میری زندگی

ڈاکٹر مبارک لکھتے ہیں کہ اگرچہ گھر کا ماحول بہت مذہبی نہ تھا مگر ماحول نے مجھے نماز، روزے کا پابند کردیا۔


Dr Tauseef Ahmed Khan December 07, 2012
[email protected]

سماجی علوم کے ارتقا کا جائزہ لیا جائے تو تاریخ کا مضمون سب سے قدیم نظر آتا ہے، غالباً زبان کے علم کے ساتھ تاریخ کے علم کا ارتقا ہوا۔ تاریخ کے علم کے ساتھ ڈاکٹر مبارک علی کا نام آتا ہے۔ ڈاکٹر مبارک نے اردو زبان میں عوام کی تاریخ لکھنے کی روایت ڈالی۔ ڈاکٹر مبارک کو عوام کی تاریخ لکھنے کی سزا ملی اور اسٹبلشمنٹ نے انھیں جامعات سے دور کردیا۔ ڈاکٹر مبارک علی نے 50 سے زائد کتابیں اردو میں تحریر کیں، اس کے ساتھ ہی انگریزی اخبارات اور ریسرچ جرنلز میں تحقیقی مضامین لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ ڈاکٹر مبارک علی کی 7 کتابیں میری دنیا آپ بیتی (نیا ایڈیشن)، پاکستانی معاشرہ، تاریخ کی باتیں، قائد اعظم کیا تھے کیا نہیں تھے What History Tells usسندھ کی تاریخ کیا ہے اور تاریخ کی آگہی، اس سال شایع ہوئیں۔ ان کی کتاب میری دنیا ان کی زندگی کے دلچسپ تجربات پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی نے اس کتاب میں حیدرآباد سندھ میں اپنے بچپن کے واقعات تحریر کیے ہیں۔

ڈاکٹر مبارک لکھتے ہیں کہ اگرچہ گھر کا ماحول بہت مذہبی نہ تھا مگر ماحول نے مجھے نماز، روزے کا پابند کردیا۔ اس کے ساتھ ہی مذہبی کتابیں پڑھنے کا شوق ہوا۔ ڈاکٹر مبارک کا کہنا ہے کہ موت کا خیال عمر کی پختگی کے بعد ہی آتا ہے۔ شروع کی زندگی میں موت سے ڈر نہیں لگتا کیونکہ زندگی میں کچھ دیکھا نہیں ہوتا، اس لیے زندگی اور موت کا فرق زیادہ اہم نہیں ہوتا مگر جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے زندگی سے لگائو بڑھتا ہے۔ اس وقت موت کا شعور بھی پیدا ہوتا ہے مگر انسان زندہ رہنا چاہتا ہے، موت کی خواہش اس وقت ہوتی ہے جب بڑھاپا اس حد تک پہنچ جائے کہ انسان دوسرے کا محتاج ہوجائے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ میری مذہبی زندگی کے تجربات دلچسپ ہیں۔

ڈاکٹر مبارک لکھتے ہیں ''میں نماز کا سخت پابند ہوگیا تھا، راستہ میں نماز کا وقت ہوا جو مسجد قریب میں آئی وہاں چلا گیا وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑا ہوگیا تو دیکھا کہ مسجد میں سارے لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں، مجھے ایک عجیب سا خوف محسوس ہوا کہ شاید میں غلط جگہ آگیا، اگر چہ کسی نے کچھ نہیں کہا مگر حیرت سب کو تھی یہ کسی دوسرے مسلک کی مسجد تھی۔'' وہ لکھتے ہیں جب ایم اے کرکے یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا تو اس دوران اناطولی فرانس کا مشہور ناول پڑھا، اس نے ذہن میں کئی سوالات پید کیے۔ میں نے ایک سوال اپنے استاد سے کیا، اچھے اخلاق کے لیے عباد ت ضروری ہے؟ انھوں نے کہا کہ ایک غیر مذہبی شخص بھی اچھے کردار اور اخلاقیات کا حامل ہوسکتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہر معاشرے میں اس کی اپنی روایات ہوتی ہیں کہ جس کے حصار میں وہ خود کو محفوظ کرلیتا ہے، اگر کوئی ان روایات سے بغاوت کرے تو وہ معاشرے کے حصار سے باہر چلا جاتا ہے اور معاشرہ اسے اجنبی بنا کر بائیکاٹ کردیتا ہے۔ ان حالات میں باغی افراد کے لیے زندگی مشکل ہوجاتی ہے، ان کا کردار لوگوں کی نظروں میں مشکوک ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹر مبارک علی اس کتاب کے باب ''میری دنیا'' میں لکھتے ہیں کہ قدرت کا عجیب و غریب فیصلہ ہے کہ یہ فرد کی قسمت ہے کہ وہ کب پیدا ہوتا ہے، کہا ں پیدا ہوتا ہے اور کس عہد یا زمانہ میں پیدا ہوتا ہے، اگر وہ خوش قسمت ہے تو اس صورت میں وہ کسی ترقی یافتہ خوشحال معاشرے میں پیدا ہوگا، اگر اس کا قسمت نے ساتھ نہ دیا تو وہ ایک پسماندہ معاشرہ میں پیدا ہوکر محرومیوں کا سامنا کرتا ہے۔ اس قسمت کی وجہ سے باصلاحیت افراد پسماندہ معاشرے میں اجنبی بن کر رہ جاتے ہیں، اس کے مقابلے میں کم ذہن کے لوگ ترقی یافتہ معاشرے میں زندگی کا سکون پاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ''میں ایک پسماندہ معاشرے میں ایک متوسط خاندان میں پیدا ہوا جہاں زندگی گزارنے کے لیے محنت و مشقت اور سختیاں تھیں ،کچھ عرصہ اس کو چھوڑ کر میں اپنی دنیا میں واپس آگیا، شاید یہاں میں اپنے لیے کوئی جگہ بناسکوں، افسوس میں اس میں بھی کامیاب نہیں ہوسکا۔'' ڈاکٹر مبارک اپنی کالج کی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے پرنسپل مرزا عابد عباس ایک ایسا واقعہ سناتے تھے کہ تقسیم سے پہلے ان کے کالج کا ایک طالب علم داخلہ کی تاریخ گزرنے کے بعد آیا اور پرنسپل سے درخواست کی کہ اسے گھر سے آنے میں دیر ہوئی ہے، پرنسپل نے کہا کہ تمہاری دیر سے آنے کی وجہ درست ہے مگر چونکہ تاریخ گزر گئی ہے، لہٰذا میں داخلہ نہیں دے سکتا۔ اس کے بعد پرنسپل نے کہا تم ایک سال تو کھو دو گے مگر اس کے بعد زندگی میں کئی سال بچائو گے۔

وہ لکھتے ہیں کہ کالج اور یونیورسٹی میں یونین کے الیکشن طلبا میں جمہوری روایات پیدا کرتے تھے۔ ڈاکٹر مبارک لکھتے ہیں کہ ہم اپنااخبار نکالتے تھے، جس میں امیدواروں کے بارے میں خبریں ہوتی تھی، الیکشن کے بعد یونین کی سرگرمیاں ہوتی تھیں جن میں آل پاکستان مباحثے، مشاعرے، موسیقی کی محفلیں اور تھیٹر کے مقابلے منعقد کرائے جاتے تھے۔ اس وقت سرکاری تعلیمی ادارے کے علاوہ نجی تعلیمی ادارے بھی قائم تھے مگر نجی تعلیمی اداروں کی فیس بہت کم ہوتی تھیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس زمانے میں معاشرے میں استاد کی عزت ضرور تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ اساتذہ پابندی سے کلاس میں آتے تھے مگر ٹیوشن نہیں پڑھاتے تھے، طلبا کو کالج اور یونیورسٹی میں جانے کے بعد پتہ نہیں ہوتا تھا کہ امتحان کے پرچے کس کے پاس ہیں۔ ایم اے کے پرچے سابق مشرقی پاکستان کی یونیورسٹیوں کو بھی جانچ کے لیے بھیجے جاتے تھے۔ میرے استاد ڈاکٹر احمد بشیر کہا کرتے تھے کہ کسی طالب علم کو 60 نمبر دینا ہوتے تھے تو میں پرچہ دوبارہ پڑھتا تھا۔ اس وجہ سے سندھ یونیورسٹی میں فرسٹ ڈویژن میں کوئی مشکل سے پاس ہوتا تھا لیکن اعلیٰ تعلیم کا وہ معیار نہیں تھا جو غیر ملکی یونیورسٹیوں کا تھا غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ تقسیم کے بعد یہاں سے ہندو، سکھ اور اکثر عیسائی پروفیسرچلے گئے تھے۔

ڈاکٹر مبارک نے اپنی کتاب میں تحریر کیا ہے کہ حیدرآباد شہر جہاں میں نے اپنا بچپن اور جوانی گزاری، اب وہ شہر نہیں جو میں نے بچپن میں دیکھا تھا۔ صاف ستھرا خوبصورت باغوں والا شہر، شام کی ٹھنڈی ہوائیں اور سکون و خاموش راتیں۔ جب ہم نے 1952 میں پہلی دفعہ آئے تو دیکھا کہ شہر میں ہر مکان پر ہوا دان بنے ہوئے ہیں مگر اب یہ ہوادان جو کبھی شہر کی شناخت تھے بالکل نظر نہیں آئے۔ ڈاکٹر مبارک نے اپنی ملازمتوں کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ میٹرک کے بعد پرائمری اسکول میں ملازمت کی اور جب پرائمری اسکول میں ہونے والی بدعنوانیوں کی شکایت کی تو میرے لیے اسکول میں جگہ نہ رہی، پھر ہائی اسکول اور کالج میں پڑھایا مگر ہمیشہ ہیڈ ماسٹر اور پرنسپل سے خوف زدہ رہا کہ نہ جانے کب نکال دیں ، ملازمتوں سے نکالے جانے کی صورتحال ہمیشہ رہی۔ ڈاکٹر مبارک نے علمی سفر کے عنوان سے لکھا ہے کہ کولونیل نقطہ نظر کے جواب میں ہندوستانی مورخوںنے قوم پرستی کے نقطہ نظر سے تاریخ لکھی اس کا مرکز الہ آباد یونیورسٹی کا شعبہ تاریخ تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ میرا المیہ ہے کہ میں ہندوستان سے اپنی مرضی سے نہیں آیا اس لیے مولانا آزاد کی بات یاد آتی ہے کہ جب ہندوستان سے لوگ ہجرت کرکے آرہے تھے تو انھوں نے کہا تھا کہ تم اس وقت تو جارہے ہو مگر جب سندھ اور پنجاب میں قوم پرستی کے جذبات ابھریں گے تو اس ملک میں بن بلائے مہمان ہوجائوگے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ اپنی سوچ اور فکر کے باوجود لبرل اور ترقی پسند حلقوں میں اجنبی ہی سمجھتا ہوں اور یہ لوگ میری ذات کو ایک تنگ گلی میں دھکیل کر لبرل شناخت کا یقین کرتے ہیں۔ ڈاکٹر مبارک نے اپنے دنیا سے رخصت سے ہونے والے دوستوں اور موجودہ ساتھیوں کا بھی خوبصورت پیرائے میں ذکر کیا ہے ۔ ڈاکٹر مبارک علی کی یہ کتاب اردو میں ایک خوبصورت سوانح عمری کا اضافہ ہے۔