مدارس کی جیو ٹیگنگ سندھ حکومت کا مستحسن اقدام

غیر رجسٹرڈ مدارس خود کو قانون کے دائرہ کار میں لائیں تاکہ دینی اقدار کے پروردہ اداروں کی حرمت کا تحفظ کیا جاسکے


Editorial/editorial September 06, 2016
شہر کو لاشوں کی سیاست کا ورثہ ملا، بدامنی و کرپشن کی سیاہی اس کے شفاف جمہوری و سیاسی کلچر کے منہ پر ملی گئی

ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں مدارس کا نام آنے کے بعد اسپیشل برانچ نے سندھ بھر میں 7724 مدارس کی جیو ٹیگنگ کا عمل مکمل کرلیا ہے۔ جیوٹیگنگ کے بعد اب تمام مدارس کی کڑی نگرانی کی جاسکے گی۔ مذکورہ اقدام کو اس تناظر میں مستحسن قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس سے نہ صرف مدارس کی عمارتوں کی کڑی نگرانی اور کسی بھی مدرسے کو دہشت گردی میں استعمال ہونے سے روکا جاسکے گا بلکہ اُن دینی مدارس کی گلوخلاصی بھی ممکن ہے جو حقیقتاً قوم کو دینی تعلیم سے بہرہ ور کرنے کے فرائض انجام دینے میں مصروف عمل ہیں اور چند عاقبت نااندیش انتہاپسندوں کے راہِ راست سے بھٹک جانے کے باعث بدنامی اور شک کی نگاہ کا شکار ہیں۔

واضح رہے مدارس کی جیو ٹیگنگ کا فیصلہ کافی عرصہ سے ہونے والے سندھ اپیکس کمیٹی کے اجلاسوں میں کیا جاچکا تھا جس پر 6 ماہ سے کام جاری تھا۔ جیو ٹیگنگ جدید ٹیکنالوجی ہے، جس سے پوری دنیا مستفید ہورہی ہے جب کہ اب سندھ میں بھی اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ اسپیشل برانچ سندھ نے محکمہ پولیس کے شعبہ آئی ٹی سے مل کر سندھ میں 7724 مدارس کی جیو ٹیگنگ کا عمل مکمل کیا ہے۔ پاکستان گزشتہ دو عشرے سے بدترین دہشت گردی کا شکار ہے اور قابل افسوس امر یہ ہے کہ مذہب کے نام نہاد پیروکاروں اور خودساختہ عقائد کے حامل شدت پسندوں نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے پرامن اور دینی تعلیم کا پرچار کرنے والے چند مدارس کو اس طرح استعمال کیا کہ ملک میں قائم تمام مدارس شک کی نگاہ سے دیکھے جانے لگے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ سندھ بھر میں مدارس کی مجموعی تعداد 10030ہے، 2309 مدارس بند ہیں، جب کہ 1184 مدارس غیر رجسٹرڈ ہیں۔ تمام غیر رجسٹرڈ مدارس کے خلاف کارروائی کے لیے محکمہ اسپیشل برانچ سندھ نے مجاز حکام کو خط لکھ دیا ہے۔ راست ہوگا کہ غیر رجسٹرڈ مدارس خود کو قانون کے دائرہ کار میں لائیں تاکہ دینی اقدار کے پروردہ اداروں کی حرمت کا تحفظ کیا جاسکے، نیز دہشت گردی کی سرکوبی کے لیے ہر ادارہ اور عوام متحد ہو کر عمل پیرا ہوں، یہی وقت کا تقاضا ہے۔