ججز تقرر پر صدارتی ریفرنس دائر سپریم کورٹ پیر کو سماعت کریگی

چیف جسٹس سمیت جوڈیشل کمیشن میں شامل جج بینچ کاحصہ نہیں، بینچ جسٹس خلجی عارف کی سربراہی میں تشکیل دیاگیاہے


Numainda Express December 08, 2012
صدرنے آئین کے تحفظ کاحلف اٹھایا،آئینی عہدوں پرآئین کے منافی تقرریوں کی کس طرح منظوری دے سکتے ہیں؟ریفرنس میں سوال۔ فوٹو: فائل

KARACHI: اسلام آباد ہائیکورٹ ججزکی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے کے قانونی تنازع پر سپریم کورٹ سے آئین کے آرٹیکل 186کے تحت رائے طلب کرنے کیلیے صدر مملکت کی جانب سے ریفرنس دائرکر دیا گیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری کے دستخط سے ریفرنس سینئر قانون دان وسیم سجاد نے ایڈووکیٹ آن ریکارڈکے ذریعے دائرکیا۔ 13صفحات پر مشتمل ریفرنس میں ججزتقرری سے متعلق 13نکات پر رائے طلب کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے5رکنی لارجربینچ تشکیل دیدیاہے۔جسٹس خلجی عارف حسین کی سربراہی میں جسٹس طارق پرویز،جسٹس اعجاز افضل خان ،جسٹس گلزار احمد اور جسٹس شیخ عظمت سعید پرمشتمل 5رکنی لارجر بینچ پیرکوسماعت کرے گے ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججزکی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کیخلاف ندیم احمد ایڈووکیٹ کی فوری سماعت کی درخواست بھی صدارتی ریفرنس کے ساتھ سنی جائے گی۔صدارتی ریفرنس میں جوڈیشل کمیشن میں شامل ججزکو بینچ میں شامل نہ کرنے کی استدعا کی گئی تھی جسے منظورکر لیا گیا۔ چیف جسٹس سمیت جوڈیشل کمیشن میں شامل5ججز میں سے کسی کو بینچ میں شامل نہیں کیا گیا ۔

صدارتی ریفرنس میں عدالت سے پوچھاگیا ہے کہ اگر ججز تقرری میںآئین کے برعکس کوئی عمل ہوا ہو تو ایسی صورت میں صدرکا کردارکیاہوگا، کیا صدر دوبارہ مشاورت کیلیے یہ معاملہ جوڈیشل کمیشن یا پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا سکتے ہیں،کیا ججز تقرری کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کاکوئی بھی رکن نام تجویزکر سکتا ہے یا اس پر آئینی پابندی ہے،کسی جج کی سنیارٹی طے ہو جائے توکیا جوڈیشل کمیشن اسے تبدیل کرنے کا اختیار ہے؟کیا ججز تقرری میں سنیارٹی کا اصول مد نظر رکھا گیا ؟صدر ججزتقرر سے متعلق کیا اختیارات رکھتے ہیں؟جوڈیشل کمیشن اورپارلیمانی کمیٹی کے کیا اختیارات ہیں؟جج بنانے کا معیارکیا ہے ؟

کیا تقرری میں سنیارٹی کا طے شدہ اصول نظر اندازکیاجاسکتاہے، کیاسینئرکے بجائے جونیئر جج جوڈیشل کمیشن میں بیٹھ سکتا ہے ؟ کیا جونیئر جج کو بٹھانا غیر آئینی نہیں ؟ کیا صدرکسی غیر آئینی اقدام کا جائزہ لینے کیلیے ججز تقرری کی سمری واپس نہیں بھیج سکتے؟ ایسا کمیشن جس کی تشکیل غلط ہواسکے فیصلوںکی حیثیت کیاہوگی؟ کیاجب دو جج ایک ہی دن مقرر ہوں تو عمر میں زائد جج کو سینئر مانا جاتاہے؟ کیا سینئرجج ریاض احمدکی جگہ جسٹس انورکاسی کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ مقررکرناجائز تھا ؟کیا صدر اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے مطابق جسٹس ریاض سینئرترین جج نہیں تھے؟

03

کیا جسٹس ریاض چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ کے عہدے کے جائزامیدوار نہیں ہیں۔جوڈیشل کمیشن میں نامزدگی کیلیے ججوںکا معیارکیا ہونا چاہیے؟جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کی توثیق کیلیے پارلیمانی کمیٹی کا کیا دائرہ کار ہے اور سفارشات کی توثیق سے کیا مراد ہے،ججزتقرری میں جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کاحقیقی رول کیا ہے ، جوڈیشل کمیشن کے نامزد کردہ ججزکے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے پاس ان ناموںکوجانچنے کا کیا پیمانہ مقررکیاگیاہے۔

آئین کے آرٹیکل 175A کے تحت پارلیمانی کمیٹی جوڈیشل کمیشن کے ججزکو نامزدکر سکتی ہے اور مستردکرسکتی ہے، آئین میں لفظ کنفرم سے لیامرادہے ۔ریفرنس میں سوال اٹھایاگیاہے اٹارنی جنرل نے 22اکتوبرکوجوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں کمیشن کی تشکیل پراعتراضات اٹھائے،اس اجلاس میں اٹارنی جنرل اعتراضات ریکارڈ پر لائے تھے۔ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمیشن کی سفارشات واپس کرکے صدرنے اپنے حلف سے وفاداری کی ہے تاہم کمیشن کے جج ارکان کے مسلسل متفقہ فیصلے قابل فکر ہیں اس پرصدرکو تشویش ہے۔واپس کی گئی سمری پر صدر نے تحریرکیا کہ جسٹس انورکاسی عدالتی کمیشن کے اجلاس میں اجنبی تھے،عدالتی کمیشن کی ترکیب غیر آئینی ہونے کی وجہ سے اسکی سفارشات قابل عمل نہیں۔

ریفرنس میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل عرفان قادر اور جوڈیشل کمیشن کے رکن خالد رانجھا نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے نام پر جسٹس انورکاسی کے نام سے اختلاف کیا لیکن سات دوکی اکثریت سے منظورکر لیا گیا جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے گزشتہ برس فروری میںنوٹیفکیشن نمبر 2892 میں جسٹس ریاض احمدکو جسٹس کاسی سے سینئر قرار دیا تھاجس پر جسٹس کاسی نے وزارت قانون و انصاف میں جائزہ لینے کا لیٹر لکھا،دونوں ججزکے درمیان سنیارٹی کا معاملہ بھی صدر مملکت نے حل کیا،ریفرنس میں پوچھا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے مطابق جسٹس ریاض خان سینئر ترین جج ہیں پھر جسٹس کاسی کو سینئر ترین جج قرار دیتے ہوئے ہائیکورٹ کاچیف جسٹس مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا کیا آئینی طریقہ کار ہوگا ۔

سپریم کورٹ کے الجہادٹرسٹ کیس کے فیصلہ کی روشنی میں بھی جسٹس ریاض خان سینئر ترین جج ہونے کے ناطے چیف جسٹس مقرر ہونے کے اہل ہیں ۔صدر ملکت جو آئین کے تحفظ اور آئین کے دفاع کا حلف اٹھائے ہوئے ہیں آئین کے منافی آئینی عہدوںکی تقرریوںکی کس طرح منظوری دے سکتے ہیں۔ خبرایجنسیوں کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے بعد وفاق کے وکیل وسیم سجادنے سپریم کورٹ کے باہرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریفرنس دائر کرنے کی بڑی اہمیت ہے اور اس میں آئینی و قانونی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے،انھوں نے بتایاکہ 19صفحات پر مشتمل دستاویزات ریفرنس کیساتھ جمع کرائی گئی ہیں،صدر نے رائے مانگی ہے ٹکرائوکی بات نہیںکی صدر رائے مانگ سکتے ہیں۔