صدر نے ججز کی تقرری کے ریفرنس پر دستخط کردیے آج دائر کیا جائیگا

چیف جسٹس سمیت سپریم جوڈیشل کونسل کا کوئی رکن سماعت کرنیوالے بینچ میں شامل نہ ہو،ریفرنس میں موقف


INP December 07, 2012
13سوالات پر عدالت کی رائے مانگی گئی ہے،چیف جسٹس سمیت سپریم جوڈیشل کونسل کا کوئی رکن سماعت کرنیوالے بینچ میں شامل نہ ہو،ریفرنس میں موقف. فوٹو: فائل

صدر مملکت آصف علی زرداری نے ججوں کی تقرری کے صدارتی ریفرنس پر دستخط کر دیے، وزیر قانون فاروق نائیک نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ صدارتی ریفرنس آج سپریم کورٹ میں دائر کر دیا جائے گا۔

وزیر قانون کے مطابق صدارتی ریفرنس میں آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت 13سوالات پر عدالت کی رائے مانگی ہے، ذرائع کے مطابق صدر زرداری نے جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کے کردار پر بھی رائے مانگی ہے۔ آئی این پی کے مطابق ریفرنس صدر کے وکیل وسیم سجاد دائر کریں گے، سپریم کورٹ سے پوچھا گیا ہے کہ ججز تقرری سے متعلق صدر مملکت کے کیا اختیارات ہیں؟ کیا ججز کی تقرری میں سنیارٹی کے اصول کو مدنظر رکھا گیا؟ کیا سنیارٹی کے طے شدہ اصولوں کوتوڑا جا سکتا ہے؟

عدالتی کمیشن کس حد تک بااختیار ہے؟ پارلیمانی کمیٹی کیا اختیارات رکھتی ہے؟ کسی کو جج بنانے کا معیار کیا ہے؟ کیا سینئر رکن کی بجائے جونیئر جج عدالتی کمیشن میں بیٹھ سکتاہے؟ کیا جونیئر جج کو عدالتی کمیشن میں بٹھانا غیرآئینی نہیں کہلائے گا؟ ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل کی مشاورت سے تیار کیے جانے والے ریفرنس کے مسودے کو وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے حتمی شکل دے کر صدر مملکت کو ارسال کیا تھا، ذرائع نے بتایا کہ ریفرنس میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ریاض احمد خان اور جسٹس محمد انور کاسی کی تعینانی ایک ہی روز ہوئی تھی، جسٹس ریاض احمد خان نے سنیارٹی کے تعین کیلیے2 سال قبل وزارت قانون کو ایک درخواست بھجوائی تھی تاہم اس وقت کے وزیر قانون با بر اعوان نے اس پر کو ئی عمل نہ کیا۔

01

ریفرنس میں جسٹس ریاض کی اس درخواست کا حوالہ بھی دیا گیا، ریفرنس میں موقف اختیار کیا گیاکہ چونکہ چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین ہیں لہٰذا ان سمیت سپریم جوڈیشل کونسل کا کوئی بھی رکن اس کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل نہ ہو۔ ریفرنس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ ججز تقرری کے حوالے سے قائم پارلیمانی کمیٹی نے سندھ ہائیکورٹ کے 2ججز اور لاہور ہائیکورٹ کے4ججز کے ناموں پر تحفظات کا اظہار کرتے ان کے ناموں کی منظوری نہیں دی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ ان میں ایک جج ایسے تھے جنھوں نے تقرری ہونے کے بعد نیشنل ٹیکس نمبر حاصل کیا جس پر کمیٹی نے تحفظات ظاہر کیے تھے کہ بطور وکیل انھوں نے اپنا ٹیکس نمبر حاصل کیا اور نہ ٹیکس دیا، لہٰذا یہ جج بننے کے اہل نہیں۔ واضح رہے کہ ریفرنس دائر کرنے کی مہلت آج ختم ہو رہی تھی۔ دوسری جانب ججوں کی تقرری کے کیس کی فوری سماعت کیلیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی۔ درخواست اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے جس میں معاملے کی اہمیت کے پیش نظر اس کو10دسمبر کو سننے کی استدعا کی گئی ہے۔

این این آئی کے مطابق اکرم شیخ نے موقف اختیار کیا کہ صدارتی ریفرنس دائر کرنے کا وقت گزر گیا، آئینی عمل پورا ہونے کے باوجود نوٹیفکیشن جاری نہ کیا جانا انصاف سے انحراف ہے، حکومت کی طرف سے تاخیری حربے استعمال کرنے کی وجہ سے سائلین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انصاف کی راہ میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔