کراچی سپر ہائی وے پر خوفناک ٹریفک حادثہ

اداروں اور عوام کو روڈ اینڈ سیفٹی ایکٹ کے حوالے سے مکمل آگاہی اور قانون پر عملدرآمد کا پابند بنانا ازحد ضروری ہے


Editorial September 08, 2016
۔ فوٹو: اے پی پی

کراچی میں بدھ کو سپر ہائی وے پر خوفناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں 3 افراد جھلس کر جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے جب کہ آتشزدگی سے 9 گاڑیاں مکمل اور 18 سے زائد گاڑیاں جزوی طور پر جل کر تباہ ہو گئیں۔ اطلاعات ملی ہیں کہ وقوعہ سپر ہائی وے پر غوثیہ چڑھائی کے جس مقام پر پیش آیا، وہاں روڈ پر انجینئرنگ فالٹ ہے جس کی وجہ سے اکثر حادثات ہوتے رہتے ہیں، اس حوالے سے موٹر وے پولیس نے متعلقہ اداروں کو خط بھی لکھے کہ یہ فالٹ جلد از جلد درست کیا جائے لیکن اپنے فرائض سے غفلت برتنے اور فالٹ دور نہ کیے جانے کے باعث ایک اور حادثہ پیش آ گیا۔

تفصیلات کے مطابق غوثیہ چڑھائی پر آئل ٹینکر ٹائر پھٹنے سے الٹ گیا جس کے باعث عقب سے آنے والا گاڑیوں سے لدا ٹریلر، 2 ٹینکر اور دیگر گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، تقریباً 24 ہزار لیٹر پٹرول سڑک پر پھیلنے اور اس میں لگنے والی آگ خوفناک حادثے میں تبدیل ہو گئی جس نے دیگر گاڑیوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ واقعے کے بعد سپر ہائی وے پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور 9 گھنٹے تک بدترین ٹریفک جام رہا۔ ٹریفک حادثات دنیا بھر میں ہوتے ہیں، ذرا سی غفلت بیش قیمت انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتی ہے، دیکھا یہی گیا ہے کہ اکثر حادثات کے پیچھے ڈرائیور حضرات کی غلطی کارفرما ہوتی ہے لیکن مذکورہ واقعے میں جس طرح اطلاع ملی ہے کہ روڈ کے انجینئرنگ فالٹ کی پہلے بھی نشاندہی کی جا چکی تھی تو یہ حادثہ ادارہ جاتی مجرمانہ غفلت کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔

نیز ڈرائیونگ کے دوران گاڑیوں کے درمیان مناسب فاصلہ اور رفتار کا ہونا بھی ازحد ضروری ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی حالت میں فوری کنٹرول کیا جا سکے۔ یہ امر قابل افسوس ہے کہ پاکستان میں اکثر ادارے اپنی ذمے داریوں سے پہلوتہی اور چشم پوشی برتتے ہیں۔ پاکستان میں نیشنل ہائی ویز سیفٹی آرڈیننس کے نام سے قانون تو موجود ہے لیکن اس پر عمل درآمد شاذ ہی دکھائی دیتا ہے۔ اداروں اور عوام کو روڈ اینڈ سیفٹی ایکٹ کے حوالے سے مکمل آگاہی اور قانون پر عملدرآمد کا پابند بنانا ازحد ضروری ہے تا کہ حادثات کی روک تھام ہو سکے۔ مذکورہ حادثے میں آئل ٹینکر اور لوڈنگ ٹریلرز بھی آپس میں ٹکرائے۔ صائب ہوگا کہ آتشگیر مادہ لے جانے والی گاڑیوں اور بڑے لوڈڈ ٹریلرز کے لیے ایک الگ محفوظ راستہ بنایا جائے تا کہ پبلک و پرائیوٹ ٹرانسپورٹ کو اس طرح کے حادثات سے بچایا جا سکے۔