حیدرآباد میں یونیورسٹی کیلیے جماعت اسلامی کے مظاہرے

حکمران اعلان کے باوجود جامعہ، میڈیکل اورانجینئرنگ کالج کے قیام میں مخلص نہیں


Numainda Express December 08, 2012
حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کے لیے جماعت اسلامی کے کارکن مظاہرہ کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

جماعت اسلامی زون وسطی کے تحت اورنگزیب مسجد گاڑی کھاتہ اور زون لطیف آبادکے تحت اﷲ والی مسجد اور جامع مسجد یونٹ 8 میںاحتجاجی مظاہرے کیے گئے جس میں رہنماؤں سمیت کارکنان شریک تھے جو بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے حیدرآباد میں یونیورسٹیز اور انجینئرنگ و میڈیکل کالج کے قیام کیلیے نعرے لگا رہے تھے۔

ضلعی امیر شیخ شوکت، طاہر مجید راجپوت، مشتاق احمد خان نے کہا کہ حیدرآباد کا شمار ملک کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود یہاں یونیورسٹی اور میڈیکل کالج موجود نہیں، جس کے باعث طالبعلموں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلیے دیگر اضلاع جانا پڑتا ہے اور ان اضلاع کی یونیورسٹیوں میں مخصوص نشستوں کے باعث چند طلبہ کو ہی داخلہ ملتا ہے جب کہ وہ نوجوان جنہیں مخصوص نشستوں کے باعث یونیورسٹیوں میں داخلہ نہیں مل پاتا وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

02

انھوں نے کہا کہ ہم اکیسویں صدی میں داخل ہوگئے ہیں مگر ترقی کے بجائے پیچھے جارہے ہیں، حکومتی ایوانوں میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے خاتمے کی باتیں ہورہی ہیں جبکہ تعلیم کو پرائیویٹائز کرنے کی بھی سازش کی جارہی ہے تاکہ غریبوں کے بچے تعلیم حاصل کرکے ملک وقوم کی تبدیلی کے قابل نہ ہوجائیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے حیدرآباد میں جامعات بنانے کا اعلان تو کیا لیکن اس کی منظوری کیلیے نہ تو سندھ اسمبلی میں بل پیش کیا اور نہ ہی اس کی تعمیر کیلیے بجٹ مختص کیا گیا ہے، جسکے باعث حیدرآباد کے نوجوانوں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کے قیام کیلیے سندھ اسمبلی فوری بل منظورکرے جسکے تحت میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز بھی قائم کیے جائیں۔

مقبول خبریں