دہشت گردی کی نظریاتی اساس
پشاور کے ایک علاقے کرسچن کالونی میں چار دہشت گردوں نے ایک ساتھ خودکش حملے میں خود کو اڑالیا
تازہ خبر کے مطابق پشاور کے ایک علاقے کرسچن کالونی میں چار دہشت گردوں نے ایک ساتھ خودکش حملے میں خود کو اڑالیا، جب بھی کوئی دہشت گرد خودکش حملے کا ارتکاب کرتا ہے اس کا جسم چیتھڑوں میں بدل جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بہت سارے بے گناہ بھی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ کسی شخص کا یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی کہ خودکش حملے میں اس کا جسم ٹکڑوں اور لوتھڑوں میں بدل جائے گا اور خودکش حملے میں بہت سارے بے گناہ لوگ جن میں مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے سب شامل ہوتے ہیں ایک خوفناک موت کا شکار ہوجائیںگے دہشت گردی اور خودکش حملے اب علاقائی سطح سے نکل کر ساری دنیا میں پھیل گئے ہیں۔ دہشت گرد جس منظم اور منصوبہ بند انداز میں دہشت گردی کی کارروائیاں کررہے ہیں اور جو مقاصد بتارہے ہیں ان کے پس منظر میں یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ دہشت گردی کا دائرہ مستقبل میں محدود نہیں ہوگا بلکہ اور وسعت اختیارکرلے گا۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف بڑے بڑے فوجی آپریشن کیے جارہے ہیں جن میں جدید ترین ہتھیاروں کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے والوں کو فضائی کور بھی فراہم کیا جارہاہے لیکن دہشت گردی کی کارروائیاں رک نہیں رہی ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں کوئٹہ میں دہشت گردی کی جو خوفناک کارروائی کی گئی اس میں درجنوں وکلا جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے، اس کے بعد کئی جگہوں پر دہشت گردی کی چھوٹی چھوٹی وارداتیں ہوتی رہیں، پشاور کی کرسچن کالونی میں کی جانے والی دہشت گردی کی تازہ واردات اسی کا ایک حصہ ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب کی کارروائی سے بلاشبہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردی پر قابو پالیا گیا ہے لیکن تھوڑے تھوڑے وقفے سے دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ یہ سلسلہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی صورت میں جاری ہے۔
امریکا دنیا کی سپر پاور لگ بھگ دس سال تک افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کرتی رہی جس پر کھربوں ڈالر خرچ ہوئے لیکن امریکا اور اس کے اتحادی دہشت گردی ختم کرنے میں ناکام رہے بلکہ اب افغانستان میں پہلے کے مقابلے میں دہشت گردی شدت پکڑتی جارہی ہے۔ یہی حال شام، عراق، یمن، افریقی ممالک کا ہے۔ جو ملک دہشت گردی کے خلاف عسکری جنگ لڑ رہے ہیں اور بھاری جانی نقصانات اٹھارہے ہیں وہ اور ان کی قربانیاں قابل تحسین ہیں۔ اس جنگ میں اب تک بے گناہ عوام کی ایک بہت بڑی تعداد جاں بحق ہوچکی ہے، صرف پاکستان میں اب تک 60 ہزار کے لگ بھگ بے گناہ لوگ قتل ہوچکے ہیں، پاکستان کے ذمے دار حلقے یہ حوصلہ افزا موقف اپنا رہے ہیں کہ ''دہشت گردی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ اور اس حوالے سے یہ حلقے ایک موثر منصوبہ بندی بھی کررہے ہوںگے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی جاری ہے جس پر سیکیورٹی فورسز کو کوئی الزام نہیں دیا جاسکتا ہے کہ وہ بہرحال بہادری سے لڑ بھی رہی ہیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کررہی ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف عالمی پیمانے پر جو جنگ لڑی جارہی ہے، اس میں حتمی کامیابی کا حصول اسی لیے ممکن نہیں ہورہاہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والے اب تک دہشت گردی کے محرکات کو سمجھنے کی غالباً ایسی سنجیدہ کوششیں نہیں کررہے ہیں جو دہشت گردی کو ختم کرنے اور دہشت گردوں کو نظریاتی طور پر غیر فعال کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ اس حوالے سے پہلی بات یہ ہے کہ دہشت گردی قبائلی علاقوں اور قبائلی معاشروں کی پیداوار ہے جہاں علم اور شعور بوگس اعتقادات کے تابع ہے جو لوگ دہشت گردی کی قیادت کررہے ہیں وہ جدید دنیا کی سائنس و ٹیکنالوجی اور جدید علوم سے نابلد ہیں اور ان کے سامنے ایک ہی ہدف ہے اور وہ ہے ساری دنیا پر اپنے نظریات مسلط کرنا۔ لیکن وہ اس حقیقت کو سمجھنے سے عاری ہیں کہ محض خودکش حملوں اور دہشت گردوں کے ذریعے وہ اپنا ہدف حاصل نہیں کرسکتے۔
اس حوالے سے اس خوف کا اظہار بھی کیا جارہاہے کہ کہیں دہشت گرد ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی حاصل نہ کرلیں۔ یہ خوف اس لیے غلط نہیں کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک اس قدر وسیع ہے اور ان کے جنگجو نازک سے نازک اہداف تک رسائی رکھتے ہیں۔ ڈر یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ ایٹمی ہتھیار مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ جائیں تو وہ انھیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے میں کوئی تکلف نہیں کریںگے، اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو کرۂ ارض پر بسنے والوں کا حشر کیا ہوگا؟
خودکش بمبار اپنی جان کیوں دیتا ہے؟ یہ اس قدر اہم سوال ہے کہ اس کے درست اور منطقی جواب پر ہی دہشت گردی کے خلاف پیش رفت ممکن ہے۔ اس میں کوئی دو رائے یا ابہام نہیں ہے کہ دہشت گردی کی جنگ ایک احمقانہ لیکن نظریاتی جنگ ہے۔ جس کا مقابلہ صرف ہتھیاروں اور صرف فوج کے ذریعے نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے مقابلے کے لیے اور اس سے نجات پانے کے لیے بھی لغو اور احمقانہ نظریات کے خلاف نظریاتی جنگ لڑنا پڑے گی۔
مثلاً خودکش بمبار خودکش حملے میں جان دے کر یہ سمجھتا ہے یا اسے سمجھایا جاتا ہے کہ وہ سیدھے جنت میں جائے گا جب کہ اسلام نے خودکشی کو حرام قرار دیا ہے اور کہا گیا ہے کہ خودکشی کرنے والا جہنم میں جائے گا۔ دوسری بات یہ کی گئی ہے کہ مسلمان کا خون مسلمان پر حرام ہے، یہ ایسے نظریاتی ہتھیار ہیں جنھیں دہشت گردوں کی زبان میں ان تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے الیکٹرانک میڈیا کی رسائی ملک کے چپے چپے تک ہے میڈیا اس قسم کے مذہبی احکامات کو اپنے چینلوں کے ذریعے دہشت گردوں کی زبان میں ان کے علاقوں تک پہنچاسکتا ہے۔ اور مقامی طور پر مسجدوں کے ذریعے اسلام کے ان حوالوں سے متعارف کرائے گئے احکام کو قبائلی اور دہشت گردی کے علاقوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔