سپریم کورٹ سڈل کمیشن تحلیل رپورٹ عام کرنے کا حکم

کیس میں مزید کارروائی کی ضرورت نہیں، یہ دو افراد کا معاملہ ہے، ریاستی فنڈ استعمال نہیں ہوئے


انصاف کی فتح ہوئی، ملک ریاض کے اعتراضات درست تھے، زاہد بخاری، اللہ نے سرخرو کر دیا، والدکی ناراضی دور کر نیکی کوشش کروںگا، ارسلان افتخار۔ فوٹو: فائل

WASHINGTON: سپریم کورٹ نے ارسلان افتخار کیس میں ملک ریاض کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے تحقیقات کرنے والے شعیب سڈل کمیشن کو تحلیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کی تیار کردہ رپورٹ منظر عام پر لائی جائے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیس میں مزید کارروائی آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں، یہ دو افراد کے لین دین کا معاملہ ہے، اس میں ریاستی فنڈ استعمال نہیں ہوئے، ریلیف کیلیے جس فورم پر چاہیں جا سکتے ہیں۔ جمعہ کو جسٹس جواد ایس خوابہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے ملک ریاض اور چیف جسٹس کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان افتخار کے درمیان مبینہ طور پر کروڑوں روپے کے لین دین کے معاملے کی سماعت کی۔

وقائع نگار کے مطابق شعیب سڈل کمیشن نے اپنی عبوری رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی جس پر عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بنچ کا یہ کہنا تھا کہ یہ رپورٹ پبلک پراپرٹی ہے اس لیے اس کو عام کیا جاتا ہے۔ ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری نے موقف اختیار کیا کہ سڈل کمیشن کی کارروائی غیر قانونی ہے، جس طرح ڈاکٹر ارسلان کی تفتیش نیب سے لے کر سڈل کمیشن کو دی گئی وہی صورتحال اب پیدا ہو گئی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا آپ عدالت کو یہ کہنا چاہتے ہیں اس کیس کی نیب کو تحقیقات کرنا چاہی تھی۔ زاہد بخاری نے کہا کہ کمیشن کے بجائے اس کیس کی تفتیش کسی تحقیقاتی ایجنسی کو کرنا چاہیے تھی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا چیئرمین نیب نے خود کہا کہ یہ افراد کا معاملہ ہے نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، چیئرمین نیب نے کہا کہ اس کیس میں قومی خزانے کے خورد برد کا معاملہ نہیں تھا۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ حامد میر کے پروگرام میں بھی چیئرمین نیب نے یہی بات کہی، عدالت نے اس لیے از خود نوٹس لیا تھا کہ یہ تاثر دیا جانے لگا تھا کہ خدانخواستہ انصاف میلا ہو رہا ہے، آپ نجی شخص کے خلاف جس فورم پر چاہے چلے جائیں ہمیں تنگ نہ کریں جس پر زاہد بخاری نے کہا ہم نے عدالت میں کمیشن کو ختم کرنے اور کمیشن کے قیام پر نظر ثانی کی درخواستیں دائر کی ہیں ان درخواستوں کا فیصلہ کیا جائے اور کمیشن کو ختم کیا جائے تاکہ ہم جہاں چاہیں ریلیف کے لیے جا سکیں جس پر عدالت نے قرار دیا کہ کمیشن ختم کر دیا جاتا ہے اور کمیشن کی پیش کردہ رپورٹ پبلک کی جائے۔

عدالت میں ارسلان افتخار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اس معاملے کو کسی حتمی انجام تک پہنچایا جائے۔ ملک ریاض کی جانب سے ان کے خلاف الزامات لگائے گئے ہیں، روز میڈیا میں ایسی ایسی باتیں کی جاتی ہیں جن کی وجہ سے ان کے موکل کی ساکھ خراب ہو رہی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ہم میڈیا کو نہیں روک سکتے۔ سڈل کمیشن کی رپورٹ بند لفافے میں عدالت میں پیش کی گئی اور میڈیا میں اس سے پہلے ہی رپورٹ کے بارے میں ٹُلے لگائے گئے۔

02

عدالت نے شعیب سڈل کمیشن سے متعلق دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے شعیب سڈل کمیشن ختم کرنے کا حکم دے دیا اور فریقین کو ریلیف کے لیے قانون کے تحت مناسب فورم پر رجوع کر نے کی ہدایت کی ہے۔ آئی این پی کے مطابق جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ جس شخص پر الزامات ہیں اگر وہ ثابت ہو گئے تو اسے سزا دی جائے گی بصورت دیگر اسے بری کر دیا جائے گا، کمیشن کی رپورٹ شائد نتیجہ خیز نہ ہو لیکن اس میں جن چیزوں کا تذکرہ کیاگیا ہے اس سے کیس میں آگے مدد ملے گی۔ اس موقع پر ارسلان افتخار کے وکیل سردار اسحاق کاکہنا تھا کہ کمیشن کی جو تحقیقات ہوئی ہے اس کو عوام کے سامنے لایا جانا چاہئے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ پبلک پراپرٹی ہے۔

ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری نے عدالت میں یہ نقطہ اٹھایا کہ سپریم کورٹ میں آنے سے پہلے ہی یہ رپورٹ پبلک ہو چکی ہے اور اس پر تبصرے بھی چھپ چکے ہیں جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ قیاس آرائیوں سے کسی کو نہیں روکا جا سکتا۔ این این آئی کے مطابق فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ کمیشن کو آزادانہ تسلیم نہیں کرتے تھے، سڈل کمیشن آج کے بعد مزید کارروائی نہیں کر سکے گا، سڈل کمیشن کی رپورٹ پر اعتراضات اٹھائے تھے اور عدالت کو بھی آگاہ کر دیا تھا، سڈل کمیشن کی تمام کارروائی غیر قانونی تھی، کمیشن کو اختیار نہیں تھا کہ بحریہ ٹائون کے فنڈز کی تحقیقات کرے، اس سلسلے میں ہم نے نظر ثانی کی ایک درخواست دے رکھی تھی جس کی حتمی سماعت ہوئی ہے۔

زاہد بخاری نے مزید کہا کہ آج انصاف کی فتح ہوئی ہے، ملک ریاض کے اعتراضات درست تھے، عدلیہ کے وقار پر کوئی سوال نہیں آیا، سڈل کمیشن کی رپورٹوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، ان رپورٹوں پر آج بھی اعتراض کیا کہ یہ رپورٹیں غلط ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق معروف کاروباری شخصیت ملک ریاض نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ شعیب سڈل کمیشن کو پہلے ہی دن سے تسلیم نہیں کرتے تھے، اور اب ارسلان افتخار کو شکست ہوئی ہے۔ شعیب سڈل کمیشن نامنظور کر کے پہلی بار سپریم کورٹ نے ریلیف دیا ہے، اب ارسلان افتخار کیخلاف مناسب فورم پر کارروائی کی جائیگی، پاکستان اور لندن میں قانونی کارروائی کے لیے اقدامات کرلیے ہیں۔

ملک ریاض نے کہا کہ شعیب سڈل کمیشن نے میرے فلاحی ادارے بند کرانے کی کوشش کی جہاں روزانہ لاکھوں لوگ مفت کھانا کھاتے ہیں جبکہ لوگوں کو مفت تعلیم اور علاج معالجے کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ دوسری جانب ارسلان افتخار نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کبھی عدالت پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی، ملک ریاض اب کیس سے بھاگ رہے ہیں، قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد ملک ریاض کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کروں گا، سارے اکائونٹس میڈیا کو دکھانے کیلیے تیار ہوں، میرے مخالف 6 ماہ سے بغیر کسی ثبوت کے الزام لگا رہے ہیں، میرے غیر ملکی دوروں کو ملک ریاض نے اسپانسر نہیں کیا، تمام اخراجات خود برداشت کیے، اللہ کا کرم ہے کہ اس نے مجھے سرخرو کیا، اگر میں نے ٹیکس کی چوری کی ہے تو اس پرکارروائی ضرور ہونی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اس رپورٹ کو پڑھنے کے بعد عوام فیصلہ کر سکتے ہیں یہ سب جھوٹ اور ڈرامے بازی تھی، صرف مجھے پھنسانے کیلیے اس طرح کے شرمناک الزام لگائے گئے، میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ملک خلیل کو نہیں جانتا۔ ارسلان افتخار نے کہا کہ مجھے بدنام کرنے کی جو سازش کی گئی اس کے خلاف ہم قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں میری قانونی ٹیم جو بھی ضروری سمجھے گی وہ کرے گی، میں نے تمام الزامات کا تحریری جواب جمع کرا دیا جو کہ 200 صفحات پر مشتمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوشش کروں گا کہ اپنے والد چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی ناراضی کو دور کر سکوں۔