چین کے جنوبی سمندر میں کشیدگی

چین کی یہ سرگرمیاں اس علاقے میں جاری ہیں جو امریکا کے نزدیک بہت زیادہ تزویراتی اہمیت کے حامل ہے


Editorial September 08, 2016

ISLAMABAD: مشرق بعید کے ممالک کی تنظیم آسیان کی سربراہ کانفرنس کے موقع پر فلپائن کی طرف سے چین پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ جنوبی چین کے سمندر میں واقع متنازعہ جزائر پر غیرقانونی تعمیرات کر رہا ہے جس سے اس علاقے کے ممالک کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ فلپائن کی طرف سے کانفرنس میں تصاویر بھی پیش کی گئیں جن میں چین کی تازہ تعمیراتی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

فلپائن کے الزام میں کہا گیا ہے کہ چین جنوبی سمندر میں مصنوعی جزیروں کی تعمیر بھی کر رہا ہے جس سے جنوبی سمندر پر چین کو مکمل کنٹرول حاصل ہو جائے گا لیکن اس طرح امریکا کے ساتھ چین کے مسلح تصادم کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔ واضح رہے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم میں 10 ممالک شامل ہیں جس کا سربراہ اجلاس کمبوڈیا کے دارالحکومت لاؤس میں گزشتہ روز ختم ہو گیا تاہم فوری طور پر مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا جا سکا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چین اپنے جنوبی سمندر پر اپنی ملکیت کا دعویدار ہے جہاں سے اس کی سالانہ 5 کھرب (ٹریلین) ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔

جنوبی سمندر فلپائن اور دیگر جنوب مشرقی ممالک تک محیط ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکا ہزاروں میل دور سے آ کر فلپائن اور دیگر ممالک میں اپنے اڈے قائم کر چکا ہے مگر چین کو اس کے اپنے جنوبی سمندر میں تعمیراتی سرگرمیوں کی اجازت دینے کے فلپائن یا کسی دوسرے ملک کے ذریعے اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ امریکا کے حاشیہ برداروں کی طرف سے چین پر اعتراضات کی فہرست خاصی طویل ہے جو طویل عرصے سے عائد کیے جا رہے ہیں لیکن چینی سفارتکاری کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ نہایت خاموشی سے سرگرمیاں جاری رکھتا ہے اور خوامخواہ کے تنازعات میں الجھنے سے حتی الوسع گریز کرتا ہے البتہ اسے ویتنام سے دو جزیرے چھیننے کی خاطر دو مرتبہ جنگ کرنا پڑی ہے۔

اب دوبارہ اسی علاقے میں کشیدگی اس بناء پر پیدا ہوئی کیونکہ چین نے سمندر میں مصنوعی جزیروں کی تعمیر کے ساتھ فضائی اڈے قائم کرنا بھی شروع کر دیے ہیں۔ چین کی یہ سرگرمیاں اس علاقے میں جاری ہیں جو امریکا کے نزدیک بہت زیادہ تزویراتی اہمیت کے حامل ہے۔ واضح رہے چین نے شوعل کا کنٹرول 2012ء میں حاصل کیا تھا جس کے دفاع کے لیے فلپائنی فوج بھی تیار کھڑی تھی تاہم وہ چین کی بے پناہ طاقت کے سامنے کوئی پیشرفت نہ کر سکی۔ اس کے بعد سے فلپائن نے وہاں اپنے بحری جہازوں کا بہت بڑا حصار قائم کر دیا ہے جس کی وجہ سے فلپائنی ماہی گیروں کی کشتیاں بھی اس علاقے میں نہیں آ سکتیں۔