر آج ساری دنیا میں ممنوعات پر سے پابندی اٹھا لی جائے تو ان ممنوعات کی تو ماں ہی مر جائے گی کیونکہ ایک بزرگ فلسفی نے بتایا ہے کہ جو دراصل وہ ہم ہی ہیں کہ دنیا کی تمام برائیوں کی ماں یہ کم بخت ''ممانعت'' ہی ہے۔
آج ہی چوری کو ممنوع کے کھاتے سے نکال کر فرائض کی لسٹ میں ڈال دیں، کرپشن کو ڈیوٹی میں شامل کیا جائے، خوردبرد اور گھپلوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو کل سے آپ دیکھ لیں گے کہ لوگ چوری سے، کرپشن سے اور خوردبرد سے بیزاری کا اظہار کرنے لگیں گے۔ چھوڑ یار یہ حکومت بھی... اب کون جان جوکھم میں ڈال کر چوری کرے اور پھر فائدہ بھی تو کچھ نہیں سارا مال تو پولیس والے دھر لیتے ہیں، ہمیں صرف تلچھٹ ملتی ہے، اس سے بہتر ہے کہ انسان مزدوری کرے۔ گولی مارو یار کرپشن کو، ہم کچھ اور کام نہیں کریں گے جو حکومت کے کہنے پر صرف کرپشن میں جت جائیں اور کس لیے۔
بالائی تو بڑے بھائی ڈکار لیتے ہیں اور مونچھیں ہماری چکنی کر دیتے ہیں، غبن خوردبرد گھپلے... ناں ناں بھائی ناں بھاڑ میں جائے حکومت اور اس کے اعلانات۔ ہم کیا فالتو ہیں کہ حکومت کی باتوں پر حرف بحرف عمل کریں، اپنی دنیا بھی خراب کریں اور آخرت بھی بگاڑیں، سگریٹ ہی کو لے لیں اگر صرف سگریٹ کی ڈبیہ ہی سے وزارت صحت کا آشیرواد ہٹا دیا جائے تو ہمیں یقین ہے کہ آدھے لوگ سگریٹ چھوڑ دیں گے۔
جناب چوم چوم نومسکی نے اپنی کتاب ''جھوم جھوم وسکی'' میں بہت ساری مثالیں اور تاریخی واقعات پیش کیے ہیں کہ اگر آج ہی ساری دنیا کی حکومتیں مل کر امن کے بجائے ''جنگ جنگ'' کی قوالی شروع کریں اور ھمہ اقسام کے ہتھیاروں پر سے پابندی اٹھا کر اعلان عام کر دیں کہ لڑو اور خوب لڑو جتنا لڑ سکتے ہو لڑو، مرو مارو... تو دوسرے دن تو شاید عمر بھر کی پابندی سے رکا ہوا تشدد ابل پڑے لیکن تیسرے دن سے چہ میگوئیاں شروع ہو جائیں گی کیا ہم پاگل ہیں، جانور ہیں، احمق ہیں بے وقوف ہیں جو خواہ مخواہ لڑیں۔
نہیں بھئی نہیں، ہم کوئی حکومت کے غلام ہیں جو اس کے کہنے پر خواہ مخواہ اپنے بھائی بندوں کو ماریں۔ آخر میں پروفیسر علامہ ڈاکٹر چوم چوم نومسکی نے نتیجہ نکالا ہے بلکہ ثابت کیا ہے کہ دنیا میں سارے فساد کی جڑ پابندی اور ممنوعیت ہے۔ آخر میں علامہ مذکور نے اپنا ایک انگریزی شعر بھی دیا ہوا ہے جو حیرت انگیز طور پر غالبؔ کے ایک شعر کی چوری ہے لیکن آخر میں اس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں عملاً یہ چوری اس لیے کر رہا ہوں تاکہ دنیا کو یہ پیغام دوں کہ چوری تو کیا سینہ زوری بھی جائز ہے۔ ہم نے اگر انسان کو بندے کا پتر بنانا ہے تو قانون الٹ پلٹ اپنا کر ھمہ اقسام کی ممنوعات کو ختم کر کے ترغیبات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور آخر میں چوری شدہ شعر کہ
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور